Loading
سندھ ہائی کورٹ نے کروڑوں روپے کے گھپلے اور فراڈ سے متعلق توہین عدالت کی درخواست پر ڈی جی نیب کراچی کو 29 اکتوبر کو طلب کر لیا۔
کیس میں درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ نیب حکام نے عدالتی احکامات کو نظر انداز کیا ہے۔ عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کرنا توہین عدالت ہے۔ وکیل نے استدعا کی کہ توہین عدالت کرنے والی نیب انتظامیہ کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا جائے۔
واضح رہے کہ درخواست گزاروں میں محمد کامران اور علی نقوی سمیت دیگر شامل ہیں۔ انہوں نے 2019 سے 2021 کے درمیان ہاؤس، کار فنانسنگ اور دیگر شعبوں میں انویسٹمنٹ کی تھی۔ یہ درخواستیں 302 جعل ساز کمپنیوں کے خلاف دائر کی گئی ہیں، جن کے مطابق نہال خان، شمشاد نیاز خان اور دیگر نے مبینہ طور پر درخواست گزاروں سے فراڈ کیا ہے۔
یاد رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے 2021 میں مبینہ طور پر کروڑوں روپے کے فراڈ کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل