Saturday, October 24, 2026
 

وین گوو کی ’دی اسٹاری نائٹ‘ سے متعلق سائنس دانوں کا حیران کن انکشاف!

 



ونسنٹ وین گوو کی 1889 میں تخلیق کی گئی شہرہ آفاق پینٹنگ دی اسٹاری نائٹ کے حوالے سے سائنس دانوں نے ایک حیران کن انکشاف کیا ہے۔ محققین نے مختلف سائنسی طریقوں کا استعمال کرتے ہوئے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ اس پینٹنگ میں دراصل آسمان کا کون سا منظر پیش کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ پینٹنگ 22 جولائی 1889 کے آس پاس فرانس کے علاقے سینٹ ریمی کے آسمان پر طلوعِ آفتاب سے پہلے کے منظر کی عکاسی کرتی ہے۔ ماہرینِ فلکیات برسوں سے رات کے آسمان کے بارے میں اپنے علم کی مدد سے اس پینٹنگ کو سمجھنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ 1980 کی دہائی کے وسط میں اس حوالے سے دو اہم تحقیقی مطالعات بھی سامنے آئے لیکن دونوں کے نتائج ایک دوسرے سے مختلف تھے۔ اس کے بعد ناظرین نے پینٹنگ میں موجود آسمانی منظر کی سائنسی تشریح کے بجائے اس کے علامتی مفہوم پر زیادہ توجہ دینا شروع کر دی۔ نئی تحقیق کے مرکزی مصنف کے مطابق اس مطالعے کا خیال اس وقت پیدا ہوا جب انہوں نے پینٹنگ کو دیکھا اور انہیں اس میں دکھائے گئے آسمان کے بارے میں پہلے سے رائج تشریحات غیر تسلی بخش محسوس ہوئیں۔ جنوبی کوریا کی کیونگ ہی یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے طالب علم ایلیاہ جیونگ ہیون کم نے کہا کہ ایک مشاہداتی ماہرِ فلکیات کی نظر سے دیکھا جائے تو ’دی اسٹاری نائٹ‘ میں ستاروں کا جھرمٹ برجِ ثور میں موجود ہایڈیز ہے لیکن جیسے ہی انہوں نے سابقہ تحقیقات میں اسے برجِ حمل قرار دیے جانے کے بارے میں پڑھا، انہیں یوں محسوس ہوا جیسے یہ پینٹنگ انہیں اپنی جانب بلا رہی ہو۔ محققین نے اس مقام کا سراغ لگا لیا جہاں یہ پینٹنگ بنائی گئی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے پینٹنگ میں موجود اشکال کا تجزیہ کیا تاکہ اس بات کی تصدیق کی جا سکے کہ اس میں نمایاں پانچ مرکزی ستارے اُس رات آسمان پر موجود ستاروں سے مطابقت رکھتے تھے۔ محققین کے مطابق وین گوو نے یہ مشہور پینٹنگ بنانے کے بعد جو قلمی خاکہ تیار کیا تھا، وہ اُس رات کے آسمان سے اس سے بھی زیادہ قریب مطابقت رکھتا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل