Loading
حزب اختلاف کی طرف سے تیار کردہ دو سو صفحات پر مشتمل مطبوعہ دستاویز "ملت اسلامیہ کا موقف" کی تدوین و ترتیب ان کی قیادت میں ان کے قریبی رفقاء نے کی۔ بالآخر 7 ستمبر 1974 کا وہ تاریخی دن آیا جب قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر عقیدۂ ختم نبوت کو آئینی تحفظ فراہم کیا اور دستور کی دفعہ 260 اور دفعہ 106 میں ترمیم کے ذریعے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ جب مفتی صاحب اسمبلی ہاؤس سے باہر نکل کر دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت پہنچے تو حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ مصلے پر سجدۂ شکر میں گر چکے تھے اور خوشی کے آنسوؤں سے ان کی داڑھی تر تھی۔
شافع محشر اور ختم نبوت کے دفاع میں پارلیمنٹ کے فیصلے پر پورے ملک میں تمام علمائے کرام و مشائخ نے اپنے شاگردوں، مریدین اور معتقدین کو سجدہ شکر بجالانے اور شکرانے کے نوافل ادا کرنے کی تلقین کی اور لاکھوں مسلمانوں نے سجدہ شکر اور شکرانے کے نوافل ادا کیے۔ اس عظیم فتح کی خوشی صرف پاکستان میں ہی نہیں پوری دنیا میں امت مسلمہ کے ہر فرد نے شایان شان طریقے سے منائیں۔
ایک بار مفتی محمودؒ نے باباجان رحمہ اللہ کو بتایا کہ جب میں قومی اسمبلی کا ممبر بنا تو میں اکثر سوچتا تھا کہ میں تو درس و تدریس کا بندہ تھا یہ سیاست کے دنگل میں کیوں آیا مگر جب قومی اسمبلی نے فیصلہ کر دیا تو میں نے سجدہ شکر ادا کیا کہ اللہ رب العزت نے مجھے اس لیے سیاست کے میدان میں اتارا کہ اب دین اور عقیدے کی حفاظت کے لیے سیاست ضروری ہے۔ 1964میں جامعہ الازہر مصر کے ہزار سالہ جشن میں ایک سوڈانی عالم کی طرف سے اسلام پر اٹھائے گئے اعتراضات کا مولانا غلام غوث ہزاروی رحمہ اللہ علیہ کے ساتھ مل کر ایسا تحقیقی جواب دیا کہ پوری دنیا کے علماء دنگ رہ گئے۔
جب یکم مئی 1972 کو آپ نے صوبہ سرحد کے وزیرِ اعلیٰ کی حیثیت سے حلف اٹھایا تو یہ پاکستانی تاریخ کا پہلا خوشگوار تجربہ تھا کہ اقتدار ایک درویش و ولی صفت عالمِ باعمل کے ہاتھ میں آیا۔ تخت و تاج کے مالک ہونے کے باوجود انھوں نے سرکاری خزانے سے وزیرِ اعلیٰ کی تنخواہ کبھی وصول نہیں کی بلکہ قومی اسمبلی کے پندرہ سو روپے ماہانہ پر اکتفا کیا۔ ان کی ساڑھے نو ماہ کی مختصر وزارت اعلی میں ہونے والے انقلابی اقدامات تاریخ کا حصہ ہیں۔ 5 مئی 1972 کو شراب پر مکمل پابندی اور شراب بیچنے کے تمام لائسنس منسوخ کرنا، جوئے پر پابندی، سودی لین دین کا خاتمہ، جہیز کی نمائش پر قانونی قدغن، احترامِ رمضان آرڈیننس کا نفاذ اور خواتین کے لیے پردہ لازمی قرار دینا ان کی ایمانی غیرت کے منہ بولتے ثبوت تھے۔
برصغیر میں انگریزوں کے دور سے چلی آنے والی اتوار کی چھٹی کو ختم کر کے جمعہ کی تعطیل بحال کرنا، صوبہ سرحد کی سرکاری زبان اردو قرار دینا اور شلوار قمیص کو سرکاری لباس بنانا ان کے جرآت مندانہ فیصلے تھے۔ تعلیمی میدان میں یونیورسٹیوں اور کالجوں میں داخلے کے لیے قرآن کا ناظرہ اور نمازِ با ترجمہ کی شرط، نئے اسکولوں اور کالجز کا قیام، نادار طلبہ کے لیے لاکھوں کے وظائف اور اسکولوں میں دینیات، عربی اور قاری کی اسامیاں تخلیق کر کے علماء کی تقرری جیسے کارنامے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔
جید علماء کرام پر مشتمل بورڈ کا قیام ان کی دینی بصیرت کا مظہر تھا جو 15 فروری 1973 کو بلوچستان کی حکومت اور صوبہ سرحد کے گورنر کی ناجائز برطرفی پر احتجاجاً وزارت اعلیٰ سے استعفیٰ دینے کے باعث ادھورا رہ گیا۔ قلندر اداؤں اور سکندرانہ جلال کی عملی تفسیر مفتی محمودؒ آمریت اور جبر کے خلاف ہمیشہ چٹان بن کر کھڑے رہے۔
تحریکِ آزادی سے لے کر ایوب خان کی آمریت کے خلاف بیس ہزار علماء کے تاریخی لانگ مارچ، 1969 کی گول میز کانفرنس، 1970 میں "متحدہ دینی محاذ" کی صدارت، اور 1977میں پاکستان قومی اتحاد کی تشکیل تک، مفتی محمودؒ صاحب کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا تھا۔
وہ اپنی زندگی میں متعدد بار قید و بند کی صعوبتیں جھیلتے رہے مگر حق گوئی کا دامن نہیں چھوڑا۔ زندگی کے آخری ایام میں 15 ستمبر 1980 کو لاہور میں مجلس عمومی کے اجلاس میں جنرل ضیاء الحق کی وعدہ خلافیوں کے خلاف تحریک کا اعلان کرنے والے مفتی محمودؒ جب حج کے لیے روانہ ہوئے تو کراچی میں 14 اکتوبر 1980 کو جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں ایک دقیق علمی و فقہی مسئلے کی تشریح فرما رہے تھے، جہاں مفتی تقی عثمانی، مفتی رفیع عثمانی اور مولانا یوسف لدھیانوی جیسے جید علماء موجود تھے کہ اچانک روح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی، پاکستان کے نوجوانوں یہ تھے مولانا فضل الرحمٰن کے والد محترم مولانا مفتی محمودؒ۔
آج 2026 میں کاروان مفتی محمود رحمہ اللہ پورے ملک میں رواں دواں ہے۔ قصور میں مولانا فضل الرحمٰن کے تاریخی خطاب اور تاریخ ساز جلسے کے بعد پنجاب میں جمعیت علمائے اسلام پاکستان کی عوامی مقبولیت سے اندازہ ہو رہا ہے کہ اب کارواں مفتی محمودؒ پنجاب کی سیاست میں پنجے گاڑ نے اور سیاسی افق میں موجود خلا کو پر کرنے کے لیے مستعدی سے متحرک ہے۔
آج صوبائی امیر مولانا امجد خان، جنرل سیکریٹری حافظ نصیر احمد احرار اور مولانا غضنفر عزیزجیسے متحرک سیکریٹری اطلاعات کی قیادت میں پنجاب کی سرزمین پر جمعیت علماء اسلام کے زیر اہتمام عشرۂ مفتی محمودؒ انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ لگتا ہے کہ اس بار جمعیت علمائے اسلام پنجاب کی سیاست میں ہلچل پیدا کرنے کے لیے تیار اور پر امید ہے، جس پر پنجاب کے علماء کرام اور پنجاب کے عاشقان رسول مقبول کے دل مسرور اور پرامید ہیں۔
پنجاب کے مختلف شہروں میں جمعیت علمائے اسلام پنجاب کے متحرک اور جاندار عشرہ مفتی محمودؒ کے دوران کارنر میٹنگز اور اجتماعات کے گزشتہ کل 15 اکتوبر کو ملتان میں ہونے والے عظیم الشان مفتی محمود ؒ کانفرنس میں پنجاب کے باشعور عوام کی تاریخ ساز تعداد میں شرکت نے ثابت کر دیا کہ پنجاب جمعیت نے جو عشرہ مفتی محمود ؒ منایا اس نے اپنا اثر دکھانا شروع کیا اور لگتا ہے کہ پنجاب کے نوجوانوں اور سیاسی شعور رکھنے والے عوام نے مفتی محمود ؒ کے مشن اور کارواں مفتی محمودؒ کے سپہ سالار، ان کے فرزند ارجمند معاملہ فہم اور مدبر مولانا فضل الرحمن کو عصر حاضر کے سیاست دانوں کے مقابلے میں پسند کیا۔پنجاب کے دینی حلقوں کے لیے پنجاب میں جمعیت علمائے اسلام کی مقبولیت نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں کیونکہ مولانا تمام مکاتب فکر کے علماء و شیوخ کو جوڑنے کی استعداد اور صلاحیت رکھتے ہیں۔ اور جب بھی ضرورت پڑی سب نے ان کی قیادت پر اطمینان کا اظہار کرکے اپنا رہبر و رہنما تسلیم کیا۔
اس بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ وہ پنجاب میں موجود سیاسی خلا کو پر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لگتا ہے کہ عشرہ مفتی محمودؒ کے دوران پنجاب جمعیت کی متحرک قیادت کی شبانہ روز محنتوں اور پرعزم تنظیمی دوروں کے نتیجے میں جے یو آئی پنجاب میں ایک فیصلہ کن قوت کے طور پر سامنے آئے گی۔
جمعیت علمائے اسلام پنجاب نے جس جاندار انداز میں الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا کے توسط سے مفتی محمود رحمہ اللہ کے افکار اور کارناموں کو نئی نسل تک پہنچایا یہ اپنی مثال آپ اور مفتی محمودؒ کے اس مشن کو جاری رکھنے کا عزم صمیم ہے جو وہ اپنی جماعت کو امانت کے طور پر سونپ گئے تھے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ جمعیت علمائے اسلام کی قیادت مفتی محمودؒ کے اخلاص، جرآت اور تدبر کو مشعلِ راہ بنائیں، تاکہ جس اسلامی اور فلاحی معاشرے کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے انھوں نے اپنی پوری زندگی وقف و قربان کر دی تھی، اس کی حقیقی تعبیر کے حصول کا سفر جاری و ساری رہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل