Wednesday, October 28, 2026
 

یورپ میں نئی احتجاجی لہر، جین زی کی ناراضی کی وجہ کیا ہے؟

 



یورپ میں جنریشن زی کے احتجاجی مظاہرے فرانس، اٹلی، بیلجیم اور البانیہ سمیت مختلف ممالک تک پھیل گئے ہیں جبکہ جرمنی میں بھی اس ہفتے کے آخر میں مظاہروں کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق 1997 سے 2012 کے درمیان پیدا ہونے والی نسل سے تعلق رکھنے والے نوجوان بہتر مستقبل، معیاری تعلیم، روزگار کے مواقع اور حکومتی جواب دہی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ نوجوانوں کی شکایات میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، رہائش کے بلند اخراجات، تعلیمی اداروں میں سہولیات کی کمی اور بدعنوانی کے خلاف کارروائی نہ ہونا شامل ہے۔ فرانس کے مضافاتی علاقوں سے لے کر سربیا کے دارالحکومت بلغراد تک ہزاروں افراد احتجاجی مظاہروں میں شریک ہوئے۔ بعض مقامات پر مظاہروں کے دوران جھڑپیں بھی ہوئیں، جبکہ فرانس میں حالیہ ہفتوں کے دوران ہزاروں دکانوں کو نقصان پہنچانے اور لوٹ مار کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن اور اسٹن گرینیڈز کا استعمال بھی کیا۔ سربیا میں طلبہ کی قیادت میں جاری احتجاجی تحریک نے اہم سیاسی تبدیلی میں کردار ادا کیا۔ تقریباً دو سال سے جاری مظاہروں کے بعد 26 اکتوبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں الیگزینڈر ووچچ کی جماعت کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ طلبہ کی تحریک سے وابستہ اسٹاشا پیلیٹچ نے کہا کہ انہیں کامیابی اور آزادی کا احساس ہو رہا ہے اور تحریک احتجاج سے آگے بڑھ کر ذمہ داری سنبھالنے کے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ اٹلی میں بھی نوجوانوں نے حکمران طبقے کے خلاف غصے اور مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ 21 سالہ طالبہ چیرا کے مطابق ان کی نسل سے مستقبل کے خواب دیکھنے کی صلاحیت بھی چھین لی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی کمی اور خستہ حال عمارتوں کے علاوہ نوجوانوں کو کم تنخواہوں والی ملازمتوں اور مہنگے مکانات جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ یورپی یونین کے 2025 میں شائع ہونے والے ایک سروے کے مطابق 16 سے 30 سال کی عمر کے 40 فیصد افراد کے لیے بڑھتی ہوئی قیمتیں اور اخراجاتِ زندگی اہم تشویش ہیں۔ اسی طرح 2025 میں یورپی یونین کے 9 کروڑ 27 لاکھ افراد کو غربت یا سماجی محرومی کے خطرے کا سامنا تھا، جن میں 18 سے 24 سال کے نوجوانوں میں یہ شرح 26.3 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد میں یہ شرح 18.8 فیصد تھی۔ فرانس میں نوجوان تعلیمی اداروں کی خراب حالت اور عملے کی کمی کے خلاف بھی احتجاج کر رہے ہیں۔ پیرس کے شمال میں واقع علاقے سینٹ ڈینس کے 17 سالہ طالب علم بلال نرجیسی نے بتایا کہ ان کے اسکول میں پہلے چوہے بھی موجود تھے اور گزشتہ سال صحن میں چھت گرنے کے باعث طلبہ کو عمارت سے نکالنا پڑا تھا تاہم اس واقعے میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔ بیلجیم کے شہر برسلز میں احتجاج کرنے والی 19 سالہ طالبہ مایا گورڈیل کا کہنا تھا کہ نوجوانوں نے پُرامن طریقوں سے اپنے مطالبات منوانے کی کوشش کی لیکن کسی نے ان کی بات نہیں سنی۔ ان کے مطابق جب لوگوں نے کچرا جلانا اور اس نوعیت کی کارروائیاں شروع کیں تو میڈیا اور کیمروں نے ان کی طرف توجہ دینا شروع کی۔ البانیہ میں بھی طلبہ کی قیادت میں وزیراعظم ایڈی راما کی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری ہیں۔ احتجاج کی بنیادی وجوہات میں مبینہ بدعنوانی، روزگار کی کمی اور تعلیم کا ناقص معیار شامل ہیں۔ 19 سالہ طالبہ زائیکے کرتی کے مطابق ملک میں نوجوانوں کو اپنے مستقبل کے حوالے سے مایوسی کا سامنا ہے اور بہت سے طلبہ بیرون ملک جانے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں صلاحیت کے باوجود بااثر افراد سے تعلقات رکھنے والوں کو زیادہ مواقع ملتے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق یورپ میں نوجوانوں کے احتجاجی مظاہرے مزید پھیل رہے ہیں جبکہ جرمنی میں بھی مہنگائی، عدم مساوات، جنگ اور تعلیمی نظام کی صورت حال کے خلاف اس ہفتے کے آخر میں مظاہرے متوقع ہیں۔ سربیا میں احتجاجی تحریک کے لیے اب اگلا چیلنج حکومتی ذمہ داریاں سنبھالنا ہوگا کیونکہ طلبہ اور ان کے امیدواروں کو حکمرانی کا سابقہ تجربہ حاصل نہیں ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل