Wednesday, October 28, 2026
 

آٹے کی قیمت میں اضافہ

 



گزشتہ روز کراچی میں آٹا 190 روپے فی کلو پہنچ چکا تھا جب کہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹیکس کے 22 اکتوبر کے اعداد و شمار کے مطابق 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت تقریباً 3412 روپے تھی جب کہ زیادہ سے زیادہ رپورٹ شدہ قیمت 3540 روپے تھی اب 190 روپے کے حساب سے لگائیں تو 20 کلو آٹے کی قیمت 3900 روپے ہے۔ صورتحال بتا رہی ہے کہ حکومت کو شاید اس بات کی خبر نہیں ہوئی ہے کہ ہر گھر کا بجٹ تہس نہس ہو چکا ہے۔ گزشتہ دنوں کسانوں کے لیے یہ حوصلہ افزا خبر آئی کہ فی من گندم کی قیمت خرید 4500 روپے مقرر کر دی گئی ہے، یعنی 112.50 روپے فی کلو گندم اب خریدی جائے گی۔ ایک کسان کے سامنے کھاد کی قیمت، ڈیزل کا بل، ٹیوب ویل کی بجلی کا بل ، بیج کی خریداری، کھیت کے مختلف امور کی انجام دہی کے لیے ملازم بھی رکھتا ہے اس کی اجرت، پھر اس کی آمدن کے ساتھ سال بھر کے دیگر اخراجات بھی جڑے ہوئے ہیں، بچوں کی فیس، بیٹی کی شادی کا خرچہ، بیمار ماں کی دوا، گھر کے کھانے پینے کا خرچہ، کہیں آنے جانے کا خرچہ، اس طرح بہت سے اخراجات جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ گندم بوتا ہے تو بارش کا انتظار کرتا ہے، اکثر اسے سیلاب کا خوف بھی ڈبوتا ہے اور پھر خشک سالی کی فکر بھی ہوتی ہے، ٹیوب ویل کے اخراجات بھی ہوتے ہیں، موسمیاتی تبدیلی کے باعث اب ہر قسم کے خطرات وقت بے وقت اس پر نازل ہوتے رہتے ہیں اور پھر اصل خوف ان مافیاز کا ہوتا ہے جو اس بات کی تاک میں رہتے ہیں کہ کس طرح اس کی فصل کو اونے پونے دام خرید لیا جائے۔ پاکستان کے ہر شعبے میں ،ہر بازار میں، ہر دفتر میں، ہر کھیت و کھلیان میں، صنعت و حرفت ہو یا زراعت ہر جگہ ان مافیاز کی کارفرمائی واضح نظر آتی ہے، پاکستان اپنے زرعی مسائل کا حل بھی نہیں کرتا، امریکی زرعی محکمے کا کہنا ہے کہ جس میں بتایا گیا ہے کہ گندم کے کاشت شدہ رقبے میں کمی کے اسباب میں سے یہ سبب بھی ہے کہ حکومتی خریداری کم رہتی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر کمی کی وجہ صرف حکومتی خریداری ہے لیکن یہ ضرور ہے کہ کسان کے معاشی فیصلے پیداوار پر اثرانداز ہوتے ہیں، اگر اسے محسوس ہو کہ گندم کی پیداوار میں خطرہ ہے اور اسے متبادل فصل میں زیادہ منافع دکھائی دے رہا ہو تو وہ اپنی زمین پر دوسری فصل بھی اگائے گا، ہمیں کسان سے یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ وہ مسلسل نقصان برداشت کرے اور پھر بھی قومی غذائی سلامتی کا سارا بوجھ اپنے کندھے پر اٹھائے جس ملک میں کسان کی محنت محفوظ نہیں وہاں پھر اسی قسم کی صورت حال پیش آئے گی جیساکہ ابتدا میں بتایا گیا کس تیزی کے ساتھ کراچی میں آٹے کی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان میں پانی کی اہمیت صرف گندم کی پیداوار تک محدود نہیں ہے۔ یہی پانی کپاس، چاول، دالیں، گنا، سبزیوں، باغات اور مویشیوں کے لیے بھی درکار ہوتا ہے۔ اب سیلاب کا آنا معمول بن چکا ہے۔ اس لیے زرعی اصلاحات کا مطلب صرف زیادہ رقبے پر گندم نہیں ہے بلکہ پانی کی بچت، زمین کی زرخیزی برقرار رکھنا، موزوں اقسام کے بیج، فصلوں کی درست معلومات، جدید موسمی پیش گوئی اور کسانوں کو بروقت معلومات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ کسانوں کو زرعی آگاہی دینا یہ بھی ضروری ہے۔ آٹا روزانہ کی ضرورت ہے اور ہر گھر میں اس کی کتنی ضرورت ہے اس کا انحصار ہر خاندان کے ممبران پر منحصر ہے۔ خاندان گوشت کی خریداری کم کر سکتا ہے، کئی کئی مہینے پھلوں کا استعمال چھوڑ سکتا ہے، سال میں 2 جوڑے کے بجائے ایک جوڑے پر اکتفا کر سکتا ہے لیکن کوئی خاندان یا فرد اپنے آٹے کی ضرورت پر قربانی نہیں دے سکتا۔ آٹے کا استعمال کم نہیں ہو سکتا بلکہ چاول کی قیمت میں اضافے کا متبادل کے طور پر بھی آٹا ہی استعمال کیا جاتا ہے۔  پاکستان میں زرخیز زمین کے تحفظ کا کوئی عملی نمونہ بظاہر کام نہیں کر رہا ہے۔ صوبائی حکومتوں کو زمین کی پیداوار، فی ایکڑ پیداوار کی مقدار اور آبپاشی کی سہولتوں مستند ریکارڈ تیار کرنا چاہیے۔ زرعی زمین کو رہائشی یا تجارتی استعمال میں تبدیل کرنے کی اجازت غیر معمولی حالات، شفاف عوامی جائزے اور سخت ترین ضابطوں کے تحت ہونی چاہیے۔ گندم کی پیداوار میں کمی ایک اہم مسئلہ ہے۔ حکومت نے اگرچہ گندم کی سرکاری قیمت کا اعلان کیا ہے، لہٰذا قیمتوں کا نظام ایسا ہو جو کسان کو نقصان سے بچا رہے ہوں۔ چھوٹے کسانوں کو مناسب مالی سہولت، معیاری بیج، بروقت زرعی معلومات اور بروقت زرعی معلومات فراہم کی جائیں۔ پاکستان کی زرعی زمینوں کے لیے پیداوار میں کمی ایک اہم مسئلہ بنا ہوا ہے۔ غریب خاندانوں کے لیے سبسڈی کا اعلان کرنا ضروری ہے امداد کا فائدہ مستحق افراد تک پہنچنا ضروری ہے۔ حکومت نے گندم کی قیمت ساڑھے چار ہزار مقرر کی ہے کیا اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ کسانوں سے اسی ریٹ پر گندم خریدی جائے گی؟ فی الوقت تو آٹے کی قیمت میں اضافے کے اسباب تلاش کیے جائیں۔ زمین قومی غذائی تحفظ کا اثاثہ ہے۔ زمین کی غیر ضروری تبدیلی کو روکنے کی ضرورت ہے۔ ایک زرعی ملک کی اصل خوشحالی اس وقت مکمل ہوتی ہے جب کسان کی محنت کا صلہ اسے ملے۔ زمین اپنی پیداواری صلاحیت برقرار رکھے، حکومت کھیتوں کو بچائے، چاہے سیلاب سے بچانا پڑے یا نہروں کو ضرورت کے مطابق پانی فراہم کیا جائے۔ کسانوں کو جعلی کھادوں، جعلی ادویات، مہنگی بجلی سے نجات دلائی جائے تاکہ مہنگا ہوتا ہوا آٹا بتدریج کمی کی طرف آنا شروع ہو جائے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل