Loading
افغانی عامل کامل، ماہر تعویزات و جادو شکن نے بھوپال میں جو کتاب دی تھی جو اس کے جد امجد نے بزبان فارسی لکھی تھی جس میں تمام کرنے اورنہ کرنے والے کام مختلف عملیات و چلہ کشی کے ذمے ڈالے گئے تھے اورجس سے ہمیں پہلی بار پتہ چلا کہ عملیات کی کتاب کیا ہوتی ہے بلکہ یہ تو ایک تحفہ تھاکہ آپ آرام سے بیٹھے رہو اورجو کام بھی کرنا ہو، وہ اس میں دیے گئے عملیات سے کراؤ۔۔جس طرح اکثرہندو جوگی تپ تپسیا کر کے دیوتاؤں کو خوش کرتے ہیں یا جنات کو قابو میں کرتے ہیں اور پھر ان کے ذریعے لوگوں کی مشکل آسان کرتے ہیں۔لیکن ہمارا یہ خیال بھی بالکل غلط نکلا کہ یہ تحفہ خاص ، نسخہ کیمیا اوربابرکت خزانہ صرف ہمارے پاس ہے اورصرف اس افغانی عامل کے جد امجد کاکارنامہ ہے ۔
کیوں کہ ہم ابھی سوچ رہے تھے کہ اس کتاب میں درج عملیات سے پہلے کونسا کام کرائیں یا کونسا کام اس سے لیں۔ ہمیں دوسرا نوشتہ مل گیا۔ پھر ہمیں اپنا ایک شاعر دوست یاد آیا جو بہت ہی عشق پیشہ تھا، تین چارعشق تو اس کے ہروقت چل رہے ہوتے تھے، ایسا ہونہیں سکتا کہ وہ کسی خوش نما چہرے کو دیکھ کر اس پر ہزار جان سے عاشق نہ ہوتا ۔ پیشے کے لحاظ سے بہترین معمار یعنی راج مستری تھا لیکن دوچار دن کام کرنے کے بعد چھٹی کرکے اپنے اصل پیشے عشق بازی میں مصروف ہوجاتا اورتب تک کام کو ہاتھ نہیں لگاتاتھا جب تک اچھا خاصا مقروض نہ ہوجاتا، پھر چند دن کام کرتا اورپھر کہیں نہ کہیں کوئی عشق شروع کرتا ۔۔
ایک دن اس کے ہاں بیٹھے تھے، اس کے عشق نامے سن رہے تھے ، عشق و عاشقی کے علاوہ اس کی اور بھی خواہشیں تھیں، بے پناہ دولت، لامحدود جائیدادیں، بنگلے اوربہت ساری لگژری ضروریات ۔ ہمیں کتاب یاد آئی تو اسے بتادیا کہ ہمیں ایک نسخہ کیمیا ہاتھ لگا ہے جس سے تمہاری ساری خواہشات، ضروریات اورمصروفیات پوری ہوسکتی ہیں، پھر کتاب دے کر کہا۔ لے اورجو چاہے اس کی رہنمائی میں عملیات و چلہ جات سے کرا لے۔
وہ کتاب لے گیا لیکن دوسرے دن آیا تو اس کتاب کے ساتھ ایک اور کتاب بھی اس کے ہاتھ میں تھی، دونوں کتابوں کو میز پر پٹختے ہوئے بولا، ان دونوں کو دیکھو ۔ دیکھا تو اس کی لائی ہوئی کتاب بزبان پشتو تھی لیکن پڑھنا شروع کی تو اس میں بھی وہی کچھ تھا جو ہماری فارسی کتاب میں تھا ، بس عملیات و چلہ جات اور وظائف کی ترتیب کچھ بدلی ہوئی تھی، باقی سب کچھ وہی تھا ، ممکن اورناممکن کام بذریعہ عملیات و تعویذات کرائیں ، بلکہ اس کی کتاب میں ایک اضافہ تیغ بندی کا بھی تھا ، کچھ ایسی الفاظ کامجموعہ جن کوئی حاجت مند اگر ایک مقررہ مدت یا دنوں تک ورد کرے تو اس پر دنیا کاکوئی ہتھیار گارکرنہیں ہوتا تھا، کوئی دشمن اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اورکوئی زہریا زہریلا جانور اس کو نقصان نہیں پہنچا سکتا تھا۔بولا ، میں یہ سب کرچکا ہوں، کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ہم نے اسے سمجھایا بیوقوف! اس طرحکام نہیں بننے والا ، کسی عامل کامل کا اجازہ بھی ہوناچاہیے ۔
بات اس کی سمجھ میں آگئی۔ بولا، یہ اجازہ کہاں سے اورکہاں سے ملے گا؟ ہم نے اسے چند ایسے عامل کاملوں کے پتے بتادئیے جس کے ایڈریس اور نام دیواروں پرلکھے ہوئے ملتے ہیں ۔ وہ چلا گیا، ہمارا ارادہ اپنی کتاب کے عملیات ازبر کرنے اوران سے کام لینے کا تھا لیکن مصروفیات اتنی تھیں کہ اس کی طرف توجہ نہیں دے پائے، صرف ان کاموں کی لسٹ بنائی جو ان عملیات و چلہ کشی سے لینا تھے۔
ایک دن ہم بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک بہت بڑی اورمہنگی گاڑی میں ایک نورانی شخصیت کانزول ہوا ، احترام سے علیک سلیک کرکے ان کو وصول کیا، تشریف فرما ہونے کے بعد اپنا تعارف کراتے ہوئے انھوں نے فرمایا کہ وہ فلاں عامل صاحب کا خاص چیلہ ہے اور کلاشن کوف بردار شخص کی طرف ہاتھ بڑھایا تو اس نے پلاسٹک کاتھیلا بڑھادیا، اس صاحب نے تھیلے سے ایک خوبصورت کتاب نکالی اورہمیں پیش کی اورمحافظ نے اس عمل کو موبائل فون کے کیمرے میں قید کیا ۔
ہمارے کچھ پوچھنے سے پہلے گویا ہوئے کہ یہ ہمارے ’’باس‘‘ کی لکھی ہوئی کتاب ہے ، وہ آپ کے فین ہیں، آپ کے کالم باقاعدگی سے پڑھتے ہیں اورچاہتے ہیں کہ آپ اپنے کالم میں ان کی کتاب پر تبصرہ فرمائیں ۔کتاب دیکھی تو بہت مہنگے طریقے پر چھپی تھی، نہایت ہی اصلی کاغذ، ہرصفحے کے گرد سنہرا حاشیہ ، رنگین الفاظ و حروف ، بہت ہی قیمتی جلد اورپھر اسی رنگ سے ایک الگ کیسٹ جس میں کتاب رکھی گئی تھی۔
تعریف کرتے ہوئے ہم نے کہا کہ اس پر تو تین چار لاکھ خرچہ آیا ہوگا۔ بولے نو لاکھ۔کتاب کی قیمت دوہزار لکھی گئی تھی اورناشر پبلشر کے طور پر جو نام تھا جنھیں میں جانتا تھا، بہت بڑا ڈیلر تھا جو یہاں کا مال سرحد کے پار بھیجتا تھا اور وہاں کا مال ہمارے ہاں لانے کا دھندہ کرتا تھا ۔ چیلہ صاحب بولے، میرے گرو صاحب کی خواہش ہے کہ آپ ان کے آستانے پر تشریف لائیں ، وہ گاڑی بھیج دیں گے ۔
کتاب پڑھنا شروع کی تو وہی کچھ جو اس سے پہلے فارسی اورپشتو کتابوں میں پڑھ چکے تھے۔ پھر ان کے آستانے پر گئے ، جو گاڑی لینے آئی تھی ڈرائیور کے مطابق ایک کروڑ چالیس لاکھ کی تھی جو ایک مشہور حاجی صاحب نے نذرکی تھی اور وہ صاحب بھی پیشے کے اعتبار سے ادھر کا مال ادھر اور ادھر کا مال ادھر کراتے تھے ۔
بعد میں مزید معلومات یہ حاصل ہوئیں کہ چونکہ عامل گرو صاحب چارپانچ پشت سے یہی کام کررہے تھے ، بڑے بڑے افسر، سیاسی لیڈر ، وزیر وغیرہ ان کے حلقہ ارادت میں شامل تھے ، اس لیے سرکاری محکموں میںموصوف کی چلتی تھی بلکہ دوڑتی تھی ، ہوتا یوں تھا کہ جب ا ن کا کوئی عقیدت مند ’’پھیرا‘‘ تیار کرتا تھا تو گروجی کے پاس آکر عرض کرتا ، گروجی ’’پھیرا‘‘ روانہ کررہا ہوں، دعا کریں، منزل مقصود پر پہنچ جائے ۔ گرو صاحب منہ میں کچھ بڑبڑاتے یعنی ٹیلی فون پر کسی سے بات کرتے ، پھر وہ ’’پھیرا‘‘ منزل پر پہنچ جاتا تھا تو وہ شکریئے کے طور پر دو ٹرک آٹے ،گھی، چاؤل سے بھرے ہوئے روانہ کردیتا، ٹرک تو لنگرمیں خالی ہوجاتے اور لیکن ایک مرصع ٹوکری گروجی کی نذر بھی کی جاتی جس میں پھلوں اورمٹھائیوں کے ساتھ نوٹوں کے بنڈل بھی ہوتے تھے ۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل