Friday, October 23, 2026
 

ایک انسانی کچرے کی کہانی

 



شائد آپ کی یادداشت میں ہو کہ دو ہزار سترہ میں میانمار کی فوجی حکومت نے بنگلہ دیش کی سرحد سے متصل رخائن صوبے میں دو صدیوں سے آباد مسلمان روہنگیا اقلیت کے خلاف ایک اور بھرپور کریک ڈاؤن شروع کیا اور فوج نے انتہاپسند بودھ مذہبی گروہوں کی مدد سے سیکڑوں بستیاں اجاڑ دیں ہزاروں اقلیتی افراد قتل ہوئے اور لگ بھگ سات لاکھ سے زائد انسانوں نے پیدل یا کشتیوں کے ذریعے بھاگ کر اپنی جان بچائی اور بعد میں بھی روہنگیوں کے غول کے غول اپنی بستیوں سے فرار ہوتے رہے۔ ان میں سے بارہ لاکھ سرحد پار بنگلہ دیش میں چٹاگانک کے پہاڑی علاقوں اور جزیروں میں بیٹھے ہیں اور ایک لاکھ ترانوے ہزار کو ملائشیا نے عارضی پناہ دے دی۔چند ہزار بھارت بھی پہنچے۔جہاں مودی حکومت نے انھیں کیمپوں میں زیرِ حراست رکھا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق گذشتہ برس بھارتی بحریہ نے لگ بھگ چالیس روہنگیوں کو دلی سے کسی بہتر جگہ منتقلی کا جھانسہ دے کر جہاز میں سوار کرایا اور میانمار کے ساحل کے نزدیک بیچ سمندر میں یہ کہہ کر پھینک دیا کہ اب تیرتے ہوئے اپنے گھر چلے جاؤ۔اس عجیب و غریب غیر انسانی واقعہ پر یو این ایچ سی آر نے تو تشویش ظاہر کی مگر دنیا کی کوئی حکومت چوں تک نہیں بولی۔ ان لاکھوں بے گھروں کی بنیادی دیکھ بھال اقوامِ متحدہ کا ہائی کمیشن برائے مہاجرین ( یو این ایچ سی آر ) کر رہا ہے۔ کچھ مدد میزبان ممالک کی کوئی نہ کوئی انسانی و فلاحی حقوق کی تنظیم کر دیتی ہے۔ کیمپوں میں رہنے والے روہنگیوں کو صرف سات ڈالر ماہانہ الاؤنس زندہ رہنے کے نام پر ملتا ہے۔ جن ہزاروں لوگوں نے جان بچانے کے لیے خود کو خستہ حال کشتیوں میں سمندر کے حوالے کر دیا ان میں سے پندرہ فیصد ڈوب گئے۔ روہنگیا دنیا میں شہریت سے محروم سب سے بڑا گروہ ہے۔میانمار کی حکومت انھیں اپنا نہیں مانتی اور میزبان ممالک اب تک ان سے تقریباً اکتا چکے ہیں اور انھیں مقامی معیشتوں پر ایک جبری غریب بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ اسلامی کانفرنس تنظیم اگرچہ سال بہ سال روہنگیوں سے ہمدردی جتاتی ہے مگر عملاً کچھ نہیں ہوتا۔بہت سال پہلے او آئی سی کے ایک افریقی رکن گیمبیا نے پیش کش کی کہ اگر مخیر مسلمان ممالک ٹرانسپورٹ کے اخراجات اٹھا لیں تو ہم ان بدقسمتوں کو اپنے ہاں بسانے پر آمادہ ہیں مگر کسی خوشحال ملک نے اس پیش کش کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ دنیا کا دستور ہے کہ پیسے ان طاقتوں یا شخصیات پر لٹائے جاتے ہیں جن سے بدلے میں سیاسی و اسٹرٹیجک فائدے کی امید ہو۔کنگلے روہنگیوں کا ہاتھ پکڑنے سے بھلا کسی کو کیا فایدہ پہنچ سکتا ہے۔نفع نقصان کے اس بے مروت ترازو میں فلسطینی ایک صدی سے جھول رہے ہیں۔روہنگیا کس کھیت کی مولی ہیں ؟ شائد کسی کو یاد ہو کہ چار عشروں پہلے جب افغانستان میں داخل ہونے والی سوویت فوجوں کے مقابلے کا موثر بیانیہ بنانا تھا تو ہم نے ہر طرح کے افغان پناہ گزینوں کو سر آنکھوں پر بٹھایا۔آج حالات بدل گئے ہیں تو انسانی ہمدردی سے اٹی پرانی تقاریر بھی ردی ہو گئیں اور یہی پناہ گزیں قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن گئے۔ اب ایک آخری سہارا بین الاقوامی جرائم کی عدالت ہے جس میں روہنگیوں کے مسئلے پر گیمبیا کی ایک درخواست لگی ہوئی ہے۔امید ہے اگلے چند ماہ میں عدالت اس نتیجے پر پہنچ جائے گی کہ میانمار حکومت نسل کشی کی مرتکب ہوئی یا نہیں۔ ویسے میانمار پر نسل کشی کا جرم ثابت ہوجاتا ہے تو بھی کیا فرق پڑے گا۔نیتن یاہو کے وارنٹِ نکالے گئے تو امریکا نے الٹا عدالت کے ہی وارنٹ نکال دیے اور جو ممالک رسماً بین الاقوامی عدالت کے دائرہ کار کو تسلیم بھی کرتے ہیں انھوں نے افریقی آمروں ، کمپوچیائی نسل کش مجرموں اور سابق یوگو سلاویہ کے قاتلوں کو تو عالمی عدالت کے روبرو کرنے کی پرزور حمائیت کی مگر نیتن یاہو جیسے لوگ دھڑلے سے ان کی فضائی حدود سے گذر جاتے ہیں۔ جب عالمی گورنننس ، روایات اور نظامِ انصاف ٹوٹتا ہے تو شروع شروع میں بہت سے ممالک اور ادارے شور مچاتے ہیں۔ پھر اسی طوائف الملوکی میں خود بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ جب سے ٹرمپ انتظامیہ اور اسرائیل نے انٹرنیشنل سسٹم کو جوتے کی نوک پر رکھا اس کے بعد ہر ملک اپنے سیاسی ، اقتصادی و علاقائی مفاد کو پہلے اور انسانیت کو بعد میں دیکھ رہا ہے۔  کل تک میانمار کی فوجی جنتا پر جمہوریت کے اغوا اور نسل کشی کے الزامات لگ رہے تھے اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی گیارہ ریاستی تنظیم آسیان نے شہری حقوق کی بحالی اور خانہ جنگی کے خاتمے تک میانمار کی رکنیت معطل کر رکھی تھی۔امریکا نے بھی اس حکومت کو اچھوت قرار دے رکھا تھا اور بین الاقوامی ادارے بھی اسے گھاس نہیں ڈال رہے تھے۔مگر اب سب بدل گیا ہے۔  وہی صدر سابق جنرل من آنگ ہلینگ جن پر نسل کشی کا الزام ہے اس ماہ کے شروع میں جب ملائشیا پہنچے تو وزیرِ اعظم انور ابراہیم نے ان کے استقبال کے لیے سرخ قالین بچھا کر گارڈ آف آنر پیش کیا۔ان کے دورے سے ہفتہ بھر پہلے ملائشیا کی حکومت نے ابتداً پانچ ہزار روہنگیا پناہ گزینوں کو میانمار واپس بھیجنے کا اعلان کیا۔ میانمار اگرچہ انھیں اپنا شہری تسلیم نہیں کرتا پھر بھی اس نے انھیں واپس لینے پر آمادگی ظاہر کر دی۔ حالانکہ اقوامِ متحدہ کے ہائی کمیشن برائے مہاجرین کا کہنا ہے کہ وہ اس واپسی کے لیے تعاون نہیں کر رہا کیونکہ اب بھی روہنگیوں کو میانمار میں جانی خطرہ ہے۔ تاہم میانمار کی اوپری رضامندی کے بدلے میں ملائشیا نے یقین دلایا کہ وہ اس کی آسیان اتحاد کی رکنیت بحال کرنے کی حمائیت کرے گا۔یہ رکنیت خانہ جنگی کے خاتمے کی خاطر پانچ نکاتی آسیان امن منصوبے پر عمل درآمد کے لیے میانمار کی فوجی جنتا کے عدم تعاون کے سبب پانچ برس سے معطل ہے۔ خانہ جنگی میں اب تک لاکھ سے زائد افراد ہلاک اور پینتیس لاکھ بے گھر ہو چکے ہیں۔جبکہ قومی رہنما آنگ سانگ سوچی سمیت ہزاروں سیاسی کارکن قید ہیں۔گذشتہ برس دسمبر میں ہونے والی انتخابی ڈرامے سے سرکردہ سیاسی جماعتوں کو باہر رکھا گیا۔اس کے بعد سے اب تک جنرل ہلینگ آسیان کے گیارہ میں سے پانچ ارکان (تھائی لینڈ ، ویتنام ، کموچیا ، لاؤس ، ملیشیا ) کا دورہ کر چکے ہیں۔نیز ان کا بھارت ، چین ، روس اور بیلاروس میں بھی استقبال ہو چکا ہے۔یہ چاروں طاقتیں میانمار کو ’’ علاقائی سلامتی و استحکام‘‘ کے نام پر اسلحہ بھی فراہم کرتی ہیں اور یہ اسلحہ اندرونِ ملک حکومت مخالفین کو دبانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔حال ہی میں رخائن صوبے میں بمباری سے پچاس سے زائد شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ امریکا بظاہر میانمار کی موجودہ حکومت سے لاتعلق ہے مگر وہاں پر قائم جعل ساز کال سینیٹرز کے ذریعے امریکی شہریوں کو ان کی جمع پونجی سے محروم کرنے کی سیکڑوں وارداتیں منظرِ عام پر آنے کے بعد امریکی انتظامیہ بھی میانماری حکومت سے رابطے میں ہے۔ اب میانمار پر اندرونی سیاسی و نسلی حالات بہتر کرنے کے لیے تھوڑا بہت بیرونی دباؤ بھی نہیں ہے۔ لہذا اگر آمرانہ سخت گیر پالیسیوں کو زیادہ اعتماد کے ساتھ جاری رکھتی ہے تو پھر اسے تنقید کا نشانہ بنانا زیادتی ہے۔ کیونکہ اصل قصور وار تو نام نہاد ’’ عالمی برادری ‘‘ کے مفادات و مصلحتیں ہیں۔ (وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل