Thursday, October 22, 2026
 

جعلی ڈگری میں فوجداری کارروائی سے متعلق کیس میں جمشید دستی کی ضمانت میں 4 نومبر تک توسیع

 



سپریم کورٹ نے جعلی ڈگری کے معاملے میں فوجداری کارروائی سے متعلق کیس میں جمشید دستی کی ضمانت میں 4 نومبر تک توسیع کر دی۔ سپریم کورٹ نے وفاق سمیت تمام صوبوں سے جمشید دستی کے مقدمات کا ریکارڈ طلب کرلیا، عدالت نے قرار دیا جائزہ لیں گے کہ یہ کیس دو رکنی بنچ سن سکتا ہے یا نہیں،کیس کی سماعت 4 نومبر تک ملتوی کردی گئی۔ جسٹس ملک شہزاد احمد کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے سماعت کی، وکیل پنجاب حکومت نے کہا جمشید دستی کیخلاف مقدمات کا ریکارڈ جمع کرا دیا ہے،جمشید دستی کیخلاف پنجاب میں 47 مقدمات درج ہیں. جمشید دستی کے وکیل نے کہا 2 ہزار روپے والا نوکیا موبائل چوری کرنے کا بھی مقدمہ درج ہے۔ جسٹس عقیل عباسی نے کہانیاں بھینس چوری کے بھی تو مقدمات درج ہوتے ہیں،اس ملک میں تماشا بنا ہوا ہے ہم کس طرف جارہے ہیں، ہماری عدالتیں دنیا میں 136ویں نمبر پر ہیں،ایک شخص کیخلاف مختلف صوبوں میں 100 سے زائد ایف آئی آرز درج ہوجاتی ہیں۔ اس طرح کی حرکات پر لوگ ہنستے ہیں، جمشید دستی پر انفیکشن پھیلانے کا بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے، کیا جمشید دستی بیماریوں کو پھیلاتے ہیں، اپنے نظام کا ہم خود مذاق بناتے ہیں، اتنے مقدمات درج کر دیئے جاتے ہیں کہ ساری زندگی وہ شخص بھگتتا رہے۔ جسٹس شہزاد ملک نے کہا جمشید دستی ممبر پارلیمنٹ رہے ہمارے لیے قابل احترام ہیں، جب اقتدار میں ہوتے ہیں مخالف کی گرفتاری پر خوش ہوتے ہیں، اپوزیشن میں آکر عدالتوں کی طرف بھاگتے ہیں۔ جمشید دستی نے کہا میں جنوبی پنجاب سے ہوں عوام کیلئے جہاد کیا آواز اٹھائی،مجھے میری جماعت نے بھی شوکاز نوٹس جاری کیے۔ جسٹس شہزاد ملک نے کہا آپ کیخلاف مقدمات دیکھ کر بھی لگتا ہے جہادی ہیں ،دیکھنا ہوگا کہ یہ کیس ہم سن سکتے یا تین رکنی بنچ کو بھجوائیں، عدالت نے قرار دیا الیکشن کمیشن، وفاق اور تمام صوبے 10 روز میں مقدمات کا ریکارڈ جمع کرائیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل