Tuesday, October 13, 2026
 

ٹرمپ کی ناقد مسلمان رکنِ کانگریس الہان عمر کے گھر پر امریکی تحقیقاتی ادارے کا چھاپہ

 



امریکی تحقیقاتی ادارے ہوم لینڈ سکیورٹی انویسٹی گیشنز کے اہلکاروں نے ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی مسلمان رکنِ کانگریس الہان عمر کے گھر کی تلاشی لی ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی امیگریشن سے متعلق دستاویزات میں مبینہ دھوکا دہی کے معاملے کی فوجداری تحقیقات کے سلسلے میں کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق اہلکاروں نے پیر کی صبح واشنگٹن ڈی سی کے نواحی علاقے میں واقع الہان عمر کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا۔ زیرِ تفتیش دستاویزات وہ ہیں جنہیں مبینہ طور پر الہان عمر کے والد نے اس وقت مکمل کیا تھا جب وہ کم عمر تھیں۔ ان کے والد اب وفات پا چکے ہیں۔ امریکی محکمہ انصاف کے ایک ترجمان نے فاکس نیوز کو بتایا کہ وفاقی اہلکاروں نے محکمہ انصاف سے حاصل کردہ اور عدالت کی جانب سے منظور شدہ سرچ وارنٹ کے تحت گھر کی تلاشی لی۔ ترجمان کے مطابق یہ کارروائی جاری تحقیقات کا حصہ ہے۔ تاحال دستیاب رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ تلاشی کے دوران کوئی شواہد یا دستاویزات برآمد ہوئیں یا نہیں۔ یہ بھی واضح رہے کہ تفتیش یا چھاپے کی کارروائی بذاتِ خود کسی جرم کے ثابت ہونے کا ثبوت نہیں ہے۔ الہان عمر صومالی نژاد امریکی سیاست دان ہیں اور ریاست منی سوٹا کی نمائندگی کرتے ہوئے امریکی ایوانِ نمائندگان کی رکن منتخب ہوئیں۔ وہ 2018 میں کانگریس کے لیے منتخب ہونے والی پہلی دو مسلمان خواتین میں شامل تھیں۔ الہان عمر انسانی حقوق، نسلی امتیاز اور اسلاموفوبیا کے معاملات پر آواز اٹھاتی رہی ہیں۔ وہ غزہ اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے حوالے سے بھی اپنے مؤقف کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ماضی میں الہان عمر اور صومالی نژاد امریکی برادری کے بارے میں سخت بیانات دے چکے ہیں۔ تاہم، دستیاب رپورٹ میں ان سیاسی اختلافات اور گھر کی تلاشی کے درمیان کسی براہِ راست تعلق کا ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل