Thursday, October 15, 2026
 

ٹرمپ کی نئی ترجمان کے وکیل کی تعلیمی اسناد اور قابلیت پر سوالات اُٹھ گئے

 



امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی ترجمان کیٹی زکریا کی قانونی اسناد پر سوالات اٹھنے کے بعد وائٹ ہاؤس نے ان کا دفاع کیا ہے جبکہ کیلیفورنیا کی ایک نگران تنظیم نے ان کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے زکریا کی تقرری کا اعلان کرتے ہوئے انہیں وکیل قرار دیا تھا جبکہ زکریا بھی خود کو وکیل کہتی رہی ہیں۔ تاہم ایک صحافی نے ان سے پوچھا کہ انھوں نے امریکا کی کس ریاست میں وکالت کا لازمی امتحان پاس کیا تھا جس پر نئی ترجمان نے جواب دیا کہ ’’چین‘‘۔۔ اس جواب نے قانونی اہلیت پر بحث شروع ہوگئی۔ کیٹی زکریا نے بعد میں کہا کہ سوال سننے میں غلطی ہوئی تھی اور انھیں لگا کہ صحافی پوچھ رہا ہے کہ قانون کی تعلیم کے بعد وہ کہاں گئی تھیں۔ ان کے بقول بین الاقوامی تجارتی قانون کے شعبے میں مناسب اسناد کے ساتھ کام کیا ہے۔ انھوں نے 2011 میں کیلیفورنیا کی پیپرڈائن یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی تھی تاہم امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق انہوں نے کیلیفورنیا میں وکالت کا امتحان دیا تھا، لیکن کامیاب نہیں ہوسکی تھیں۔ خیال رہے کہ امریکا میں قانون کی ڈگری حاصل کرنا بذاتِ خود وکالت کا لائسنس نہیں ہوتا۔ تنظیم ’کمپین فار اکاؤنٹیبلٹی‘ نے بدھ کو کیلیفورنیا کے محکمہ وکلا میں شکایت درج کرائی جس میں تحقیقات کا مطالبہ کیا کہ آیا زکریا نے لائسنس کے بغیر خود کو وکالت کا اہل ظاہر کیا۔ یہ شکایت ہے کسی جرم کے ثابت ہونے کا فیصلہ نہیں۔ کیٹی زکریا 2011 سے 2013 کے دوران چین کے شہر بیجنگ میں ژونگ لون قانونی ادارے سے وابستہ رہیں۔ وہاں انھوں نے بین الاقوامی تجارتی قانون پر کام کیا۔ چین میں غیر ملکی ملازمین قانونی اداروں میں مختلف کردار ادا کرسکتے ہیں تاہم وہاں وکالت کا لائسنس حاصل کرنے کے لیے چینی شہریت ضروری ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ڈائریکٹر برائے مواصلات اسٹیون چیونگ نے کیٹی زکریا کا دفاع کرتے ہوئے انھیں انتہائی اہل اور ذہین قرار دیا اور کہا کہ وہ امریکی عوام کو معلومات فراہم کرنے کے لیے موزوں ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل