Loading
پاکستان مکہ دفاعی معاہدے کے اتحادیوں اور ایران کو ایک میز پر لانے میں کامیاب ہو گیا، مگر کیسے؟ سفارتی ذرائع کے مطابق بڑھتے امریکی حملوں سے واضح ہو گیا تھا کہ ایرانی حکومت و سیکیورٹی ڈھانچے کے گرنے کا امکان نہیں مگر جنگ میں تیزی خطے کے ان ملکوں کو بھی لپیٹ میں لے سکتی جو جنگ کا حصہ نہیں۔
اسی سوچ کیساتھ مسلم ممالک نے اجتماعی مفادات کے تحفظ کیلیے قریب آنا شروع کر دیا۔ ایک سینئر سفارتکار نے بتایا کہ جب مکہ دفاعی معاہدہ پر بات ہو رہی تھی، ایک سفیر نے کہا تھا کہ تینوں اتحادیوں کو بالآخر ایران سے بات کرنا ہو گی۔
یہ پیش گوئی اس وقت سچ ثابت ہوئی جب فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکش انٹیلیجنس چیف ابراہیم کلن ایرانی قیادت سے غیر معمولی ملاقات کیلئے ایسے وقت تہران پہنچے۔
سفارتی ذرائع نے مذاکرات کا ماحول ’’انتہائی خوشگوار اور مثبت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے مکہ معاہدہ کے رکن ملکوں اورایران کو ایک میز پر لانے میں کلیدی کردار ادا کیا، پاکستان کے بغیر یہ پیش رفت ممکن نہ تھی۔
مذاکرات کی تفصیلات تاحال خفیہ تاہم اسی فارمیٹ میں بات چیت جاری رکھنے کا فیصلہ اہم پیش رفت ہے، حالانکہ چاروں ملک متضاد مفادات کے حامل ہیں۔
ریاض کو حوثیوں کے بڑھتے حملوں سے سکیورٹی خطرات کا سامنا اور یمن کشیدگی دوبارہ پھیلنے میں اسے کوئی دلچسپی نہیں، حوثیوں کے ایران کے دیرینہ اتحادی ہونے کے باعث تہران کیساتھ بات چیت میں ریاض کا شامل ہونا متوقع تھا۔
تہران مستقل علاقائی سکیورٹی میکانزم کا حامی ہے جس میں بیرونی طاقتوںکا کردار نہ ہو، جو دراصل خطے کیلئے ’’اندرونی سکیورٹی‘‘ کا ایرانی تصور ہے۔پاکستان، ترکیہ اور سعودیہکیلئے فوری چیلنج حالات مزید بگڑنے سے قبل تہران کیساتھ رابطہ چینل قائم کرنا تھا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل