Thursday, October 15, 2026
 

کراچی: مکان سے کینیڈا پلٹ میاں بیوی کی تشدد زدہ لاشیں ملنے کا مقدمہ درج

 



نارتھ کراچی میں مکان سے میاں بیوی کی تشدد زدہ لاشیں ملنے کے واقعے کا مقدمہ سر سید تھانے میں درج کر لیا گیا۔ مقدمہ مقتول محمد یامین کے بھائی کی مدعیت میں قتل کی دفعہ کے تحت درج کیا گیا، مقتولین 3 بچوں کے والدین تھے۔ بدھ کو نارتھ کراچی سیکٹرالیون سی ون کے مکان سے میاں بیوی کی تشدد زدہ لاشیں ملنے کے واقعے کا مقدمہ تھانہ سر سید میں درج کیا گیا، مقدمہ مقتول محمد یامین کے بھائی محمد انورکی مدعیت میں قتل کی دفعہ کے تحت درج کیا گیا۔ مدعی مقدمہ کے مطابق میرا بھائی یامین اور بھابھی نفیس اختر حال ہی میں کینیڈا سے واپس آئے تھے، بھائی کے مکان میں اس سے قبل میری بہن پروین اپنی فیملی کے ہمراہ رہائش پذیر تھی۔ بھائی یامین نے کینیڈا سے آکر بہن سے مکان خالی کروالیا تھا، یامین مکان میں مختلف مزدوروں سے مرمت کا کام کرا رہا تھا، بدھ کی صبح بھابھی کے بھائی رضوان کا فون میرے پاس آیا، رضوان نے کہا کہ میں یامین کے گھر کے باہر ہوں لیکن کوئی دروازہ نہیں کھول رہا،میں دوپہر 3 بجے بھائی کے گھر گیا اور دروازہ بجایا،دروازہ نہ کھلنے پر واپس اپنے کام پر چلا گیا۔ بھابھی کے بھائی کا پھر فون آیا اس نے بتایا کہ وہ مسلسل یامین کو کال کررہا ہے لیکن فون ریسیو نہیں ہورہا، میں شام کو ڈپلیکیٹ چابی لے کر بھائی کے گھر گیا، دروازہ کھول کر گھر میں داخل ہوا توٹی وی لاؤنچ کے فرش پر بھائی، بھابھی کی خون میں لت پت لاشیں پڑی تھیں گھر سے باہر نکل کر مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی لاشوں کو عباسی شہید ہسپتال منتقل کیا گیا۔ میرا دعویٰ ہے کہ بھائی، بھابھی کو نامعلوم ملزم یا ملزمان نے نامعلوم وجوہات کی بنا پر قتل کیا، ادھر میاں بیوی کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل کرلیا گیا ہے۔ پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید کے مطابق میاں بیوی کے سروں پر متعددسخت اور بھاری چیز کے وار سے چوٹیں پائی گئی ہے میاں بیوی کو نشہ آور اشیا یا زیر خوارنی کے امکانات کی جانچ کے لیے نمونے اکٹھے کیے گئے۔ پولیس ذرائع کے مطابق اب تک گھر پرکام کرنے والے مزدوروں کے بارے میں بھی کوئی معلومات نہ مل سکیں ہیں، جائے وقوعہ کے اطراف میں کام کی تلاش میں بیٹھنے والے مزدوروں سے بھی پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ ابتدائی طور پر واقعہ میں گھر کے اندر ڈکیتی کے کوئی شوائد نہیں ملے، پولیس واقعے کی مزید تفتیش کر رہی ہے۔ ادھرمقتول محمد یامین کے بھائی محمد انور نے ایکسپریس کو بتایا کہ ان کے بھائی اور بھابھی عمر کے اس حصے میں پہنچ گئی تھی کہ وہ سردی برداشت نہیں کر سکتے تھے اور بھائی بھابھی بلڈ پریشر اور شوگر کے مریض بھی تھے اورکینیڈا میں سرد موسم شروع ہونے والا تھا کہ اس لیے ان کے بھائی اور بھابھی کراچی آئے تھے اوراپنے گھرمیں تزئین وآرائش کا کام کروا رہے تھے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ ان کے بھائی بھابی کے تین بچے ہیں جن میں 2 بیٹے اورایک بیٹی شامل ہیں، بھیتجے جمعے کے روز کینیڈا سے کراچی پہنچ رہے ہیں جس کے بعد ہی بھائی بھابھی کی نماز جنازہ اور تدفین کی جائے گی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل