Friday, October 23, 2026
 

ٹیکسٹائل مصنوعات کی قدر میں اضافے کی ضرورت

 



پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات کا حجم بتاتا ہے کہ یہ شعبہ قومی معیشت کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، تاہم برآمدات کی اصل قوت جانچنے کے لیے یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ملک اپنی پیداوار میں کتنی مقامی قدر شامل کر رہا ہے۔ کپاس برآمد کرنا بے شک ایک معاشی سرگرمی ہے، دھاگہ تیار کرنا اس سے آگے کا مرحلہ ہے، کپڑے کی تیاری، رنگائی، ڈیزائننگ، سلائی، پیکنگ اور اپنے برانڈ کا نام ہو، اس کے تحت عالمی منڈی میں فروخت کرنا قدر میں مزید اضافے کے امکانات پیدا کر دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ دھاگہ برآمد کرنا بے فایدہ ہے، بعض اوقات یہ مصنوعات بھی منافع بخش تجارت کا حصہ ہوتی ہیں، لیکن طویل مدت میں پاکستان کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ زیادہ قدر والی مصنوعات میں سرمایہ کاری کے ذریعے برآمدی آمدنی کیسے بڑھائی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک ہی مقدار میں کپاس سے تیار ہونے والے مختلف درجوں کے سامان کی قیمت مختلف ہو سکتی ہے، اگر پاکستان جدید ٹیکنالوجی، بہتر معیار، ڈیزائن اور موٹر مارکیٹنگ کے ذریعے اپنی مصنوعات کی عالمی قیمت بڑھا سکتا ہے تو ایسی صورت میں اسے اپنی پیداواری صلاحیت سے زیادہ فایدہ حاصل ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے صنعتی تحقیق، تربیت یافتہ افرادی قوت، جدید مشینری، معیار کی جانچ، برانڈنگ اور عالمی خریداروں کے ساتھ طویل مدتی تجارتی تعلقات اہم ہیں۔ عالمی منڈی میں مقابلہ صرف اس بنیاد پر نہیں ہوتا کہ کون سستا کپڑا بناتا ہے۔ ایک وقت تھا اٹھارہویں صدی میں جب یہ دیکھا جاتا تھا کہ کسی شے کی تیاری میں کس ملک کو تخصیص حاصل ہے، یعنی اگر کپڑا ہے تو کون سا ملک ایسا ہے جہاں اس کا خام مال کپاس تیار ہوتا ہے اور اس بنا پر وہ سستا ترین کپڑا تیار کر سکتا ہے، لیکن اب معیار اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ معیار کے ساتھ بروقت ترسیل اور خاص طور پر پاکستان تمام تر خصوصیت کا حامل ہونے کے باوجود بروقت ترسیل کے کھاتے میں پیچھے چلا جاتا ہے کیونکہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور گیس کی لوڈ شیڈنگ، ہڑتال، ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال اور ملک گیر ہڑتال یا پھر بندرگاہ میں ہڑتال کے باعث بروقت روانگی ممکن نہیں ہوتی اور بعض اوقات بات آرڈر کینسل ہونے تک پہنچ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ مصنوعات کی یکسانیت، ماحول دوست پیداوار اور خریدار کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو۔  اب مسئلہ یہ ہے کہ جسے اکثر تجارتی اعداد و شمار میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے جیسے کہ ٹیکسٹائل برآمدات میں سہ ماہی بنیاد پر 5 فی صد اضافے کا جائزہ لیں تو یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ فیکٹری میں مشین چلانے کے لیے بجلی چاہیے، کپڑے کو رنگنے اور مختلف مراحل کے لیے توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ پانی اور کیمیکلز کی ضرورت ہوتی ہے۔ خام مال خریدنے کے لیے سرمایہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ برآمدی آرڈرز کی تکمیل کے لیے سرمایہ کی ضرورت ہوتی ہے، اگر پیداواری لاگت بڑھ جائے تو صنعتکار کے سامنے مشکل انتخاب آتا ہے منافع کم کرے، مصنوعات کی قیمت بڑھائے، پیداوار گھٹائے یا نئی سرمایہ کاری موخر کر دے۔ عالمی منڈی میں خریدار اضافی لاگت قبول نہیں کرتا۔ وہ دوسرے ممالک کے سپلائرز سے بھی قیمت اور معیار کا تقابل کرتا ہے کہیں سے اسے ذرا بھی فایدہ لگ رہا ہو اپنی خریداری کا رخ اس جانب موڑ دیتا ہے اور پہلے ہی کئی ملکوں کے صنعتکار اپنی پراڈکٹ لیے اس کے دروازے پر کھڑے ہوتے ہیں اور اسے بہترین پیکیج یا پیشکش کر رہے ہوتے ہیں لہٰذا پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمد کنندگان کے لیے توانائی کی مناسب قیمتوں اور بجلی گیس کی مستقل فراہمی، موثر ٹرانسپورٹ، آسان مالیاتی سہولیات ،ٹیکس کا نظام اور دیگر باتیں انتہائی اہم ہیں۔ پاکستان میں جو بھی صنعتی پالیسی بنائی جائے وہ کم از کم 5، 6 یا دس سال کے لیے ناقابل تبدیل ہو، اور صنعتکاروں، کاشتکاروں کے نمایندوں، ایکسپورٹرز اور حکومت کے قابل ترین معاشی حکام پر مشتمل ہو تاکہ پالیسی اصل لوگوں کی مرضی کے مطابق بنائی جائے اور برآمد کنندگان کو سہولیات کی فراہمی کے ساتھ اس کے نتائج کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے تاکہ نتائج حقیقی پیداوار، نئی سرمایہ کاری، روزگار اور برآمدی قدر میں اضافے سے منسلک ہو سکیں۔ اس کے علاوہ چھوٹے کاروباری لوگوں کو بھی جدید مشینری اور توانائی بچانے والی ٹیکسٹائل کے لیے مالی سہولیات فراہم کی جائیں۔ اس کے علاوہ ادائیگیوں میں تاخیر اور کاروباری سرمایہ کی کمی کے مسائل کم کرنے کے لیے بینکاری نظام کو زیادہ موثر بنایا جائے۔ مزدوروں کے تحفظ، مناسب اجرت، صحت اور پیشہ ورانہ تربیت کو صنعتی پالیسی کا لازمی حصہ بنایا جائے، ایسی پالیسی بنائی جائے جس سے صنعت اور مزدور کے مفادات میں ہم آہنگی پیدا ہو۔ رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں 5 ارب ڈالر سے زائد کی ٹیکسٹائل برآمدات کے ذریعے ڈالر کما لیے جوکہ گزشتہ مالی سال کے اسی مدت کے حساب سے تقریباً 249 ملین ڈالر زیادہ ہیں۔ یہ ایک خوش آئند بات تو ہے لیکن صرف اس رقم سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کر سکتے کہ غربت کم ہو گئی، مزدور کی اجرت بڑھ گئی اور اشیائے ضروریہ سستی ہو گئیں۔ البتہ برآمدات سے حاصل ہونے والے زرمبادلہ کے ذریعے بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کو بہتر بنایا جا سکتا ہے، لیکن اس کے لیے یہ رقم قطعاً ناکافی ہے۔ حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کی معیشت و تجارت میں ٹیکسٹائل کا شعبہ انتہائی اہم ترین ہے اور اس شعبے کے تحت زیادہ سے زیادہ زرمبادلہ اسی وقت کمایا جا سکتا ہے جب ٹیکسٹائل مصنوعات کی قدر میں اضافے کے عمل کو زور و شور سے جاری کیا جائے تاکہ ملک کی ٹیکسٹائل مصنوعات کا رخ قابل قدر اضافی ٹیکسٹائل برآمدات کی طرف ہو۔ جس طرح بنگلا دیش، ویتنام، تھائی لینڈ اور دیگر ملکوں نے ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمد پر بھرپور توجہ دی جس سے زیادہ سے زیادہ ڈالر کمانا ممکن ہو سکا۔ پاکستان کی ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمد میں تین ماہ کی کارکردگی سے صرف 5 فی صد کا اضافہ امید کے ایک دروازے کو کھولتا ہے لیکن اسے مکمل کامیابی قطعاً قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ٹیکسٹائل صنعت کی ترقی، پیداواری صلاحیت میں اضافے، سرمایہ کاری میں اضافے اور قدر میں اضافے کے لیے بھرپور فوری اقدامات اٹھائے کیونکہ ٹیکسٹائل مصنوعات کی قدر میں اضافہ کیے بغیر زیادہ سے زیادہ ڈالر کمانا ناممکن ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل