Thursday, October 15, 2026
 

عام آدمی

 



پاکستان میں عام آدمی کی زندگی بظاہر چند بنیادی انسانی ضرورتوں کے گرد گھومتی ہے، جہاں خواہش صرف اتنی ہوتی ہے کہ گھر کا چولہا باقاعدگی سے جلتا رہے، بچوں کو مناسب تعلیمی سہولتیں میسر ہوں، بیماری کی صورت میں بر وقت اور معیاری علاج ہو سکے اور مہینے کے اختتام پر اتنی رقم ضرور باقی رہے کہ اگلے دن کا آغاز کسی نئے مالی بوجھ یا قرض کے بغیر کیا جا سکے۔ تاہم، ملک میں لاکھوں خاندانوں کے لیے یہ انتہائی معمولی دکھائی دینے والی خواہشات بھی ایک مسلسل اور تھکا دینے والی جدوجہد بن چکی ہیں، جہاں صبح سویرے روزگار کی تلاش میں نکلنے والا دیہاڑی دار مزدور، محدود تنخواہ میں پورے خاندان کی کفالت کرنے والا ملازم، بڑھتے اخراجات اور کم ہوتے منافع سے پریشان چھوٹا دکاندار اور اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے کے باوجود مناسب ملازمت کے منتظر نوجوان، سب اپنے اپنے انداز میں ایک ہی بنیادی سوال کا سامنا کر رہے ہیں کہ آخر بے پناہ محنت کرنے کے باوجود زندگی آسان اور مستحکم کیوں نہیں ہو رہی۔ عام شہری کی اس کٹھن صورتِ حال کا درست اندازہ محض مہنگائی کے اعدادوشمار یا قومی آمدنی کی شرح دیکھ کر نہیں لگایا جا سکتا، بلکہ اس معاشی حقیقت کا اصل روپ اس وقت سامنے آتا ہے جب ایک خاندان اپنی محدود آمدنی کو آٹے، دال، سبزی، دودھ، بجلی اور گیس کے بلوں، مکان کے کرائے، بچوں کی فیسوں اور ادویات کی خریداری میں تقسیم کرتا ہے۔ جب آمدنی جامد رہے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مسلسل بڑھتی رہیں تو گھر کا بجٹ صرف ایک حساب کتاب نہیں رہتا بلکہ روزمرہ کی ترجیحات اور مجبوریوں کا امتحان بن جاتا ہے، جس کے نتیجے میں خاندانوں کو خوراک کے معیار پر سمجھوتا کرنا پڑتا ہے، بچوں کی تعلیم موثر ہو جاتی ہے، اور بیماری کے باوجود علاج اس امید پر ٹال دیا جاتا ہے کہ شاید کچھ دن بعد کچھ رقم دستیاب ہو جائے۔ معاشی صورتِ حال کی اس ابتر حالت کو سمجھنے کے لیے عالمی بینک کی اکتوبر 2025 کی رپورٹ اہم اعدادوشمار فراہم کرتی ہے، جس کے مطابق مالی سال 2024 میں پاکستان کی 47.1 فیصد آبادی 4.20 امریکی ڈالر (تقریباً 1,170 پاکستانی روپے) روزانہ کی بین الاقوامی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی تھی، جب کہ مالی سال 2025کے لیے یہ تخمینہ تقریباً 45 فیصد لگایا گیا۔ یہ بین الاقوامی معیار مختلف ممالک میں غربت کا تقابلی جائزہ لینے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اسے محض مقامی روپے میں روزانہ کی کسی مقررہ رقم سے تعبیر کرنا درست نہیں کیونکہ اس میں قوت خرید کے فرق کو ملحوظ رکھا جاتا ہے، تاہم یہ شرح اس حقیقت کی نشاندہی ضرور کرتی ہے کہ ملک کی ایک بڑی آبادی شدید معاشی عدم استحکام اور محدود وسائل کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ دوسری جانب عالمی بینک کی اشاعت میں قومی غربت کی لکیر کے مطابق مالی سال 2024کے لیے غربت کی شرح 25.3 فیصد اور مالی سال 2025کے لیے تخمیناً 22.2 فیصد بیان کی گئی اور ان اعدادوشمار میں فرق کی بنیادی وجہ غربت کی پیمائش کے مختلف معیارات ہیں کیونکہ قومی لکیر مقامی ضروریات کا جائزہ لیتی ہے جب کہ بین الاقوامی لکیر عالمی تقابل کے لیے استعمال ہوتی ہے۔  معاشی دباؤ کی ایک بڑی وجہ غریب اور کم آمدنی والے گھرانوں کا اپنے کل بجٹ کا تقریباً 45 فیصد صرف خوراک پر خرچ کرنا ہے، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی ان خاندانوں کو کس شدت سے متاثر کرتا ہے اور ان کے پاس بچت یا متبادل اخراجات کے لیے بہت کم گنجائش چھوڑتا ہے، جس کے نتیجے میں غذائیت کی کمی اور صحت کے سنگین مسائل جنم لیتے ہیں۔ عام آدمی کی زندگی کا دوسرا بڑا چیلنج معیاری تعلیم اور صحت کی سہولتوں تک عدم رسائی ہے، کیونکہ کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے سرکاری اسکول اور اسپتال محض سہولت نہیں بلکہ بنیادی ضرورت ہوتے ہیں۔ جب سرکاری اداروں میں تدریسی معیار اور طبی سہولتیں تسلی بخش نہ ہوں اور والدین کو مجبوراً نجی اداروں کا رخ کرنا پڑے، تو محدود آمدنی پر مزید دباؤ پڑتا ہے اور کسی ناگہانی بیماری کی صورت میں بچت کا ختم ہونا یا قرض لینا خاندانوں کو طویل عرصے کے لیے معاشی دلدل میں پھنسا دیتا ہے۔ عام آدمی کی زندگی میں حقیقی اور پائیدار بہتری لانے کے لیے سب سے پہلا تقاضا ایسے باوقار روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے جو مناسب اجرت، تسلسل اور تحفظ فراہم کر سکیں، جس کے لیے صنعت، زراعت، تعمیرات اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں پیداواری سرگرمیوں کو وسعت دینے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو جدید مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق فنی تربیت دینا ناگزیر ہے۔ بالآخر، کسی بھی ملک کی حقیقی پیش رفت کا اندازہ محض جی ڈی پی کی شرحِ نمو یا سرمائے کی آمد سے نہیں لگایا جا سکتا، بلکہ اس کا اصل معیار یہ ہے کہ اس کا عام شہری کتنی عزت، تحفظ اور امید کے ساتھ زندگی بسر کر رہا ہے۔ عالمی بینک کے اعدادوشمار اور رپورٹیں پاکستان میں غربت کی وسعت کو سمجھنے میں مدد ضرور دیتی ہیں، لیکن ان اعداد و شمار کے پسِ پردہ کروڑوں انسانوں کی حقیقی زندگیاں ہیں جن کے لیے ہر نیا مہینہ ایک معاشی آزمائش اور مستقبل ایک بڑا سوال بنا ہوا ہے۔ پاکستان کو ایک ایسے معاشی و سماجی ماڈل کی ضرورت ہے جہاں محنت کش کو اس کی محنت کا پورا اور باوقار معاوضہ ملے، بچوں کو معیاری تعلیم کے مساوی مواقع میسر ہوں، اور بیماری کے وقت غریب کو لاچارگی کا احساس نہ ہو۔ عام آدمی کو معاشی ترقی کے ثمرات میں حقیقی اور برابر کا حصہ دار بنانا صرف کوئی فلاحی یا اخلاقی اقدام نہیں، بلکہ ایک منصفانہ، مستحکم اور خوش حال معاشرے کی تشکیل کے لیے بنیادی قومی شرط ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل