Loading
آنسؔ معین کا ایک شعر نذرِقارئین ہے۔
آج کی رات نہ جانے کتنی لمبی ہو گی
آج کا سورج شام سے پہلے ڈوب گیا ہے
رات لمبی ہوجائے، تو اس کے کرم بھرم پر کیا گزرتی ہے۔اس کی بھی راہیں اور آہیںہوتی ہیں،مسکرانے کا بھی کہا جاسکتا ہے۔یہ بھی دیکھا کہ ہنستے ہنستے آنسو بھی اُمڈ آتے ہیں۔کاش! دُنیا بھر کے آنسو ایک ہوجاتے تو کئی سمندر اس میں غرق ہو جاتے ۔ شام کا دورانیہ بہت کم ہوتا ہے، او ر شامِ غم اس کا عروج ہوتا ہے۔اور اس کی قسم ، روایتی بھی ہوتی ہیں، اور جذباتی بھی ہوتی ہیں۔’’ شامِ غم کی قسم ،کتنے تنہا ہیں ہم‘‘۔شامِ غم کی قسم کی رسم میں کیا کیا نہیں ہوتا۔بشیر سیفیؔ کا ایک شعریاد آیا۔
میں نے جب شیشے کی اک دیوار کھینچی آنکھ میں
دیر تک ہر ہاتھ میں پتھر نظر آتے رہے
بے شک! دل ہو یا شیشہ ،ٹوٹتا اور روٹھتا رہتا ہے۔دل میں دل لگی، اور دل کی لگی کی دھڑ کنیںکو بھی شریک کیا جا سکتا ہے۔ یہ بھی کہتے چلیںکہ شریک ِ کی دوستی اور دشمنی دونوں ہی خطرناک ہوسکتی ہیں۔ پتھر در پتھر ، ’’ کوئی پتھر سے نہ مارے میرے دیوانے کو‘‘۔ دیوانہ توہر چیز سے بے نیاز ہوتا ہے ، اُسے پتھر بھی پھول کی طرح لگتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پھول بہت نازک ہوتے ہیں،اور فیصلے کی لمحوںوہ بھی پتھر کی طرح سخت گیر بن جاتے ہیں۔ لطیف ساحلؔ کا ایک شعر ۔
کوئی ہوتا ہے، ہر اک آشنااچھا نہیں ہوتا
ضرورت سے زیادہ رابطہ اچھا نہیں ہوتا
آشنا ہو یا شناسا، کبھی دریارکی روانی میں شریک نظر آتے ہیں اور کبھی دوکنارے بن جاتے ہیں۔اس کی جدائی کی کسی بے پناہ درد سے کم نہیں ہوتی۔’’ دل میں درد بے پناہ ہے، اوپر سے وہ تنہا ہے‘‘۔تنہائی اور رسوائی کے بھی کئی سنگم ہوتے ہیں اور موڑ در موڑ آتے ،جاتے ہیں۔ہر موڑ کے بعد کئی راستے بھی نکل آتے ہیں۔ بات نصیب نصیب کی بھی ہوتی ہے۔ قدرت اﷲشہاب اپنی یادداشتوں ’’ شہاب نامہ ‘‘میں لکھتے ہیں۔’’گورنر جنرل مسٹر غلام محمد اپنے سہارے چل پھر نہیں سکتے تھے، نہ کچھ لکھ سکتے تھے۔اور نہ ان کی بات کوئی آسانی سے سن سکتے تھے۔
ان تمام معذوریوںکے باوجود اُنھوں نے ملک بھر میں ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا ،کس برتے پر کیا؟فیلڈ مارشل ایوب خان نے اپنی کتاب’’ جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی‘‘ میں لکھا ہے کہ ہنگامی حالات کے اعلان ہونے سے پہلے وہ پرائم منسٹر محمد علی بوگرا، چوہدری محمد علی اور اسکندرمرزاکے ساتھ امریکہ گئے ہوئے تھے۔وہاں پر وزیراعظم کو گورنر جنرل کا پیغام ملا کہ فورأواپس آؤ۔یہ پیغام پاکر ان سب نے جلد سے جلد واپس آنے کی ٹھان لی۔ جب وہ لندن پہنچے تو معلوم ہواکہ اس روز کوئی جہاز مشرق کی طرف نہیں جا رہاہے۔اس لیے اُنھوں نے کراچی کے لیے ایک ہوائی جہاز چارٹر کر لیا۔اس کے بعد کے واقعات، ایوب خان کے اپنے الفاظ میں اس طرح رُو نما ہوئے،’’ لندن ایئر پورٹ پر گورنر جنرل نے مجھے ٹیلیفون پر بلوایا لیکن ان کی بات میری سمجھ میں بالکل نہ آئی۔میںنے ٹیلیفون ا سکندر مرزا کو دے دیا ،ہمیںبس اس قدر معلوم ہو سکا کہ گورنر جنرل مجھے فورأپاکستان بلانا چاہتے ہیں۔
انھیں دوسروں سے غرض نہ تھی۔اسکندر مرزا اور چوہدری محمد علی اور میں ، ہم تینوں گورنر جنرل کی کوٹھی پر پہنچے ۔ گورنر جنرل اُوپر کی منزل پراپنی خواب گاہ میں لیٹے ہوئے تھے۔ان کے خون کا دباؤ بڑھ گیا تھا اور پیٹھ میں بڑی تکلیف تھی۔جس کی وجہ وہ سیدھے ایک تختے پر چاروں شانے نے چت لیٹنے پر مجبور تھے۔وہ غصے سے آگ بگولہ ہو رہے تھے۔اورگالیوں کی بوچھاڑ تھی کہ تھمنے کا نام نہ لیتی تھی لیکن خوش قسمتی سے یہ گالیوں کی کسی کو سمجھ نہ آتی تھیں۔چوہدری محمد علی نے جرات کر کے کچھ کہا، اس کے جواب میںان پر بوچھاڑ پڑی۔
اس کے بعد اسکندر مرزا کچھ بولے، ان پر بھی بوچھاڑ پڑی۔ہم ان کی خدمت میں یہ گزارش کرنا چاہتے تھے کہ آپ وزیراعظم محمد علی بوگراکو ایک موقع اور دیں۔اس کے جواب میں اُنھوں نے کہا کہ ’’ جاؤجاؤ ،دُور ہو جاؤ‘‘۔ان کی زبان سے بار بار ’’نہیں،نہیں‘‘ کے الفاظ نکلتے تھے، وہ بس ہم کو بھگا دینا چاہتے تھے۔ہم ایک کے پیچھے ایک ان کی خواب گاہ سے نکلے۔آگے آگے اسکندر مرزا ، ان کے پیچھے چوہدری محمد علی اور سب سے پیچھے میں۔ ایوب خان نے مسٹر غلام محمدکو کوئی وارننگ نہ دی ۔بلکہ اس کے برعکس جب ہنگامی حالات کا اعلان ہوا اور اس اسمبلی کی برطرفی کے بعد نئی کابینہ بنی تو ایوب خان نے وزیر دفاع کا منصب بھی قبول کر لیا، اسکندر مرزااس نئی کابینہ میں وزیر داخلہ مقرر ہوئے‘‘۔سلیم ؔکوثر کا بھی ایک شعر یاد آیا۔
میں خیال ہوںکسی اور کا، مجھے سوچتا کوئی اورہے
سرِ آئینہ مرا عکس ہے پس ِ آئینہ کوئی اور ہے
خیال میں کس کس کا جمال نہیں،کس کس کا زوال نہیں۔خیالات میں کون کون سے واقعات نہیں ہوتے۔یہ بات جذبات کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے۔یہ درست کہ دل ہویا شیشہ ، ٹوٹ جاتا ہے،اس ٹوٹ پھوٹ کے حالات و اقعات سے جذبات بہک بھی جاتے ہیں، اور چہک بھی جاتے ہیں۔یہ بھی کہتے چلیں کہ سوچ مستی میں کس کس کی موج مستی نہیں ہوتی ۔اس کے بھی نتائج ہوتے ہیں۔
آج کے ریفرنس میں پاکستان ٹیلی وژن کے کے معروف ڈرامہ پروڈیو سرنصرت ٹھاکر کا ذکر کرتے ہیں۔’’ وہ 1937 کو لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔ان کے والد ایم جے ٹھا کر ریڈیو اور فلم کے معروف فنکار تھے۔نصرت ٹھاکر نے علمی زندگی کا آغازریڈیو پاکستان سے کیا، بعد ازاں وہ پاکستان ٹیلی وژن سے وابستہ ہوئے۔ ابتدامیںوہ یاور حیات کے ساتھ معاون پروڈیوسر کے وابستہ رہے اور بعد ازاں مکمل پروڈیو سربن گئے۔
ان کی شہرت کا آغاز مشہور ڈرامہ سیریل ’’ وارث‘‘ سے ہوا۔اس سیریل کا آغازغضنفر علی نے کیا تھا۔چند قسطوں کے بعد اس کی سیریل کی ذمے داری نصرت ٹھاکر کے کاندھوںپر آگئی، جنھوںنے اسے پاکستان ٹیلی وژن کا یاد گار ترین سیریل بنا دیا۔اُن کے دوسرے ڈرامہ سیر یلز میں دہلیز، سمندر، وقت، رات، پیاس ، خواہش، نشیمن، غلام گردش کے علاوہ رات ریل اور خط، اندھیرا اُجالا اور ایک دن جیسی ڈرامہ سیریز شامل ہے ۔نصرت ٹھاکر 7 نومبر2009 لاہور میں وفات پا گئے اور لاہور کینٹ کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں‘‘۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل