Thursday, October 08, 2026
 

ایران کا جوہری پروگرام مزید آگے بڑھ گیا، زراعت اور طب میں بھی نئی کامیابیوں کا دعویٰ

 



تہران: ایران کی جوہری توانائی تنظیم کے سربراہ محمد اسلامی نے دعویٰ کیا ہے کہ پابندیوں، دھمکیوں اور حملوں کے باوجود ملک کی جوہری صنعت نے مختلف شعبوں میں پیش رفت جاری رکھی ہے۔ ایرانی جوہری توانائی تنظیم کے سربراہ نے ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دباؤ کے باوجود ادارے نے صحت، زراعت اور ریڈیوفارماسیوٹیکلز سمیت مختلف شعبوں میں اپنی سرگرمیاں آگے بڑھائی ہیں۔ محمد اسلامی نے ایران پر جوہری ہتھیار تیار کرنے کی خواہش کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے خلاف عائد کیے جانے والے الزامات اور دعوے درست نہیں۔ ان کے بقول ان حالات کے باوجود ایرانی ماہرین نے اپنی ذمہ داریاں انجام دیں اور جدید سائنسی شعبوں میں ملک کی پیش رفت برقرار رکھی۔ ایران طویل عرصے سے مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کے پاس موجود اور افزودہ کیا جانے والا یورینیم پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ تہران کے مطابق جوہری ٹیکنالوجی کا استعمال بجلی کی پیداوار، طبی علاج اور سائنسی تحقیق سمیت شہری شعبوں میں کیا جا رہا ہے۔ اسلامی نے جوہری ٹیکنالوجی کے زرعی استعمال کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ایران نے زرعی اور غذائی مصنوعات میں تابکاری ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے بڑے پیمانے پر کام کیا ہے۔ ان کے مطابق ایسے بیج اور زرعی مصنوعات جنہیں پلازما یا تابکاری کے عمل سے گزارا گیا، ان کی پیداوار میں کم از کم 30 فیصد اور بعض صورتوں میں 100 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ محمد اسلامی نے یہ بیان ایران میں بچوں کے کینسر کی تشخیص اور علاج کے لیے قائم کیے گئے ملک کے پہلے تعلیمی مرکز کے افتتاح کے موقع پر دیا۔ ایران کا جوہری پروگرام طویل عرصے سے عالمی سطح پر تنازع کا مرکز ہے۔ مغربی ممالک تہران کی جوہری سرگرمیوں پر خدشات کا اظہار کرتے رہے ہیں، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن اور شہری مقاصد کے لیے ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل