Friday, October 23, 2026
 

ممتاز صحافی و ادیب ابراہیم جلیس

 



12 اگست 1924 کو محمد احمد حسین کے گھر جنم لینے والے نومولود کا نام ابراہیم حسین تجویز ہوا، اگرچہ اس خاندان کا آباد تعلق عثمان آباد حیدرآباد دکن سے تھا، البتہ ابراہیم حسین کی ولادت بنگلور میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم گلبرگہ سے حاصل کرنے والے ابراہیم حسین نے 18 برس کی عمر میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے 1942 میں گریجویشن کیا۔ گریجویشن کرنے کے بعد ابراہیم حسین نے سول سپلائی کے محکمے میں ملازمت اختیار کر لی۔ ابراہیم حسین المعروف ابراہیم جلیس کی حقیقی شناخت البتہ صحافت، ادارت، کالم نویسی اور افسانہ نگاری میںبنی ان کی گرانقدر ادبی خدمات ہیں۔ ادب سے تعلق انھوں نے حصول تعلیم کے دوران ہی قائم کر لیا تھا۔ ان کا اولین افسانہ ماہنامہ ساقی و دوسرا افسانہ ماہنامہ نگار میں چھپے۔ خوش قسمت ابراہیم جلیس کے ان دو افسانوں کی اشاعت کے ساتھ ہی ان کی ادبی حلقوں میں شناخت بن چکی تھی۔ زرد چہرے ان کے افسانوں کا مجموعہ تھا، لیکن جب 1944 میں فقط 20 برس کی عمر میں ان کی کتاب ’’چالیس کروڑ بھکاری‘‘ منظر عام پر آئی تو ان کی شہرت پورے برصغیر میں پھیل گئی۔ چالیس کروڑ بھکاری 14 افسانوں پر مشتمل کتاب ہے اور آج بھی ذوق و شوق کے ساتھ پڑھی جاتی ہے۔ اس کے بعد افسانوں کا مجموعہ تکونا دیس ،چور بازار ، کچھ غم جاناں ،کچھ غم دوراں افسانوں کا مجموعہ منظر عام پر آنے والی ان کی تخلیقات ہیں۔ نوجوانی میں ہی ترقی پسند نظریات سے متاثر ہونے والے ابراہیم جلیس کا خیال تھا کہ ترقی پسندی نظریات اپنی جگہ لیکن اپنی روایات کا بھی خیال رکھنا ہوگا اور بزرگوں کی توہین ناقابل برداشت عمل ہے ۔  1946 میں ان کی شادی کر دی گئی فقط 22 برس کی عمر میں، اس زمانے میں قیام پاکستان و برصغیر کی آزادی کی تحریک کا نقطہ عروج تھا چنانچہ قیام پاکستان و سقوط حیدرآباد دکن کے بعد وہ 1948 میں پاکستان تشریف لے آئے اور لاہور میں بود و باش اختیار کر لی۔ 1949 میں ان کا سفر نامہ’’ دو ملک ایک کہانی‘‘ منظر عام پر آیا، اس کے بعد پتے کی بات، نیکی کر تھانے جا، ہنسے اور پھنسے ان کی تحریر کردہ کتب ہیں البتہ ہنسے اور پھنسے وہ کتاب تھی جسے لکھنے پر ان کو جیل جانا پڑا بلکہ اسیری ہوئی مگر حقیقی ادیب کی حقیقی قوت اس کا قلم ہوتا ہے چنانچہ ابراہیم جلیس نے اسیری کے دوران بھی قلم سے ناتا قائم رکھا اور جیل میں ہی’’ جیل کے دن جیل کی راتیں‘‘ نامی کتاب لکھ ڈالی۔ یہ کتاب بھی کافی پسند کی گئی اس کتاب میں انھوں نے جیل میں اسیر لوگوں کی مشکلات کا بڑی تفصیل سے ذکر کیا۔ انھوں نے جیل میں قیدیوں پر ہونے مظالم و قیدیوں کی اسیری کے دوران مشکلات کے ساتھ ساتھ جیل میں ہونے والی اخلاقی برائیوں کا ذکر بھی اس کتاب میں کیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کتاب کا نیا ایڈیشن موجودہ دور میں شائع کیا جائے کیونکہ جیل میں مقید قیدیوں کے مسائل میں کمی نہیں آئی بلکہ اضافہ ہی ہوا ہے۔ جیل سے رہائی کے بعد بچوں کے رسالے ساتھی کے ادارہ تحریر سے وابستہ ہو گئے۔ پھر کچھ ہی عرصے بعد وہ روزنامہ امروز کے سب ایڈیٹر کی حیثیت سے کام کرنے لگے وہاں کام کرنے والوں میں نامور ترین قلم کار احمد ندیم قاسمی صاحب پہلے سے موجود تھے گویا ابراہیم جلیس کو ان کے ساتھ کام کرنے و سیکھنے کا موقعہ مل گیا جبکہ بعدازاں وہ روزنامہ انجام، روزنامہ مساوات اور روزنامہ حریت کے لیے وہ کام کرتے اور لکھتے رہے البتہ لاہور میں چار برس قیام کے بعد 28 سالہ ابراہیم جلیس کراچی منتقل ہو گئے۔ یہ ذکر ہے 1952 کا کیوں کہ ہندوستان سے ان کے بھائی یوسف حسین بھی پاکستان آ چکے تھے جن سے مشاورت و مرضی سے دونوں بھائیوں نے کراچی میں رہائش پذیر ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔ انھوں نے صحافتی زندگی میں روس، چین، امریکا، ایران و دیگر ممالک کے بھی دورے کیے، اپنے ان ممالک کے دوروں کی روداد کو سفرنامہ امریکا سفر نامہ روس و سفرنامہ ایران وغیرہ تحریر کیے۔ ابراہیم جلیس ایک حساس دل رکھنے والے انسان تھے۔ یہی باعث تھا کہ وہ مظلوم، محروم و عدم مساوات کے باعث مسائل کا شکار لوگوں کی حالت زار دیکھتے تو افسردہ ہو جاتے ۔ یہی وجہ تھی کہ انھوں نے اپنا قلم ایسے لوگوں کے لیے وقف کر دیا تھا وہ اپنی تحریروں کے ذریعے لوگوں کو بیدار کرنے کی کوشش کرتے اگر ان کی کتاب چالیس کروڑ بھکاری پڑھیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے انھوں نے 1944 کی برصغیر کی کل آبادی کو بھکاری کہا ہے لیکن درحقیقت ان کا مقصد یہ تھا کہ برصغیر کے لوگو! اٹھو آزادی کی تحریک کا حصہ بنوں کیونکہ اس وقت قیام پاکستان و برصغیر کی آزادی کی تحریک اپنے نقطہ عروج پر تھی۔ ابراہیم جلیس کی نظر میں غلام ہونا بھکاری سے زیادہ ذلت والی بات ہے۔  ان کے تخلیق کردہ زندہ کردار ہوتے تھے جوکہ قاری کو اپنے ارد گرد گویا نظر آتے تھے ،یہ ضرور تھا کہ وہ ہلکے پھلکے انداز میں گہری سے گہری بات کر جاتے تھے۔ بہرکیف ابراہیم جلیس جنھوں نے اپنی زیست کا سفر 12 اگست 1924 کو بنگلور سے شروع کیا تھا۔ 26 اکتوبر 1977 کو بروز منگل اس جہان فانی سے 53 برس دو ماہ 15 یوم کی عمر میں کوچ کر گئے اور کراچی میں آسودہ خاک ہو گئے۔ وقت گزرتا رہا، آج ان کی وفات کو 49 برس بیت گئے اور 26 اکتوبر کو ان کی 49 ویں برسی ہے۔ ہم اس موقع پر ابراہیم جلیس کو دل کی گہرائی سے خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ، بلاشبہ وہ ہر دور کے ادیب ہیں۔ کسی نے ابراہیم جلیس کو ان خوبصورت الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا تھا کہ  وہ گلِ برگ دکن خاکِ دانش کا سجن تھا جسے عثمانیہ نے رنگ و بُو بخشا وہ ایسی سرزمیں کا سا نو اہل قلم تھا جس کی خوشبو سے گلستانِ دکن باغ ارم تھا بہاروں میں چمن اجڑا کچھ ایسا فسانہ بن گیا صرف جنوں بھی قلم لکھتا رہا ایسی کہانی جس کا لہجہ زہر میں ڈوبا ہوا تھا اسے جس نے پڑھا جب بھی پڑھا ہے خرد مندوں کے حق میں تازیانہ ہی لگا اسلوب فن اس کا قلم کیا چھینتے طوق و سلاسل وہ جیتا سب ہارے وہ افسانہ کہ ملکوں کی کہانی بن گیا نہ مٹنے والی اک کہانی بن گیا

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل