Loading
کراچی میں اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں کا سلسلہ جاری ہے، رواں سال کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران شہریوں سے لوٹ مار اور گاڑیوں و موٹرسائیکلوں کی چوری سمیت 43 ہزار 800 سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
سٹیزن پولیس لائژن کمیٹی (سی پی ایل سی) نے ستمبر کے دوران کراچی میں ہونے والی اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں کے تازہ اعدادوشمار مرتب کرلیے ہیں، جن کے مطابق گزشتہ ماہ شہر بھر میں مجموعی طور پر 4 ہزار 724 وارداتیں رپورٹ ہوئیں۔
سی پی ایل سی کے اعدادوشمار کے مطابق ستمبر کے دوران مسلح ملزمان نے شہریوں سے ایک ہزار 803 موبائل فونز چھین لیے، جبکہ اسلحے کے زور پر 430 موٹرسائیکلیں اور 20 گاڑیاں بھی چھینی گئیں۔
اسی طرح گزشتہ ماہ کراچی کے مختلف علاقوں سے شہریوں کی 2 ہزار 374 موٹرسائیکلیں اور 97 گاڑیاں چوری ہونے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔
سی پی ایل سی کی جانب سے رواں سال جنوری سے ستمبر تک اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں کے ماہانہ اعدادوشمار بھی سامنے آگئے ہیں، جن سے شہر میں مختلف مہینوں کے دوران رپورٹ ہونے والے جرائم کی تعداد واضح ہوتی ہے۔
اعدادوشمار کے مطابق رواں سال جنوری میں اسٹریٹ کرائم کی 5 ہزار 106 وارداتیں رپورٹ ہوئیں، جبکہ فروری میں یہ تعداد 4 ہزار 580 رہی۔ مارچ کے دوران کراچی میں اسٹریٹ کرائم کے 4 ہزار 889 واقعات سامنے آئے، جبکہ اپریل میں شہریوں سے لوٹ مار اور دیگر متعلقہ جرائم کی 4 ہزار 949 وارداتیں ریکارڈ کی گئیں۔
اسی طرح مئی میں اسٹریٹ کرائم کے 4 ہزار 671 واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ جون کے دوران شہر میں 4 ہزار 591 وارداتیں ریکارڈ کی گئیں۔ سی پی ایل سی کے مطابق جولائی میں اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں کی تعداد 5 ہزار 108 تک پہنچ گئی، جبکہ اگست میں مزید اضافہ سامنے آیا اور مجموعی طور پر 5 ہزار 204 وارداتیں رپورٹ ہوئیں۔
ستمبر میں اسٹریٹ کرائم کی 4 ہزار 724 وارداتیں رپورٹ ہوئیں، جو اگست کے مقابلے میں 480 کم ہیں۔ تاہم رواں سال کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران رپورٹ ہونے والی وارداتوں کی مجموعی تعداد 43 ہزار 822 بنتی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل