Loading
حقیقی نام سید اختر علی، والد محترم کا نام رحمت علی البتہ جب سید اختر علی نے ادبی دنیا میں قدم رکھا تو پھر اپنا قلمی نام و تخلص حمید اختر رکھ لیا۔ حمید اختر ابھی اسکول ہی میں زیر تعلیم تھے کہ انھوں نے قلم سے ناتا قائم کر لیا اور ان کا اولین افسانہ نما مضمون اس وقت کے نامور جریدے ’ہمایوں‘ میں چھپا۔ 4جون 1924 کو لدھیانہ فرید کوٹ مشرقی پنجاب میں پیدا ہونے والے حمید اختر کی عمر عزیز اس وقت فقط 16 یا 17 برس تھی۔ یہ ذکر ہے 1941 کے آس پاس کا۔ البتہ جب وہ کالج میں زیر تعلیم تھے تو انھیں نامور ترین انقلابی شاعر ساحر لدھیانوی کی قرابت بھی حاصل ہو گئی۔
محترم ساحر لدھیانوی بھی اسی کالج میں زیر تعلیم تھے جس کالج میں حمید اختر تعلیم حاصل کر رہے تھے ،یوں صوفیانہ مزاج کے حامل حمید اختر نے ترقی پسندی کے سفر کا آغاز کیا کیونکہ حمید اختر و ساحر لدھیانوی کے مابین گہرے دوستانہ مراسم بہت جلد قائم ہو چکے تھے البتہ بعدازاں اپنی تعلیم نامکمل چھوڑ کر بمبئی تشریف لے گئے جہاں سید سجاد ظہیر کی انھیں سرپرستی بھی حاصل ہو گئی یوں حمید اختر کی مارکسی تعلیم و تربیت ہونے لگی، البتہ یہ بھی اسی زمانے کا ذکر ہے جب حمید اختر نے فلمی دنیا میں قدم رکھا اور آزادی کی راہ وہ فلم تھی جس کے مکالمے انھوں نے محترمہ حاجرہ مسرور و ابراہیم جلیس کے ساتھ مل کر تحریر کیے جب کہ سکھ کا سپنا و پرانی آگ وہ فلمیں تھیں کہ جن فلموں میں انھوں نے ثانوی قسم کے کرداروں میں اداکاری بھی کی، انھی دنوں میں وہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے رکن بھی بنے اور انجمن ترقی پسند مصنفین کی نشستوں میں بھی باقاعدگی سے شرکت کرتے جب کہ بعد ازاں وہ انجمن کی بمبئی شاخ کے سیکریٹری بنا دیے گئے اور پھر انجمن کی کارکردگی کو روداد انجمن کے نام سے تحریر کیا۔
دوسری جانب برصغیر کی تقسیم و قیام پاکستان کا عمل شروع ہو چکا تھا چنانچہ 23 سالہ حمید اختر نے بھی اپنے خاندان کے ساتھ ہجرت کی اور لاہور میں آ کر قیام پذیر ہو گئے، البتہ ہجرت کے سفر کے دوران ان کو ایک شدید صدمے سے دوچار ہونا پڑا اور اس صدمے کو وہ ساری عمر فراموش نہ کر پائے وہ صدمہ یوں بیان کیا جا سکتا ہے۔
اس ہجرت کے سفر میں ان کی ایک بہن بھی ان کے ہم سفر تھی جس کی عمر اس وقت 11 یا 12 برس تھی ان کی بہن سفر کی سختیاں برداشت نہ کر سکی اور شدید بیماری کی کیفیت میں وفات پا گئی۔ حمید اختر اس صدمے سے پوری زندگی نہ نکل سکے۔ بعدازاں جب وہ ہندوستان گئے تو اس مقام پر جہاں ان کی بہن کی تدفین ہوئی تھی اس مقام پر دیر تک روتے رہے۔ بہرکیف لاہور آ کر وہ انجمن ترقی پسند مصنفین لاہور کے سیکریٹری بن گئے جب کہ جب انجمن ترقی پسند کی تنظیم نو ہوئی تو وہ انجمن کے سیکریٹری جنرل منتخب ہو گئے۔
حمید اختر کو اپنے ترقی پسند نظریات کے باعث قید و بند کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ اپنی اسیری کے ایام کو انھوں نے کال کوٹھری کے نام سے قلم بند کیا، اب اگر ان کے ادبی سفر کا ذکر چل نکلا ہے تو جیسے کہ ہم نے سطور بالا میں ذکر کیا ہے کہ انھوں نے کم عمری میں ہی قلم سے ناتا قائم کر لیا تھا۔ ہم نے ان کے ایک مضمون کا ذکر بھی کیا ہے۔ اب اگر ان کی مزید تحریروں کا ذکر کیا جائے تو 1945 میں ایک انگریزی ناول کا اردو ترجمہ بھی کیا۔ اردو میں اس ناول کو بے برگ و گیا نام سے قارئین کے سامنے پیش کیا جب کہ دیگر کتب میں افسانوں کا مجموعہ لامکاں، احوال دوستاں اور آشنائیاں کیا کیا کا نام قابل ذکر ہیں۔
انھوں نے کالم نگاری بھی کی اور خوب کی۔ حمید اختر 2003 میں روزنامہ ایکسپریس سے منسلک ہوگئے تھے، روزنامہ ایکسپریس سے ان کا تعلق تادم آخر قائم رہا۔ ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ حمید اختر نے شادی کافی تاخیر سے کی۔ اس تاخیر کی وہ وجہ یہ بتاتے کہ شادی کرنے کا خیال کافی دیر بعد جب آیا تو وہ تمام حسینائیں جن میں سے کسی ایک کے ساتھ شادی ہو سکتی تھی وہ تمام حسینائیں اپنے اپنے شوہروں کے ساتھ شادی کرکے خوشگوار زندگیاں گزار رہی تھیں اور کئی کئی بچوں کی مائیں بھی بن چکی تھیں۔
بہرکیف شادی تو کرنی تھی سو کر لی اور صاحب اولاد بھی ہو گئے۔ ان کی بیٹی صبا حمید ٹی وی ڈراموں کی نامور ترین و سینئر فنکارہ ہیں اور طویل عرصے سے ٹی وی سے وابستہ ہیں بلکہ صبا حمید کی بیٹی اور حمید اختر کی نواسی بھی ایک فنکارہ ہیں ۔ حمید اختر کے ساتھ ستم یہ ہوا کہ 1996 میں ایک مہلک مرض سرطان میں مبتلا ہو گئے۔ علاج طویل عرصہ تک جاری رہا موقع کی مناسبت سے وہ اس مرض کا ذکر بھی اپنی تحریروں میں کرتے رہتے۔ یہ ضرور تھا کہ باہمت حمید اختر نے طویل عرصے تک سرطان جیسے مہلک مرض سے جنگ لڑی اور ادبی سفر بھی جاری رکھا اور روزنامہ ایکسپریس میں باقاعدگی سے کالم بھی لکھتے رہے۔ 20 ستمبر 1999 کو آخری کالم چھپا اس کالم میں انھوں نے اپنی داستان حیات قلم بند کی۔ اس امر پر افسوس کا اظہار بھی کیا کہ وہ اپنا گھر نہ بنا سکے اور پوری عمر کرائے کے مکان میں گزار دی۔ البتہ اکتوبر 2011 کی 16 تاریخ کو وہ اپنے لاکھوں مداحوں و گھر والوں کو افسردہ کر گئے اور وہ اس دنیا فانی سے کوچ کر گئے۔
گویا داستان گو سو گیا داستاں کہتے کہتے۔ حمید اختر نے 87 برس تین ماہ عمر پائی اور لاہور میں دفن ہوئے، البتہ ان کی وفات کے کوئی دو ماہ بعد کراچی پریس کلب میں ان کی یاد میں ایک پروگرام کا اہتمام کیا گیا۔ اس پروگرام میں سوبھوگیان چندانی، ڈاکٹر مظہر حیدر، ڈاکٹر محمد علی صدیقی، راحت سعید، ڈاکٹر سید جعفر احمد و مزدور رہنما جہانگیر بدر نے شرکت کی اور حمید اختر کو خراج عقیدت پیش کیا جب کہ ان کی بیٹی صبا حمید نے نامور آرٹسٹ بشریٰ انصاری و نامور اداکارہ سکینہ سموں کے ساتھ اس تعزیتی پروگرام میں شرکت کی۔ 16 اکتوبر 2026 کو حمید اختر کی 15 ویں برسی ہے۔ اس موقع پر ہم دعا گو ہیں کہ خداوند کریم ان کے درجات بلند فرمائے۔( آمین!)
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل