Loading
پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسف زئی نے وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کرک میں دہشت گردی کے واقعے کی شدید مذمت کرتی ہے، ڈی ایس پی اور ایس ایچ او سمیت پولیس کے چار اہلکاروں کی شہادت پر پورا صوبہ سوگوار ہے۔
شوکت یوسف زئی نے شہدا کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کا اداروں کے ساتھ کوئی ٹکراؤ نہیں، پی ٹی آئی دہشت گردی کے خلاف جنگ سے پیچھے نہیں ہٹے گی اور نہ ہی اس کا دہشت گردوں سے کوئی تعلق ہے۔ وزرا کو بیانات دیتے وقت احتیاط برتنی چاہیے، پی ٹی آئی پر جتنے الزامات لگائے گئے ہیں، بہتر ہوتا کہ ان کے ثبوت بھی پیش کیے جاتے۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے ملک کے دفاع پر کبھی سمجھوتا نہیں کیا اور جب بھی ضرورت پڑی، پی ٹی آئی اداروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہوئی۔ تحریک انصاف کو مائنس نہیں کیا جاسکتا، آج بھی مقبول جماعت ہے، شک ہے تو آزادانہ اور شفاف انتخابات کرا کر دیکھ لیں، حقیقت سامنے آ جائے گی۔
شوکت یوسف زئی نے کہا کہ گورنر صاحب صرف پریس کانفرنسوں سے کام نہیں چلے گا، انہیں پشاور میں بیٹھ کر پریس کانفرنس کرنے کے بجائے شہدا کے جنازے میں شرکت کرنی چاہیے تھی۔ 12 دن گزر چکے ہیں، اب یہ کریں گے، وہ کریں گے کے بیانات سے نکل کر عملی اقدامات بھی کریں۔
انہوں نے کہا کہ الزامات کا سلسلہ اب ختم ہونا چاہیے کیونکہ اب جواب آپ نے دینا ہے۔ ہمیں تو فنڈز کا مسئلہ تھا، آپ کو تو یہ مسئلہ بھی نہیں، وفاق نے جو پیسے ہمیں دینے تھے، اب وہ آپ کو ملنے لگے ہیں۔
پی ٹی آئی ترجمان نے پارٹی میں اختلافات کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے فیصلوں کو غلط رنگ نہ دیا جائے۔ پوری پارٹی بیرسٹر گوہر کی قیادت میں متحد ہے اور قومی و صوبائی اسمبلی کے ارکان نے ہمیشہ پارٹی کا ساتھ دیا ہے۔
شوکت یوسف زئی نے واضح کیا کہ صوبائی تنظیم میں کوئی ردوبدل نہیں ہو رہا اور جنید اکبر ہی صدر رہیں گے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل