Loading
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیے جانے کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کے حوالے گرفتاری کی خبروں پر وضاحت سامنے آ گئی۔
صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت پاکستان تحریک انصاف کے 8 اہم رہنما پولیس کی حفاظتی تحویل میں ہیں۔
پولیس حکام نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ زیرِ تحویل رہنماؤں میں صوبائی اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی اور پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر بھی شامل ہیں۔
سینئر پولیس افسر کے مطابق صوبے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں اہم سیاسی رہنماؤں کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا ہے، تاہم دیگر 5 رہنماؤں کے نام نہیں بتائے گئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے گزشتہ روز واضح بتایا تھا کہ سہیل آفریدی کو گرفتار نہیں کیا گیا بلکہ وہ حفاظتی تحویل میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کی حیثیت معطل ہو چکی ہے اور صوبے کے انتظامی امور چلانے کے لیے نیا انتظامی بندوبست کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ صدر مملکت آصف علی زرداری نے وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد گزشتہ روز آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کی منظوری دی تھی۔
اس اقدام کے بعد پی ٹی آئی نے اسے سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا، جبکہ وفاقی حکومت نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو فیصلے کی وجہ بتایا ہے۔ اس سلسلے میں گورنر راج کی معاونت کے لیے فوج کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل