Loading
یہ جو اس وقت معاشرے کے اندر ایک سیاسی، سماجی اور معاشی بے چینی محسوس کی جاتی ہے، سوال یہ ہے کہ اس سے کیسے نمٹا جاسکے گا۔اگرچہ اشرافیہ کے غالب حصے کا خیال ہے کہ موجود نظام کو خطرہ نہیں ہے لیکن یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اس نظام کو اگر کوئی خطرہ ہے بھی تو وہ نظام کے اندر سے ہے۔کیونکہ جب آپ مختلف معاملات پر داخلی طور پر کمزور ہوتے ہو تو باہر بیٹھی قوتیں اس خلا سے فائدہ اٹھا کر آپ کو مزید کمزور کرنے کا سبب بنتی ہیں۔
آپ سمجھتے ہیں کہ ہم نے فلاں فلاں اصلاحات کردی ہیں، اس لیے سسٹم ٹھیک چل رہا ہے تو کچھ حد تک یہ استدلال ٹھیک ہے۔لیکن اپنے بنیادی معاملات پر سیاست میں تاحال ٹکراو کی صورت دیکھنے کو مل رہی ہے، اس سے کسی بھی طور پر نظریں ہم چرانھیں سکتے۔جب عام لوگوں بالخصوص نئی نسل کے معاشی معاملات حل نہیں ہوںگے اور ان کو معاشی تحفظ نہیں دیا جائے گا تو وہ زیادہ دیر تک خاموش نہیں رہیں گے۔بالخصوص ایک ایسے موقع پر جب دنیا کی سیاست میں ایک طرف جینزی بڑی قوت کے طور پر سامنے آئے ہیں تو دوسری طرف ان کی آوازوں کو ڈیجیٹل دنیا کی بنیاد پر طاقت مل گئی ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں حکومتوں کے لیے جینزی خطرے کے طور پر سامنے آرہی ہیں اور نہ صرف ان کی طاقت بڑھ رہی ہے بلکہ جین زی سے اگلی نسل بھی نیا خطرہ بن رہی ہے۔ نئی نسل کوئی نظریاتی جنگ نہیں بلکہ جذباتیت کے زیر اثر حکومتوں کے خلاف بھڑک رہی ہے ۔یہ ہی کچھ پاکستان میں بھی برپا کرنے کی کوشش ہورہی ہے اور انھیں موجودہ حکمرانی کے نظام کے خلاف اٹھنے پر اکسایا جارہا ہے۔
پاکستان میں روائتی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی سیاست دم توڑ رہی ہے اوران کی قیادت کی نئی نسل میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔کیونکہ فرسودہ جماعتوں کی قیادت نئی نسل کے مسائل کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں ۔جس کی بنیاد پر نئی نسل میں اس نظام اور اس سے جڑے افراد کے خلاف سخت ردعمل پایا جاتا ہے۔ ہم مجموعی طور پر ان محرکات کو سمجھنے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں کہ عام لوگوں کے اصل مسائل کیا ہیں یا ان کو کن بنیادوں پر تحفظات یا گلے شکوے ہیں۔
جب اس نئی نسل کو کاکروچ کا طعنہ دیں گے تو اس کا نتیجہ وہی نکلے گا جو بھارت میں سامنے آیا ہے ۔یہ جو تعلیم ،صحت،روزگار میں بڑھتے ہوئے مسائل ہیں جن میں مہنگی، تعلیم یا فیسوں میں اضافہ ،صحت میں بڑھتے ہوئے اخراجات،روزگار کا عدم تحفظ یا آمدنی کے محدود ذرائع اور سیاسی نظام میں ان کے لیے محدود آپشن یا عملاً سیاسی تناؤ اور گھٹن اس کا حل سیاسی اور حکمرانی کے نظام سے نکالنا ہوگا۔وگرنہ اشرافئی اور عوام کے درمیان بڑھتا فاصلہ معاشرتی ٹکراؤ کی شکل میں سامنے آسکتا ہے۔
جب تک ہم اس نئی یا پرانی نسل کے معاملات کو سمجھنے کیے اپنے موجودہ سیاسی،معاشی ،قانونی اور سماجی نظام کا جائزہ اور تجزیہ نہیں کریں گے تو بہتری یا مثبت تبدیلی کا نیا بیانیہ سامنے نہیں آسکے گا۔یہ جو سیاست اور اقدار کی کشمکش کو اشرافیہ کے مفادات تک محدود کرکے دیکھنا ہے، اس خیال کو ہر صورت توڑنا ہوگا۔کیونکہ یہ جو جنگ عام افراد اور طاقت ور طبقات کے درمیان ہے، اس میں توازن پیدا کرنا ہوگا اور اس نظام میں عام آدمی کے حصے کو یقینی بنانا ہوگا۔
یہ بات ٹھیک ہے کہ جین زی سمیت نئی نسل کے مسائل کا حل سڑکوں کی سیاست سے نہیں جڑا ہوا، اس سے تو بلاوجہ کا ٹکراؤ پیدا ہوگا۔لیکن مسائل کے حل میں جب تک نظام ذمے دارانہ طور پر کام نہیں کرے گا تو اس نسل کے پاس اور کیا آپشن ہوگا، اپنی بات پہنچانے کے لیے،اس لیے اس بات پر غصہ نکالنا کہ نئی نسل بغاوت کیوں کررہی ہے، اس پر حکمران خود بھی سوچیں کہ وہ خود کتنی ذمے دار حکمرانی کررہے ہیں۔ جب تک ہم حکمرانی کے نظام میں مساوات اور عدم مساوات کے درمیان فرق کو نہیں سمجھیں گے یاپھر انصاف اور برابری کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کریں گے تو لوگوں کا حکمرانی کے نظام پر اعتماد بحال نہیں ہوسکے گا۔
اصل میں یہ جو کچھ ہم کو دنیا میں نئی نسل کی جانب سے سیاسی بے چینی کی لہر کی صورت میں دیکھنے کو مل رہاہے، وہ دنیا سمیت پاکستان میں حکمرانی کے نظام کے لیے بھی ایک سنگین چیلنج ہے اور ان کو خود احتسابی کی طرف لاتا ہے کہ اپنے آپ کو نظام کے اندر جواب دہ بھی بنائیں۔دیکھیں لوگ اپنے مستقبل کی طرف دیکھ رہے ہیں اور وہاں ان کو روشنی کی کرن نظر نہیں آرہی اور عام لوگوں کی زندگیوں کو ایک مشکل زندگی میں تبدیل کردیا گیا ہے تو ان کو دکھوں سے کون باہر نکالے گا۔بجلی،گیس کے بڑھتے ہوئے بل،پٹرول،ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں اضافہ،لیوی پر مبنی ٹیکس،مہنگی ادویات، روزمرہ کی اشیا میں بڑھتی ہوئی قیمتیں،تعلیم اور صحت کی نج کاری پر سب پریشان ہیں۔
دوسری طرف جب یہ لوگ اشرافیہ کے طور طریقے اور انداز حکمرانی دیکھتے ہیں تو ان میں ٹکراؤ کا پیدا ہونا فطری امر ہے۔اصل میں جب سیاسی جماعتیں لوگوں سے ہی لاتعلق ہوجاتی ہیں تو اس کا ایک بڑا نتیجہ حالات سیاسی جماعتوں کے کنٹرول سے باہر ہوجاتے ہیں اور لوگ حالات سے مایوس ہو کر اپنا راستہ خود تلاش کرتے ہیں۔ اب یہ پڑھی لکھی نسل ہے اوران آوازوں کو دبانا آسان کام نہیں اور ان آوازوں میں وقت کے ساتھ ساتھ ہم کو مزید شدت دیکھنے کو ملے گی۔ طبقہ اشرافیہ میں موجود سنجیدہ لوگ اورخود حکمران طبقہ یہ ہی مشورہ دے رہے ہیں کہ اس وقت ملک میں جو سیاسی بے چینی ہے، اس سے ہمیں کچھ نیا سیکھ کر آگے بڑھنا ہوگا۔ سیاسی و مذہبی قیادت کی سب سے بڑی خوبی یہ ہی ہوتی ہے کہ وہ عوام کی سیاسی اور معاشی نبض پر ہاتھ رکھ کر اپنے فیصلے کرتے ہیں۔تاکہ وہ لوگوں کی حمایت اور تائید کے ساتھ اپنی حکمرانی کے نظام کو کامیاب بناسکے۔اس لیے جہاں آپ کو اپنے انتخابی نظام کو شفاف اور منصفانہ بنانا ہے اور ووٹ کی بنیاد پر حق حکمرانی کو قائم کرنا ہے وہیں روائتی سیاست کے مقابلے میں نئی آوازوں کو سیاسی نظام میں حصہ دینا ہوگا۔
خاندانی نظام کی بنیاد پر سیاسی اجارہ داری کا نظام عوام نے نہیں بلکہ اشرافیہ کا قائم کردہ ہے اور انتخابات میں ہونے والی دھاندلی کے الزامات بھی نئی نسل کو سیاسی نظام اور سیاسی جماعتوں کی قیادت کے خلاف کھڑا کررہے ہیں۔جب لوگوں کو یہ یقین ہی نہیں کہ نظام ان کا ہے تو وہ اس کی ملکیت کیسے لیں گے۔آپ لوگوں کو موقع دیں کہ وہ اپنی مرضی سے سیاسی نظام اور اپنی پسند کی قیادت کا انتخاب کرسکیں تو اسی بنیاد پر نظام کی ساکھ قائم ہوسکتی ہے۔
جہاں تک پاکستام میں موجود سیاسی بے چینی سمیت سیاسی تقسیم کی بات ہے اس سے جو بھی انکارکرتا ہے وہ خود کو فریب دینے کی کوشش کرتا ہے۔کیونکہ پاکستان کے موجودہ نظام کے حقایق کافی تلخ ہیں اور لوگوں میں احساس محرومی کی سیاست کو جنم دیتا ہے۔لیکن ہم سیاسی ٹال مٹول کی بنیاد پر نظام کو چلارہے ہیں تو نظام کی غیر یقینی کی صورتحال بھی یقینی ہے۔اس کا نتیجہ دو صورتوں میں نکل سکتا ہے۔اول ہم ایسے ہی لاتعلق رہیں جیسے اس وقت حکمرانی سے جڑے مسائل اور طرزعمل ہے۔اس کا نتیجہ مزید مایوسی کی صورت میں ہی قائم ہوگا اور اس کی سب کو بھاری قیمت ادا کرنا ہوگی۔
دوئم ہم موجودہ صورتحال کوبنیاد بناکر داخلی سچ کو تسلیم کریں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور ہم سے کیا غلطیاں سرزد ہوئی ہیں۔اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو پھر آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کیا جاسکتا ہے۔لیکن یہ معمولی سطح کا کام نہیں ہے اور اس تبدیلی کے لیے ہمیں کڑوی گولی ہضم کرنا ہوگی۔کیونکہ بعض اوقات بیماری کی نوعیت ایسی ہوتی ہے جو ہم سے ایک بڑی سرجری کا تقاضہ کرتی ہے۔لیکن اہم سوال یہ ہے کہ اس ملک کی طاقت ور سیاسی اور غیر سیاسی اشرافیہ خود سے کچھ بدلنے کے لیے تیارہے یااس کا علاج نئی ابھرتی سیاسی تحریکوں کی مدد سے ہی ممکن ہوگا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل