Loading
خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے پاک فوج اور ضلعی پولیس کے ہمراہ بنوں میں خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کارروائی کی، جس میں دو دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔
سی ٹی ڈی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق مصدقہ اطلاعات تھیں کہ ضلع بنوں میں تھانہ بنوں کینٹ کی حدود میں واقع علاقے کرم گڑھی ممند خیل میں دہشت گرد کسی بڑی کارروائی کی غرض سے موجود ہیں، اطلاع کو مصدقہ جانتے ہوئے سی ٹی ڈی بنوں، ڈسٹرکٹ پولیس اور پاک فوج کے جوان جدید اسلحے سے لیس ہو کر دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے مذکورہ مقام کی جانب روانہ ہوئے۔
بیان میں کہا گیا کہ جوانوں کے موقع پر پہنچتے ہی دہشت گردوں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی، جس پر جوانوں نے اپنے دفاع اور دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے جوابی کارروائی کی اور فائرنگ کا تبادلہ کافی دیر تک جاری رہا۔
مزید بتایا گیا کہ فائرنگ رکنے کے بعد سرچ آپریشن کے دوران دو دہشت گرد ہلاک پائے گئے، جن میں سے ایک کی شناخت اتحاد المجاہدین پاکستان (آئی ایم پی) کے لوکل کمانڈر محب خان عرف ثمین شیر عبداللہ سکنہ گریڑہ امام شاہ ضلع بنوں کے نام سے ہوئی، جو اتحاد المجاہدین پاکستان کے کمانڈر زر گل عرف انکل کا بھتیجا تھا اور اس کے خلاف سی ٹی ڈی بنوں میں 22 مقدمات درج تھے۔
سی ٹی ڈی نے بتایا کہ محب خان عرف ثمین ضلع بنوں میں ٹارگٹ کلنگ، پولیس اور سیکیورٹی فورسز پر دھماکا خیز حملوں، اغوا، املاک کو نقصان پہنچانے اور مختلف مقامات پر غیر قانونی ناکہ بندیاں کرنے سمیت متعدد دہشت گردی سے متعلق جرائم میں ملوث تھا۔
بیان میں کہا گیا کہ کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والے دوسرے دہشت گرد کی شناخت کا عمل جاری ہے۔
انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید اور ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی خیبر پختونخوا نے آپریشن میں حصہ لینے والے جوانوں کی بہادری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا اور واضح کیا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری رہیں گے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل