Tuesday, October 13, 2026
 

ترک صدر کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی سخت مذمت، مکہ دفاعی معاہدہ پارلیمان میں پیش کرنے کا اعلان

 



ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے ریاض پر حوثیوں کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ دفاعی تعاون کو مؤثر اور مستقل ادارہ جاتی نظام میں ڈھالنے پر کام جاری ہے، جبکہ معاہدے کی داخلی منظوری کے لیے اسے آئندہ دنوں میں ترک پارلیمان میں پیش کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ ترک کابینہ کے اجلاس کے بعد خطاب کرتے ہوئے صدر اردوان نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں لبنان سے یمن اور ایران تک کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ ان کے مطابق علاقائی تنازعات کو مزید پھیلانے کے بجائے مذاکرات، مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ خطے کے ممالک کو امن و استحکام کے لیے مشترکہ ذمہ داری ادا کرنا ہوگی اور ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ تقسیم اور انتشار کو ہوا دینے کی کوششیں پورے خطے کے لیے نقصان دہ ہیں۔ ریاض پر حملے کی مذمت، سعودی عرب سے اظہارِ یکجہتی صدر اردوان نے 10 اکتوبر کو ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حوثیوں کے حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق، انہوں نے اس حملے میں 12 افراد کی ہلاکت اور 309 کے زخمی ہونے کا ذکر کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لیے دعائے مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ ترک صدر نے کہا کہ ترکیہ ایسے حملوں کے خلاف سعودی عرب اور اس کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا دفاعی تعاون صدر اردوان کے مطابق، 7 اگست کو طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت تینوں ممالک کے دفاعی تعاون کو منظم اور پائیدار ادارہ جاتی ڈھانچہ دینے کے لیے کام جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس تعاون کا مقصد اجتماعی دفاع اور علاقائی اشتراک کو فروغ دینا ہے۔ ان کے مطابق، معاہدے کے تحت سرگرمیاں ترکیہ کے قومی قوانین اور قانونی ضوابط کے مطابق انجام دی جائیں گی۔ اردوان نے کہا کہ معاہدے کی داخلی منظوری کے مراحل مکمل کرنے کے لیے اسے جلد ترک پارلیمان میں پیش کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ ترک صدر نے واضح کیا کہ ترکیہ علاقائی مسائل کو نسلی یا فرقہ وارانہ بنیادوں پر نہیں دیکھتا بلکہ پورے خطے میں امن، استحکام اور باہمی تعاون کو ترجیح دیتا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل