Loading
جب کسی خطے میں بندوق کی آواز معمول کی زندگی کو نگلنے لگے، بازاروں کی رونق خوف کی نذر ہو جائے اوردہشت گردی کے واقعات رونما ہونے لگیں تو مسئلہ محض امن و امان کی خرابی کا نہیں رہتا، بلکہ ریاستی اختیار، قومی سلامتی اور اجتماعی مستقبل کے تحفظ کا بن جاتا ہے۔ خیبر پختونخوا آج اسی نازک دوراہے پر کھڑا ہے، جہاں ایک طرف دہشت گردی کے منظم نیٹ ورکس ریاستی رِٹ کو چیلنج کر رہے ہیں اور دوسری جانب سیاسی کشمکش، انتظامی کمزوریاں اور عوامی محرومیاں صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پشاور میں وفاقی ایپکس کمیٹی کا اجلاس اور خیبر پختونخوا کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے ایک سو ساٹھ ارب روپے فراہم کرنے کا اعلان، ان دونوں تقاضوں کو یکجا کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
وزیراعظم کا یہ عزم کہ صوبے کو جلتا ہوا چھوڑ کر خاموش تماشائی نہیں بنا جا سکتا، اپنی جگہ ایک واضح سیاسی پیغام رکھتا ہے،حکومت پرعزم ہے تاکہ اس کی کوششوں اور قربانیوں کے اثرات میدانِ عمل میں نمایاں ہوں ۔ حکومت اور ریاستی ادارے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کر رہے۔دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے تمام ریاستی اداروں کے درمیان موثر اشتراک، انٹیلی جنس نظام کی بہتری، سرحدی نگرانی، مالی وسائل کی فراہمی اور دہشت گردوں کے معاون ڈھانچوں کا مکمل انسداد ضروری ہے۔
قومی سطح پر نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے عزم کا اعادہ اسی لیے اہم ہے کہ دہشت گردی کو کسی ایک ضلع، جماعت یا ادارے کا مسئلہ نہیں قرار دیا جا سکتا۔ یہ پورے ملک کے امن، معاشی استحکام اور آئینی نظم کے لیے خطرہ ہے۔ دہشت گرد گروہ صرف ہتھیاروں کے بل پر اپنی سرگرمیاں جاری نہیں رکھتے،انھیں مالی معاونت، محفوظ پناہ گاہوں، نقل و حرکت کے ذرائع، اطلاعاتی سہولتوں اور بعض اوقات مقامی اثرورسوخ سے بھی تقویت ملتی ہے۔ چنانچہ فیصلہ کن حکمت عملی کا تقاضا ہے کہ کارروائی کا دائرہ مسلح عناصر تک محدود نہ رہے، بلکہ ان کے مالی ذرائع، سہولت کاروں، بھرتی کے نظام اور ابلاغی نیٹ ورکس کو بھی قانون کے مطابق بے اثر بنایا جائے۔ اس ضمن میں شواہد، شفاف تحقیقات اور عدالتی کارروائی کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے، کیونکہ پائیدار امن طاقت اور قانون کے امتزاج ہی سے جنم لیتا ہے۔
یہاں ان سیاسی حلقوں سے بھی ایک بنیادی سوال پوچھنا ضروری ہے جو دہشت گردی کے مسئلے کا حل بار بار مذاکرات میں تلاش کرتے ہیں اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت سے کسی قسم کی معاونت اور اظہار یک جہتی نہیں کرتے۔ مذاکرات بذاتِ خود کوئی ممنوع راستہ نہیں۔ دنیا کی تاریخ میں تنازعات کے خاتمے کے لیے سیاسی مکالمے نے اہم کردار ادا کیا ہے، لیکن مکالمہ اور دہشت گردی کے سامنے بے بسی اختیار کر لینا دو مختلف تصورات ہیں۔
ریاست ایسے عناصر کے ساتھ کس بنیاد پر بات چیت کرے جو شہریوں، پولیس اہلکاروں اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتے ہوں، قانون کو تسلیم نہ کرتے ہوں اور کسی معاہدے کی پابندی کو اپنی ضرورت کے مطابق بدلتے رہیں؟ ماضی کے تجربات نے یہ سبق دیا ہے کہ غیر واضح شرائط، کمزور نگرانی اور غیر یقینی ضمانتوں پر مبنی معاہدے دہشت گردی کے مستقل خاتمے کی ضمانت نہیں بن سکتے۔ بعض گروہ مذاکراتی عمل سے فایدہ اٹھا کر دوبارہ منظم ہوئے، جبکہ ذمے داری ایک دوسرے پر ڈالنے کی روش نے جواب دہی کو دشوار بنایا۔اس لیے اصل بحث مذاکرات کے مطلق انکار یا غیر مشروط حمایت کی نہیں، بلکہ ریاستی اختیار اور قومی سلامتی کے تحفظ کی ہے۔
کسی بھی ممکنہ سیاسی عمل کی بنیاد تشدد سے دست برداری، آئین و قانون کی پابندی، قابلِ تصدیق ضمانتوں اور متاثرین کے حقوق کے احترام پر ہونی چاہیے، جو گروہ ہتھیار اٹھا کر ریاست اور شہریوں کو یرغمال بنانا چاہیں، ان کے لیے محض سیاسی وابستگی یا نظریاتی ہم دردی کی بنیاد پر نرم رویہ اختیار کرنا قومی مفاد سے انحراف ہوگا۔ امن کا دروازہ کھلا رکھنے اور دہشت گردی کے سامنے ریاستی عزم برقرار رکھنے میں تضاد نہیں، البتہ اس توازن کے لیے غیر متزلزل عمل درآمد ناگزیر ہیں۔
خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومت کی معطلی اور گورنر راج کے نفاذ کو بھی اسی وسیع تر تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ کسی بھی غیر معمولی آئینی اقدام کی صحت کا تعین سیاسی نعروں سے نہیں، بلکہ آئینی جواز، قانونی تقاضوں، دستیاب شواہد اور اس اقدام کی ضرورت و تناسب سے ہوتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف قومی اتفاقِ رائے مضبوط بنانا ہوگا۔ سیاسی وابستگی کو ملکی سلامتی پر ترجیح نہیں دی جا سکتی۔ خیبر پختونخوا کے باسیوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں، اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھائی ہیں، کاروبار اور گھر بار چھوڑے ہیں اور نقل مکانی کی اذیت برداشت کی ہے۔ ان شہریوں کو قومی تعمیر کے برابر کے شریک کے طور پر دیکھنا ہوگا۔
وفاقی حکومت کی جانب سے ایک سو ساٹھ ارب روپے کے ترقیاتی وسائل کی فراہمی اسی اعتبار سے اہم ہے، مگر اصل امتحان یہ ہے کہ یہ رقم کن منصوبوں پر، کن مدتوں میں اور کس نگرانی کے تحت خرچ ہوتی ہے، اگر وسائل سیاسی ترجیحات، ناقص منصوبہ بندی، بدعنوانی یا غیر ضروری منصوبوں کی نذر ہوگئے تو اعلان کا حجم عوام کی محرومی کم نہیں کرسکے گا۔ترقیاتی منصوبوں کے انتخاب میں ان علاقوں کو ترجیح ملنی چاہیے جہاں دہشت گردی نے معاشی سرگرمیوں، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ قبائلی اضلاع اور جنوبی خیبر پختونخوا کے لیے روزگار، معیاری تعلیم، طبی مراکز، سڑکوں، صاف پانی اور نوجوانوں کی فنی تربیت پر سرمایہ کاری محض فلاحی اقدام نہیں، بلکہ امن کے استحکام کی حکمت عملی بھی ہے۔ محرومی بذاتِ خود دہشت گردی کا جواز نہیں، لیکن محروم معاشروں میں بہتر روزگارکی غیر موجودگی اور مواقع کی کمی انتہا پسند عناصر کو اثرورسوخ بڑھانے کی گنجائش فراہم کرسکتی ہے۔
اس لیے ترقیاتی اخراجات کا حساب عوام کے سامنے ہونا چاہیے، منصوبوں کی پیش رفت باقاعدگی سے شائع کی جائے اور مقامی نمائندوں و شہریوں کو نگرانی کے عمل میں شریک کیا جائے۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کور ہیڈ کوارٹرز پشاور کا دورہ، سیکیورٹی صورتِ حال اور انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کا جائزہ، نیز فوجی دستوں کے بلند حوصلے اور پیشہ ورانہ تیاری کو سراہنا، اس امر کی اہمیت اجاگر کرتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مستعدی اور تسلسل بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی جانب سے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار بھی واضح پیغام ہے کہ ریاست شہریوں کے تحفظ سے دست بردار نہیں ہوگی۔
حکومت قومی کامیابی کے لیے عسکری کارروائیوں کے ساتھ پولیس، محکمہ انسدادِ دہشت گردی، سول انتظامیہ اور عدالتی نظام کی صلاحیت کو بڑھانے پر بھی توجہ دے رہی ہے۔ پولیس اہلکاروں کو جدید آلات، محفوظ مواصلاتی نظام، بروقت معلومات، مناسب تربیت اور مؤثر حفاظتی انتظامات فراہم کیے بغیر ان سے ہر خطرے کا مقابلہ کرنے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ کرک کا سانحہ اس ضمن میں فوری اور سنجیدہ جائزے کا تقاضا کرتا ہے۔جنوبی خیبر پختونخوا میں منشیات کے کھلے عام استعمال، اسمگلنگ اور غیر قانونی اسلحے کے خلاف شہریوں کی اپیل بھی امن کے تصور کو وسیع کرنے کی دعوت دیتی ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، لکی مروت اور بنوں میں قانون کی یکساں عمل داری یقینی بنانا ضروری ہے۔ منشیات کے کاروبار میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کے ساتھ نشے کے عادی افراد کے لیے علاج، بحالی اور سماجی معاونت کا انتظام بھی ہونا چاہیے۔ نوجوان نسل کو محفوظ مستقبل دینا صرف گرفتاریوں سے نہیں، بلکہ تعلیم، روزگار، کھیلوں اور مثبت سرگرمیوں کے فروغ سے ممکن ہوگا۔
شہریوں کی جانب سے یہ اطلاع کہ دھرنوں اور احتجاجی سرگرمیوں میں کمی کے بعد کاروباری سرگرمیاں بحال ہوئی ہیں، اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ امن اور سیاسی استحکام کا براہِ راست تعلق معاشی زندگی سے ہے۔ تاہم کاروبار کی بحالی کو مستقل کامیابی تبھی کہا جاسکتا ہے جب تاجروں کو تحفظ، سرمایہ کاروں کو اعتماد اور عام آدمی کو مہنگائی سے حقیقی ریلیف میسر آئے۔ روزمرہ زندگی کی مشکلات کو نظرانداز کرنا عوامی اعتماد کو کمزور کرسکتا ہے۔ وفاقی اور صوبائی انتظامیہ کو اشیائے ضروریہ کی قیمتوں، روزگار کے مواقع اور مقامی منڈیوں کی بحالی کے لیے قابلِ پیمائش اقدامات کرنے چاہئیں۔
وقت کا تقاضا یہ ہے کہ قومی قیادت سیاسی محاذ آرائی سے بالاتر ہو کر دہشت گردی کے خاتمے، عوامی فلاح اور آئینی استحکام کو مشترکہ ترجیح بنائے۔ حکومت کی ذمے داری ہے کہ اپنے فیصلوں کو قانون، شفافیت اور جواب دہی کے تابع رکھے؛ دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر کارروائیاں جاری رکھیں؛ اور سیاسی جماعتیں اس قومی جدوجہد کو جماعتی مفادات کی نذر نہ ہونے دیں۔ پرامن شہری زندگی کے لیے محفوظ بستیاں، فعال تعلیمی ادارے، بحال کاروبار، بے خوف شہری اور قانون پر اعتماد بھی لازم ہے۔ شہدا کے لہو کا حقیقی حق یہی ہے کہ ان کی قربانیاں ایک ایسے پاکستان کی بنیاد بنیں جہاں بندوق کے بجائے قانون کی حکمرانی ہو، خوف کے بجائے امید پروان چڑھے اور خیبر پختونخوا کی وادیاں پھر سے امن، روزگار اور خوش حالی کی علامت بن سکیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل