Saturday, October 10, 2026
 

خامنہ ای کو قتل کرنا سنگین غلطی تھی، اسرائیلی اپوزیشن رہنما

 



اسرائیل کی اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس پارٹی کے سربراہ اور سابق ڈپٹی چیف آف اسٹاف یائر گولان نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کرنا اسرائیل کی سنگین اسٹریٹیجک غلطی تھی۔ گولان نے ایک انٹرویو میں کہا کہ خامنہ ای کو ہٹانے سے اسرائیل کے اسٹریٹیجک مفادات کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا بلکہ اس کے برعکس ایران میں زیادہ سخت گیر اور پرتشدد عناصر مضبوط ہوئے۔ ان کے مطابق ایک طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والے عمر رسیدہ رہنما کی موجودگی بعض اوقات مخالف ملک کے لیے بھی فائدہ مند ہو سکتی ہے۔ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ کے ایسے اہداف مقرر کیے گئے جو حقیقت پسندانہ نہیں تھے۔ ان کے بقول ایران کی حکومت گرانے کا مقصد حاصل نہیں ہوسکا اور اس کے نتیجے میں اسرائیل کی مجموعی اسٹریٹیجک پوزیشن پہلے سے زیادہ خراب ہوگئی۔  گولان کا کہنا تھا کہ خامنہ ای کے قتل کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو قیادت ملنے سے ایران میں مزید سخت گیر حلقوں کا اثر بڑھا، جسے وہ اسرائیل کے مفادات کے خلاف سمجھتے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل