Loading
البانیہ کے دارالحکومت تیرانا میں حکومت مخالف پُرتشدد مظاہرے چھٹے روز بھی جاری رہے، جہاں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔
وزیراعظم ایڈی راما نے مظاہرین کا استعفے کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ عہدہ چھوڑنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔
جاری احتجاج میں طلبہ یونیورسٹیوں کی خراب صورتِ حال، بھاری ٹیوشن فیسوں اور بدعنوانی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
اتوار کو دوپہر کے وقت سینکڑوں مظاہرین وزارتِ تعلیم کے باہر جمع ہوئے اور ’’راما مستعفی ہو‘‘ کے نعرے لگائے۔ اس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی برقرار رہی۔
مظاہروں کے دوران بعض افراد نے سڑکوں پر رکھے کوڑے دانوں کو آگ لگا دی، راستے میں کھڑکیاں توڑیں اور حکمران سوشلسٹ پارٹی کے ہیڈکوارٹر کو بھی نقصان پہنچایا۔ مظاہرین کی جانب سے پولیس پر پتھر اور آتش گیر بوتلیں پھینکنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
وزیراعظم ایڈی راما نے ایک ویڈیو بیان میں مستعفی ہونے سے انکار کرتے ہوئے احتجاج کو بیرونی ہاتھ کا کام قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلسل مظاہرے صرف ان کی حکومت کے لیے نہیں بلکہ البانیہ کی یورپی یونین میں شمولیت کی کوششوں کے لیے بھی خطرہ ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، ہفتے کے روز تیرانا میں تشدد کی شدت مزید بڑھ گئی تھی۔ مظاہرین نے پولیس پر پتھر، دھاتی اشیا اور آتش بازی کے آلات پھینکے، جبکہ گاڑیوں اور کوڑے دانوں کو آگ لگا کر پولیس کی پیش قدمی روکنے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کیں۔
البانیہ میں امریکی سفارت خانے نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پُرامن راستہ اختیار کریں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل