Thursday, October 15, 2026
 

تعلیمی اداروں میں بدگمانی کا تدارک، مگر کیسے۔۔۔۔۔ !

 



علم و تربیت کے مراکز معاشرے کی روحانی و اخلاقی بنیادیں مضبوط کرنے کے لیے قائم کیے جاتے ہیں۔ یہاں انسان نہ صرف کتابی علم حاصل کرتا ہے بلکہ اخلاق، معاملات اور باہمی تعلقات کی تربیت بھی پاتا ہے۔ مگر جب انھی اداروں میں بدگمانی، الزام تراشی اور بہتان کی فضا پروان چڑھنے لگے تو تعلیم کا اصل مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔ استاد، شاگرد کے درمیان اعتماد کم زور پڑ جاتا ہے، طلبہ ایک دوسرے کو شک کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں، اور علمی ماحول کی بہ جائے خوف اور بے یقینی کی کیفیت جنم لے لیتی ہے۔ قرآن کریم اور احادیثِ صحیحہ نے اس رویے کی سنگینی کو نہایت واضح انداز میں بیان فرمایا ہے، اور اس کے مقابلے میں ’’حسنِ ظن‘‘ یعنی دوسروں کے بارے میں اچھا گمان رکھنے کی تربیت کو ایک بنیادی علاج کے طور پر پیش کیا ہے۔ یہ محض ایک اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ ایک ایسا اصول ہے جس پر معاشرتی سکون، ادارہ جاتی وقار اور تعلیمی ترقی کا انحصار ہے۔  ذیل میں اسی موضوع پر دس ذیلی عنوانات کے تحت تفصیلی اور جامع گفت گو پیش کی جاتی ہے، تاکہ تعلیمی اداروں سے وابستہ ہر فرد اس مسئلے کی نزاکت کو سمجھ سکے اور اس کے حل کی طرف راہ نمائی حاصل کر سکے۔ بدگمانی کی قرآنی مذمت: ارشاد باری تعالی کا مفہوم ہے: ’’اے ایمان والو! بہت زیادہ گمان سے بچو، کیوں کہ بعض گمان گناہ ہیں، اور ایک دوسرے کے عیب مت ٹٹولو اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔‘‘ (سورۃ الحجرات) یہ آیت واضح کرتی ہے کہ بدگمانی محض ایک نفسیاتی کیفیت نہیں بلکہ ایک ایسا گناہ ہے جو مزید برائیوں یعنی جاسوسی اور غیبت کا دروازہ کھولتا ہے۔ آیت میں ’’بعض گمان گناہ ہیں‘‘ کہہ کر یہ واضح کیا گیا کہ ہر شک اور اندازہ گناہ نہیں، بلکہ وہ گمان قابلِ مؤاخذہ ہے جو بغیر دلیل کے کسی کی نیت یا کردار پر منفی حکم لگا دے۔ تعلیمی ادارے میں جب استاد، طالب علم یا انتظامیہ کسی کے بارے میں بلا دلیل منفی رائے قائم کر لیتے ہیں، پھر اسی گمان کی بنیاد پر تجسس کرتے یا دوسروں سے اس کا تذکرہ کرتے ہیں، تو یہ ایک ہی آیت میں مذکور تین گناہوں یعنی بدگمانی، جاسوسی اور غیبت کے مجموعے میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ یہی آیت ان کے لیے بہ راہِ راست تنبیہ ہے کہ علمی ماحول کو اس فساد سے پاک رکھا جائے۔ بہتان، ایک کھلا گناہ: قرآن مجید میں بہتان کو ایک ایسا جرم قرار دیا گیا ہے جس کی سنگینی کھلے گناہ کے برابر ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ کا مفہوم ہے: ’’جو شخص کوئی خطا یا گناہ کما کر پھر اسے کسی بے گناہ کے سر منڈھ دے، اس نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھا لیا۔‘‘ (سورۃ النساء) اسی طرح ارشاد ہُوا: ’’جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو بغیر کسی گناہ کے تکلیف پہنچاتے ہیں انھوں نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھایا۔‘‘ (سورۃ الاحزاب)  یہ دونوں آیات ملا کر پڑھی جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بہتان دو صورتوں میں واقع ہوتا ہے: ایک یہ کہ اپنی غلطی دوسرے کے سر تھوپ دی جائے، اور دوسرا یہ کہ بغیر کسی جرم کے کسی بے گناہ کو محض تکلیف پہنچانے کی نیت سے بدنام کیا جائے۔ تعلیمی ماحول میں کسی طالب علم یا استاد پر بلا ثبوت الزام لگانا، چاہے وہ اخلاقی کردار سے متعلق ہو یا علمی دیانت سے، مثلاً نقل کا الزام، بدنیتی کا الزام یا کسی نامناسب تعلق کا الزام، اسی قرآنی وعید کے دائرے میں آتا ہے۔ اداروں کی ذمے داری ہے کہ کسی بھی الزام کو منظم تحقیق کے بغیر آگے نہ بڑھایا جائے۔ حسنِ ظن کی قرآنی دعوت: سورۃ النور میں اﷲ تعالیٰ نے واقعہ افک کے تناظر میں مومنین کو یہ تعلیم دی کہ جب انھوں نے یہ بات سنی تو مومن مردوں اور عورتوں نے اپنے آپ سے اچھا گمان کیوں نہ کیا اور کیوں نہ کہا کہ یہ کھلا بہتان ہے۔ یہ آیت اسلامی تربیت کا وہ سنہری اصول بیان کرتی ہے کہ کسی بھی افواہ یا الزام کو سنتے ہی فوراً یقین کر لینے کے بہ جائے پہلے حسنِ ظن کو کام میں لایا جائے۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ یہ آیت ایک ایسے سنگین واقعے کے پس منظر میں نازل ہوئی جس نے پوری مسلم معاشرت کو ہلا کر رکھ دیا تھا، اور اس کے باوجود اﷲ تعالیٰ نے تحقیق سے پہلے حسنِ ظن کو مطلوب قرار دیا۔ تعلیمی اداروں میں یہی اصول اگر رائج ہو جائے، یعنی کوئی بات سننے پر فوری ردِعمل کے بہ جائے پہلے متعلقہ فرد سے حسنِ ظن رکھا جائے اور معاملے کی تحقیق کی جائے، تو بے شمار غلط فہمیاں جنم لینے سے پہلے ہی ختم ہو جائیں۔ حدیثِ نبویؐ میں بدگمانی سے اجتناب کی تاکید: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا، مفہوم: ’’ بدگمانی سے بچو۔ کیوں کہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے۔‘‘ (صحیح البخاری، صحیح مسلم) اس حدیث میں بدگمانی کو سب سے بڑا جھوٹ قرار دیا گیا ہے، کیوں کہ اس کی بنیاد کسی ثابت شدہ حقیقت پر نہیں بلکہ محض وہم و گمان پر ہوتی ہے۔ گویا نبی کریم ﷺ نے اس رویے کی حقیقت ہی بے نقاب کر دی کہ یہ ایک ایسا ’’جھوٹ‘‘ ہے جو انسان اپنے ہی دل میں گھڑتا ہے، بغیر کسی خارجی گواہی کے۔ تعلیمی ادارے میں جہاں علم و تحقیق کی بنیاد ثبوت اور دلیل پر رکھی جاتی ہے، وہاں بدگمانی کا رواج علمی روح کے سراسر منافی ہے، کیوں کہ ایک ایسا فرد جو علمی میدان میں ہر دعوے پر دلیل مانگتا ہے، وہی اگر انسانی معاملات میں بلا دلیل رائے قائم کر لے تو یہ ایک تضاد ہے جسے دور کرنا ضروری ہے۔ مسلمان بھائی کی عزت و آبرو کی حرمت: سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا، مفہوم: ’’مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے ذلیل کرتا ہے اور نہ اسے حقیر سمجھتا ہے۔‘‘ (مسلم) اسی حدیث میں آگے یہ بھی مذکور ہے کہ تقویٰ یہاں ہے، اور آپؐ نے اپنے سینے کی طرف اشارہ فرمایا، اور کسی مسلمان کو حقیر جاننا ہی برائی کے لیے کافی ہے۔ یہ حدیث تعلیمی اداروں میں باہمی تعلقات کی بنیاد کو واضح کرتی ہے۔ استاد و شاگرد اور ہم جماعت طلبہ کے درمیان اگر یہ اصول اپنایا جائے کہ ایک دوسرے کو ظلم، تذلیل اور تحقیر سے محفوظ رکھنا اصل تقویٰ کا حصہ ہے، تو ایک دوسرے کی تحقیر اور بے جا الزام تراشی کا سلسلہ خود بہ خود رک جائے۔ خاص طور پر استاد کی طرف سے کسی طالب علم کے بارے میں پہلے سے قائم شدہ منفی رائے، یا طلبہ کی طرف سے کسی ہم جماعت کے خلاف بلا وجہ تعصب، اسی حدیث کی روشنی میں قابلِ اصلاح ہے۔ غیبت اور بہتان میں فرق کی نبوی تشریح: نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرامؓ سے پوچھا کہ کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے؟ صحابہؓ نے عرض کیا اﷲ اور اس کا رسول ﷺ ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ اپنے بھائی کا ذکر ایسی بات سے کرنا جسے وہ ناپسند کرے۔ پوچھا گیا اگر وہ بات میرے بھائی میں واقعی موجود ہو تو؟ فرمایا: اگر وہ بات اس میں موجود ہے تو تم نے اس کی غیبت کی، اور اگر موجود نہیں تو تم نے اس پر بہتان باندھا۔ (صحیح مسلم)  یہ حدیث ایک نہایت اہم اصولی فرق واضح کرتی ہے کہ بغیر تحقیق کے کسی پر الزام لگانا محض غیبت نہیں بلکہ بہتان ہے، جو کہیں زیادہ سنگین گناہ ہے۔ اس نبوی تشریح سے یہ اصول ملتا ہے کہ کسی کے بارے میں بات کرنے سے پہلے یہ جانچنا ضروری ہے کہ آیا بات درست بھی ہے یا نہیں، کیوں کہ بہت سی باتیں جو تعلیمی اداروں میں زبان زدِ عام ہو جاتی ہیں، ان کی کوئی حقیقی بنیاد نہیں ہوتی۔ تعلیمی ادارے میں افواہوں پر مبنی الزامات اکثر اسی زمرے میں آتے ہیں، اور اساتذہ و انتظامیہ کی ذمے داری ہے کہ اس فرق کو طلبہ کے ذہن نشین کرائیں تاکہ وہ بلا تحقیق کسی بات کو آگے نہ بڑھائیں۔ عیب پوشی اور پردہ داری کی فضیلت: رسول اﷲ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کا عیب چھپائے، اﷲ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کا عیب چھپائے گا۔ اسی مفہوم کی روایت صحیح بخاری میں بھی موجود ہے جہاں مسلمان بھائی کی مدد اور پردہ پوشی کو اﷲ کی مدد سے مشروط کیا گیا ہے۔ ان دونوں روایات میں ایک اصولی تعلیم یہ ملتی ہے کہ انسان کی فطری کم زوریوں اور لغزشوں کو فوراً عام کرنے کے بہ جائے، انھیں چھپا کر اصلاح کی کوشش کرنا زیادہ محمود عمل ہے، بہ شرطے کہ معاملہ عوامی حق تلفی یا سنگین جرم کا نہ ہو۔ تعلیمی اداروں میں اگر اساتذہ اور طلبہ ایک دوسرے کی لغزشوں پر پردہ ڈالنے اور اصلاح کا رویہ اپنائیں، بہ جائے اس کے کہ ہر چھوٹی بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے، تو بدگمانی اور بہتان کی جڑ ہی کاٹی جا سکتی ہے۔ حسنِ ظن کی عملی تربیت کے تعلیمی تقاضے: مذکورہ بالا آیات و احادیث سے یہ اصول اخذ ہوتا ہے کہ حسنِ ظن کوئی جذباتی نعرہ نہیں بلکہ ایک باقاعدہ قابلِ تربیت رویہ ہے، جسے منظم کوششوں سے فروغ دیا جا سکتا ہے۔ تعلیمی ادارے اسے نصاب کا حصہ بنا کر، اساتذہ کے طرزِ عمل میں شامل کر کے، اور نظم و ضبط کے قواعد میں شفافیت لا کر عملی جامہ پہنا سکتے ہیں۔ اس کے لیے چند عملی اقدامات کیے جا سکتے ہیں: پہلا: یہ کہ جب کسی طالب علم یا استاد کے خلاف کوئی بات سنی جائے تو پہلا قدم تحقیق ہونا چاہیے، الزام کی تصدیق نہیں۔ دوسرا: یہ کہ ادارے میں شکایات کے لیے شفاف اور منصفانہ طریقہ کار وضع کیا جائے تاکہ افواہوں کی بہ جائے حقائق کی بنیاد پر فیصلے ہوں۔  تیسرا: یہ کہ اساتذہ خود اپنے طرزِ عمل سے حسنِ ظن کا نمونہ پیش کریں، کیوں کہ طلبہ اکثر اپنے اساتذہ کے رویے کی نقل کرتے ہیں۔ اجتماعی ماحول پر بدگمانی کے اثرات: بدگمانی اور بہتان کا ماحول تعلیمی ادارے کی اجتماعی نفسیات کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ اعتماد کا فقدان، باہمی رنجش، اور تعلیمی ارتکاز میں کمی اسی رویے کے بہ راہِ راست نتائج ہیں۔ جب طلبہ یہ محسوس کریں کہ ان کے اساتذہ یا ساتھی ان کے بارے میں بلا وجہ منفی رائے رکھتے ہیں، تو ان کا اعتماد مجروح ہوتا ہے اور وہ تعلیمی سرگرمیوں سے کنارہ کش ہونے لگتے ہیں۔ اسی طرح جب اساتذہ کے درمیان بدگمانی پھیلتی ہے تو ادارے کی اجتماعی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ قرآن و حدیث میں بیان کردہ اصول دراصل ایک صحت مند اجتماعی نظام کی بنیاد فراہم کرتے ہیں جہاں ہر فرد دوسرے کے بارے میں پہلے اچھا گمان رکھتا ہے اور الزام کی صورت میں فوری تحقیق کو ترجیح دیتا ہے، جس سے ادارے میں امن، اعتماد اور علمی ارتکاز کا ماحول قائم رہتا ہے۔ حسنِ ظن کی ثقافت کا فروغ: خلاصہ اور لائحہ عمل: مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ تعلیمی اداروں میں بدگمانی کے خاتمے کا واحد پائیدار راستہ حسنِ ظن کی منظم تربیت ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اساتذہ خود نمونہ بنیں، انتظامیہ شفاف احتسابی نظام قائم کرے، اور طلبہ کو ابتدا ہی سے یہ سکھایا جائے کہ کسی کے بارے میں رائے قائم کرنے سے پہلے تحقیق اور دلیل کو معیار بنایا جائے۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ افواہوں اور بلا ثبوت باتوں کو آگے پھیلانے کی بہ جائے، معاملے کو بہ راہِ راست متعلقہ فرد یا ادارے کی مجاز اتھارٹی تک پہنچایا جائے۔ یہی وہ طرزِ عمل ہے جسے قرآن و حدیث نے بار بار امتِ مسلمہ کے سامنے رکھا، اور یہی تعلیمی اداروں کی روحانی صحت، علمی وقار اور اجتماعی سکون کی ضمانت ہے۔ جب حسنِ ظن ایک انفرادی خوبی سے نکل کر ادارہ جاتی ثقافت بن جائے، تبھی بدگمانی اور بہتان جیسی بیماریوں سے مکمل نجات ممکن ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل