Thursday, October 22, 2026
 

2 ارب ڈالر کی ایل این جی درآمد کا فیصلہ تاخیرکا شکار

 



حکومت نے سردیوں میں گیس کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کیلیے تقریباً 2 ارب ڈالر مالیت کی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) درآمدکرنے کا فیصلہ تاحال مؤخرکررکھا ہے،حالانکہ پیٹرولیم ڈویژن نے گیس کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور ممکنہ قلت کے باعث عوامی بے چینی سے بچنے کے لیے اکتوبر کے پہلے ہفتے میں درآمدی عمل شروع کرنے کی سفارش کی تھی۔ حکام کے مطابق کابینہ کمیٹی برائے توانائی نے تاحال پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے پیش کردہ گیس لوڈمینجمنٹ سمری پر غور نہیں کیا، جس میں مجموعی طور پر 22 ایل این جی کارگوزدرآمدکرنے کی اجازت طلب کی گئی تھی۔ ان میں سے بعض کارگوز امریکا اور آذربائیجان سے حاصل کرنے کی تجویز بھی شامل تھی۔ پیٹرولیم ڈویژن نے گزشتہ ماہ پاور سیکٹر اصلاحات کے ٹاسک فورس اور نیشنل کوآرڈینیشن اینڈ مینجمنٹ کونسل سے مشاورت کے بعد یہ سمری تیارکی تھی۔ منصوبے کے تحت 12 کارگوزکی درآمد کے انتظامات 7 سے 10 اکتوبر تک شروع کیے جانے تھے، تاہم مقررہ مدت گزرنے کے باوجودکوئی باضابطہ فیصلہ نہیں ہوسکا۔ پیٹرولیم وزیر علی پرویز ملک نے بتایاکہ معاملہ سی سی او ای کے فیصلے کامنتظر ہے۔ وزیراعظم بھی گیس کی ضروریات اور درآمدی مقدارکاتعین کرنے کیلیے اجلاسوں کی صدارت کرچکے ہیں۔ حکومت کو طویل مدتی معاہدے کے تحت قطر سے کم از کم 11 ایل این جی کارگوز ملنے کی توقع تھی،مشرق وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث قطر نے نومبر تک فورس میجرکی مدت بڑھادی ہے، جس سے طے شدہ گیس کی فراہمی متاثر ہونے کاخدشہ ہے۔ حکام کے مطابق، اگرچہ 22 کارگوز درآمدکرنے کی ضرورت پر اتفاق پایاجاتا ہے، تاہم ایک رائے یہ بھی ہے کہ صرف 15 کارگوز درآمدکیے جائیں۔ ماہرین اور متعلقہ حکام کے نزدیک اس صورت میں سردیوں کے عروج پرگیس کی قلت مزیدشدت اختیارکرسکتی ہے۔ سرکاری عہدیدار کے مطابق، درآمدی گیس کی بھاری لاگت فیصلے میں تاخیرکی بڑی وجہ ہے۔ فی کارگو اوسطاً 8 کروڑ 70 لاکھ ڈالر لاگت آنے کے باعث نومبر سے فروری تک گیس کی ضروریات پوری کرنے کیلیے تقریباً 2 ارب ڈالردرکار ہونگے۔ حکومت نے ابتدامیں ایل این جی درآمدکرنے کی لاگت تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر لگائی تھی،جس میں قطرسے تقریباً 12 ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹ کے حساب سے گیس حاصل کرنے کاتخمینہ شامل تھا، تاہم، قطر سے فراہمی غیر یقینی ہونے کے باعث اب اسپاٹ مارکیٹ سے مہنگی گیس خریدنے کاامکان بڑھ گیاہے۔ رپورٹ کے مطابق سرکاری زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر 21 ارب ڈالرسے کچھ زیادہ ہیں، حکومت نے یورو بانڈزکے ذریعے 3 ارب ڈالر قرض بھی حاصل کیا،جس کے بعداسی مالیت کی بڑی قرض ادائیگی درپیش ہے۔ اقتصادی امور ڈویژن کی رپورٹ کے مطابق،جولائی سے ستمبرکے دوران پاکستان کو بیرونی قرضوں کی مدمیں 5۔4 ارب ڈالر موصول ہوئے، جن میں یورو بانڈز بھی شامل ہیں۔ دیگر ذرائع سے مالی معاونت محدود ہونے کے باعث ایل این جی کی درآمدکیلیے وسائل کاانتظام اہم چیلنج بن گیاہے۔ پیٹرولیم ڈویژن نے سفارش کی ہے کہ گھریلوصارفین کو صبح 5 بجے سے رات 10بجے تک گیس کی مسلسل فراہمی ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنائی جائے اورکھانا پکانے کے اوقات میں مناسب پریشر برقراررکھاجائے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل