Loading
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کو پائیدار اور مسابقتی معیشت بنانے کے لیے غربت کے خاتمے، انسانی وسائل کی ترقی اور سماجی اشاریوں میں بہتری کو قومی ترجیحات میں سرفہرست رکھنا ہوگا، ترقی کے ثمرات ملک کے ہر شہری اور ہر علاقے تک پہنچانا اور معاشی مواقع کی منصفانہ فراہمی یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
جامع معاشی ترقی، معاشی خودمختاری اور غربت سے خوشحالی کی جانب سفر کے موضوع پر منعقدہ کانفرنس میں وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی نمائندگی کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ غربت محض آمدنی کی کمی نہیں بلکہ تعلیم، صحت، غذائیت اور باعزت روزگار تک محدود رسائی کا نام بھی ہے۔
پاکستان میں غربت کی شرح میں اضافے اور کمزور سماجی اشاریوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کی پائیدار ترقی کے لیے ان بنیادی مسائل کا مؤثر حل ناگزیر ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان میں تقریباً ڈھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں، جبکہ بچوں میں نشوونما کی کمی کی شرح تقریباً 40 فیصد ہے۔ تعلیم، صحت اور غذائیت کے شعبوں میں بہتری کے بغیر پاکستان عالمی معیشت میں مؤثر مقابلہ نہیں کر سکتا۔
انہوں نے ابتدائی بچپن کی نشوونما، معیاری تعلیم اور انسانی وسائل میں سرمایہ کاری کو مستقبل کی معاشی ترقی کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیا۔وفاقی وزیر نے کہاکہ حکومت کی توجہ صرف غربت کی شرح کا جائزہ لینے تک محدود نہیں بلکہ لوگوں کو غربت سے نکال کر خود کفالت کی منزل تک پہنچانا ہمارا اصل ہدف ہے اور ہم اس مقصد کے حصول کے لیے اپنی کوششوں کو مزید مؤثر اور تیز بنانے کے ساتھ ساتھ تمام متعلقہ فریقوں کو بھی متحرک کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ غربت کے پائیدار خاتمے کے لیے مستحق خاندانوں کو صرف مالی امداد یا پیداواری اثاثے فراہم کرنا کافی نہیں، بلکہ انہیں ہنر، کاروباری سرمایہ، منڈیوں تک رسائی اور قابلِ اعتماد ذرائع معاش بھی فراہم کرنا ہوں گے۔
انہوں نے خواتین کی معاشی خودمختاری، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع اور جامعات کے ذریعے مقامی آبادیوں کی ترقی پر بھی زور دیا۔احسن اقبال نے کہا کہ حکومت غربت کے خاتمے کے اقدامات کو شواہد، قابلِ پیمائش نتائج اور مؤثر نگرانی سے منسلک کرنا چاہتی ہے تاکہ مستحکم آمدنی، بچت، غذائیت اور بہتر معیارِ زندگی کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے خوشحال اضلاع کو پسماندہ علاقوں کی ترقی میں شراکت دار بنانے کے لیے خود کفالت سے خود انحصاری تک فروغ دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے 20 غریب ترین اضلاع میں سے 11 بلوچستان میں واقع ہیں۔ ترقی کے ثمرات ہر علاقے تک پہنچانے اور علاقائی عدم مساوات کم کرنے کے لیے وسائل اور صلاحیتوں کو مشترکہ طور پر بروئے کار لانا ہوگا۔
وفاقی وزیر نے کانفرنس کے شرکا پر زور دیا کہ وہ غربت میں پائیدار کمی، مؤثر ترقیاتی اقدامات کی توسیع اور مستحق خاندانوں کے حالاتِ زندگی میں حقیقی بہتری کے لیے قابلِ عمل سفارشات اور جامع لائحۂ عمل پیش کریں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل