Loading
جب اپنے گھر میں افراتفری ہو تو کون ہوگا جو گھر کی حالت پر غورکرنے کی بجائے غیروں کی حالت بہتر بنانے کی جسارت کرے گا؟وطنِ عزیز کے ایک صوبے میں آئین کی شق 232اور 234کے تحت گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
ایسی مکدر فضا میں قلمکار بھلا کیونکر ایران و توران کی بات کرے؟اکتوبر کے پہلے ہفتے پیپلز پارٹی کے چیئرمین، جناب بلاول بھٹو زرداری، نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہُوئے کہا تھا:’’وفاقی حکومت نے KPKمیں گورنر راج یا ایمر جنسی کے نفاذ کا ذہن بنا لیا تھا ، لیکن میرا خیال تھا کہ اِس ’’آئینی ایٹم بم ‘‘ کے استعمال سے پہلے سیاسی حل ڈھونڈنا چاہیے ۔‘‘ وفاقی حکومت نے سیاسی حل ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی ۔ اپوزیشن اور KPKوزیر اعلیٰ، سہیل آفریدی، کے نمائندگان سے اسلام آباد میں مذاکرات کے دو بڑے دَور ہُوئے۔
بات مگر بن نہ سکی۔ نوبت ایں جا رسید کہ 11اکتوبر 2026کو وفاقی حکومت نے، کابینہ سے مشاورت اور صدارتی فرمان کے اجرا کے بعد، KPKمیں ، بادلِ نخواستہ، آئینی ایٹم بم چلا ہی دیا۔13اکتوبر کی شام وزیر داخلہ نے سینیٹ میں اپنے تفصیلی خطاب میں ساری باتیں کھول دی ہیں ۔ اکتوبر کا مہینہ ویسے بھی پاکستانی سیاست و اقتدار کے لیے اتنا سعد اور مسعود نہیں ہے۔ اِسی مہینے میں کئی حکومتیں بھی اُلٹائی گئیں اور اِسی مہینے میں مارشل لا بھی لگے ۔ پَنبہ کجا کجا نہم؟
جمہوری دُنیاؤں میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ پسندیدہ اور قابلِ رشک نہیں سمجھا جاتا ۔مگر جب سیاسی و امن کے حالات بگاڑ کا شکار ہو جائیں تو یہ ناپسندیدہ قدم اُٹھانا ہی پڑتا ہے ۔ بالکل اُسی طرح جیسے طلاق کا اقدام جائز ہونے کے باوجود ناپسندیدہ متصور ہوتا ہے ، لیکن جب خانگی اور متاہلانہ حالات بے قابو ہو جائیں تو یہ ضرب لگانا ہی پڑتی ہے ۔
11اکتوبر کو KPKمیں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد یہ تاریخ رقم کر دی گئی ہے کہ پاکستان میں یہ اقدام آٹھویں بار کیا گیا ہے ۔ پچھلے79برسوں کے دوران پاکستان کا کوئی صوبہ ایسا نہیں بچا جہاں ایک ایک بار گورنر راج نافذ نہیں کیا گیا ۔ لیکن کیا صرف پاکستان ہی کے حصے میں ایمرجنسی کے نفاذ کی بد قسمتیاں آئی ہیں؟ نہیں ، ایسا بھی نہیں ہے ۔ ہمارے ہمسایہ ملک ، بھارت ، میں مجموعی طور پر اب تک3بار قومی ایمرجنسی مسلّط ہو چکی ہے ۔ اور26 بھارتی صوبوں میں اب تک135بار ایمر جنسی ( جسے بھارتی آئین میں ’’صدر راج‘‘ کہا جاتا ہے ) نافذ کی جا چکی ہے ۔ بھارت میں صرف 2صوبے( چھتیس گڑھ اور تلنگانہ) ایسے خوش قسمت ہیں جہاں کبھی ایمرجنسی کے نفاذ کی ضرورت نہیں پڑی ۔ امریکہ میں اب تک 92بار ایمرجنسی لگ چکی ہے ۔ کینیڈا میں 4مرتبہ اور برطانیہ میں 12بار ایمرجنسی کا نفاذ عمل میں آ چکا ہے ۔
گورنر راج کے نفاذ کے بعد گورنر صاحب ، فیصل کریم کنڈی، جو بڑے بڑے خواب دکھا رہے ہیں، ان کی عملی تصویر و تعبیراتنی سہل نہیں ہے ۔ سہیل آفریدی کی حکومت کی جگہ جس 11رکنی ایڈوائزری کونسل نے لی ہے ، وفاقی وزیر اطلاعات نے، میڈیا کے رُوبرو، اِن میں سے ایک ایک کا تعارف کروایا ۔ تعارف سے تو یہ سب لوگ تجربہ کار اور اعلیٰ تعلیم یافتہ لگتے ہیں ، مگر ان کی کارکردگی سے ان کی اہلیت کا پتہ چل سکے گا۔ گیارہ رکنی مشاورتی کونسل میں دو خواتین بھی شامل کی گئی ہیں ۔
یہ مستحسن فیصلہ ہے ۔ سہیل آفریدی کی حکومت میں تو ایک بھی خاتون وزیر شامل نہیں تھی ۔ شائد طالبان کے ڈر سے ؟ اور اب دو خواتین کو مشاورتی کونسل میں شامل کرکے( خاص طور پر متشدد اور خواتین کے حقوق کے دشمن افغان طالبان کو) پیغام دیا گیا ہے ۔ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے میں نئے چیلنجز سامنے آ کھڑے ہُوئے ہیں ۔
صوبے میں فوج بھی تعینات کر دی گئی ہے ۔ یوں 11رکنی ایڈوائزری کونسل کے ہر رکن اور متعین فوج کے ہر جانباز سپاہی سے KPKمیں دہشت گردی اور خونریزی کے ستائے ہر شہری نے بلند توقعات وابستہ کر لی ہیں۔فوج پر بالخصوص ، از سرِ نَو، بھاری ذمے داریاں آ پڑی ہیں۔ افسوس تو یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو ایک صوبے کو بہترین بنانے اور اِس کے ووٹروں کی تقدیر سنوارنے کا سنہرا موقع ملا ( اور یہ موقع مسلسل13برس فراہم کیا جاتا رہا) مگر مقتدر پی ٹی آئی نے اِس زرّیں موقع کو بے معنی تصادموں کے بھینٹ چڑھا دیا ۔
خیبر پختونخوا میں نئے سیاسی انتظام اور پی ٹی آئی کی حکومت کے خاتمے کے بعد اب خاص طور پر پی ٹی آئی کے اُن معروف اور مفرور لیڈروں کو اپنی بقا کی فکر کرنی چاہیے جنھوں نے گرفتاریوں سے بچنے اور سیاسی تعذیب سے محفوظ رہنے کے لیے KPK کو اپنی پناہ گاہ (Refuge) بنا رکھا تھا ۔اُنہیں KPKکے خفیہ کونوں کھدروں اور پہاڑی گپھاؤں سے ڈھونڈ کر لانا اور عدالتوں کے رُوبرو پیش کرنا خیبر پختونخوا کے نئے سَیٹ اَپ کی بنیادی ذمے داری ہے ( خصوصاً 9مئی کے ملزمان کو) ایک چیلنج یہ بھی ہے کہ KPKمیں پی ٹی آئی کے مشتعل اور محروم ووٹرز سے کیسے نمٹا جائے گا۔ایک چیلنج یہ بھی ہے کہ KPK میں مقیم غیر قانونی افغانوں کو کب اور کیسے نکال باہر کیا جائے ؟ اب تو نئے سیٹ اَپ کے پاس یہ عذر خواہی بھی نہیں رہ گئی ہے کہ KPKمیں غیر قانونی افغان مہاجرین کو نکالنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ پی ٹی آئی کی حکومت ہے ۔
پہلے بھی ، وفاقی حکومت کی جانب سے، خاصے عرصے سے یہ بات تواتر سے کہی جاتی رہی ہے کہ KPKکے خاص طور پر12اضلاع دہشت گردی ، لاقانونیت ، خونریزی اور دہشت گردوں کا مرکز اور آماجگاہ ہیں ۔ 11اکتوبر کو ایمر جنسی کے نفاذ کے بعد تین وفاقی وزرا نے متفقہ طور پر سب کے سامنے ایک بار پھر اقرار و اعتراف کیا کہ KPK کے12اضلاع خاص طور پر بد امنی کا شکار ہیں ۔ اب نئے انتظام کے تحت ، پہلے قدم کے طور پر ، خیبر پختونخوا کے عوام اِنہی 12اضلاع میں دہشت گردی اور دہشت گردوں کا خاتمہ اور علاقے میں کامل امن کی بحالی چاہتے ہیں ۔
خیبر پختونخوا کے ٹوٹل37 اضلاع ہیں ۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ KPKکا ایک تہائی حصہ، بد قسمتی سے ، دہشت گردوں کے زیر ہدف ہے ؛ چنانچہ KPKکے نئے انتظام و انصرام سے عوام کی بلند توقعات بے جا نہیں ہیں ۔ حکومت نے مذکورہ12آتش دیدہ مخصوص اضلاع کے لیے گریڈ20کے افسر، یحییٰ اخونزادہ، کو ایڈمنسٹریٹر مقرر کردیا ہے ۔14اکتوبر کو پارلیمنٹ نے بھی گورنر راج اور ایمر جنسی کے اقدام کی توثیق کر دی ہے ۔کسی نے مخالفت نہیں کی کہ اپوزیشن قرار داد کے وقت واک آؤٹ کرکے ایوان سے باہر جا چکی تھی ۔
حیرت ہے کہ پی ٹی آئی کی کال کے باوصف KPKمیں کوئی بڑا احتجاج نہیں ہو سکا ۔ شائد پی ٹی آئی ابھی سکتے میں ہیں۔پاکستان کی دونوں بڑی مذہبی جماعتوں (JUIFاور جماعتِ اسلامی) نے بھی گورنر راج اور ایمرجنسی کی حمائت نہیں کی ہے ۔ علامہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی نے پارلیمنٹ میں اقدام کی سخت مخالفت کی ہے ۔ 11اکتوبر کے اقدام کو ’’یومِ سیاہ‘‘ سے معنون بھی کیا جارہا ہے ۔
اپوزیشن اور پی ٹی آئی قیادت نے اِس اقدام کو ہائیکورٹ میں چیلنج بھی کر دیا ہے۔عجب بات ہے کہ علی امین گنڈا پور کی حکومت20ماہ کے بعد ختم کر دی گئی اور اب سہیل آفریدی کی حکومت4دن کم ایک سال ہی نکال سکی ۔ بعض لوگ یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ سہیل آفریدی کی حکومت کا دھڑن تختہ کرکے وفاقی حکومت نے دراصل سہیل آفریدی کو آزمائش کے شکنجے سے نجات دی ہے ۔ اِس سارے بحران میں مگر ایک بندہ سب سے دانا ثابت ہُوا ہے ۔ اور وہ ہے نواز شریف ۔ وہ طوفان کی آمد کا بھانپتے ہُوئے دو دن قبل ہی (’’بغرضِ علاج‘‘) لندن چلے گئے تھے ۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل