Loading
سر کی جلد میں خارش بظاہر معمولی مسئلہ لگتی ہے، لیکن مسلسل خارش بالوں اور اسکیلپ کی مجموعی صحت کو متاثر کرسکتی ہے۔ خواتین سمیت بہت سے افراد اس سے نجات کے لیے مختلف مصنوعات استعمال کرتے ہیں، تاہم خارش کی اصل وجہ جاننا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
اس مسئلے کی ایک عام وجہ خشک اسکیلپ ہوسکتی ہے۔ جسم میں پانی کی کمی، سرد موسم یا ضرورت سے زیادہ شیمپو کرنے سے سر کی جلد کے قدرتی تیل کم ہوسکتے ہیں، جس کے نتیجے میں خشکی اور خارش پیدا ہونے لگتی ہے۔
خشکی بھی سر میں خارش کی اہم وجوہات میں شامل ہے۔ بعض صورتوں میں ایک خمیر نما پھپھوندی اسکیلپ پر زیادہ بڑھ جاتی ہے اور جلن و خارش کا باعث بن سکتی ہے۔ اسی طرح بعض فنگل انفیکشنز بھی خارش پیدا کرسکتے ہیں اور مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی صورت میں مسئلہ بڑھ سکتا ہے۔
ذہنی دباؤ اور اضطراب بھی اسکیلپ کی کیفیت پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ چونکہ جسم اور ذہن ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے مسلسل تناؤ بعض افراد میں جلد کے مسائل کو بڑھا سکتا ہے۔ ایسی صورت میں صرف خارش پر توجہ دینے کے بجائے ذہنی دباؤ کو کم کرنے کی کوشش بھی ضروری ہے۔
خارش کی شدت کم کرنے کے لیے بعض گھریلو چیزیں استعمال کی جاتی ہیں۔ ناریل کا تیل اسکیلپ کو نمی فراہم کرنے اور خشکی کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے، جبکہ اس میں موجود بعض اینٹی فنگل اور اینٹی بیکٹیریل خصوصیات کے باعث اسے اسکیلپ کی دیکھ بھال میں استعمال کیا جاتا ہے۔
ٹی ٹری آئل بھی اپنی اینٹی فنگل خصوصیات کے باعث خشکی اور خارش کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، لیکن اسے براہ راست سر کی جلد پر لگانے سے جلن ہوسکتی ہے۔ اسے کسی مناسب کیریئر آئل میں کم مقدار میں ملا کر استعمال کرنا نسبتاً بہتر طریقہ ہے۔
ایلوویرا اپنی ٹھنڈک اور سوزش کم کرنے والی خصوصیات کے باعث جلن زدہ اسکیلپ کو سکون پہنچانے میں مددگار ہوسکتا ہے۔ اسی طرح سیب کا سرکہ بھی بعض لوگ اسکیلپ کے پی ایچ توازن اور خارش کے لیے استعمال کرتے ہیں، جبکہ اس کی اینٹی بیکٹیریل خصوصیات بھی بیان کی جاتی ہیں۔
دہی میں موجود پروبائیوٹکس جسم کے مائیکرو بایوم کے توازن کے لیے مفید سمجھے جاتے ہیں اور اسی وجہ سے اسے بھی اسکیلپ کی صحت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
اگر خارش مسلسل برقرار رہے، شدید ہو، زخم بننے لگیں یا بال تیزی سے جھڑنے لگیں تو صرف گھریلو ٹوٹکوں پر انحصار کرنے کے بجائے ماہرِ جلد سے رجوع کرنا زیادہ مناسب ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل