Loading
پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی نے ایک بار پھر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سمیت تمام اراکین اسمبلی اور کارکنان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کیخلاف کارروائیوں کے نام پر سیاسی انتقام کا سلسلہ بند کیا جائے اور کارکنان کے بنیادی حقوق کا تحفظ کیا جائے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا جس کے مطابق پی ٹی آئی سیاسی کمیٹی کا ملک کی مجموعی سیاسی صورتِ حال، مہنگائی اور امن و امان پر تفصیلی غور کیا۔
سیاسی کمیٹی نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، اسپیکر صوبائی اسمبلی اور دیگر پارلیمنٹیرینز کی حراست کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اُن سمیت دیگر تمام افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
سیاسی کمیٹی نے کہا کہ منتخب عوامی نمائندوں کو حراست میں رکھنا جمہوری اقدار اور عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے۔ اعلامیے کے مطابق کمیٹی نے بانی چیئرمین اور بشریٰ بی بی کو ہسپتال منتقل کیے جانے سے متعلق اطلاعات پر سیاسی کمیٹی کا اظہارِ تشویش کیا۔
تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی نے بانی چیئرمین اور بشریٰ بی بی کے اہلِ خانہ کو اعتماد میں لیے بغیر اسپتال منتقلی کے اقدامات کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے اسے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا جبکہ بانی چیئرمین کے علاج سے متعلق سپریم کورٹ کے احکامات پر فوری اور مکمل عملدرآمد کا مطالبہ کیا۔
سیاسی کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ بانی چیئرمین کی صحت سے متعلق اہلِ خانہ کو باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے جبکہ اہلِ خانہ کو ان سے ملاقات اور عیادت کی سہولت فراہم کی جائے، بشریٰ بی بی کے لیے مناسب طبی سہولیات اور اہلِ خانہ سے ملاقات یقینی بنائی جائے۔
کمیٹی نے بانی چیئرمین کی بہنوں کی گرفتاری اور ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کی شدید مذمت کرتے ہوئے تمام کی رہائی اور بانی سے ملاقات کی اجازت دینے کا مطالبہ کردیا۔ کمیٹی نے کہا کہ خاندان کو اپنے عزیز کی خیریت دریافت کرنے اور ملاقات کے بنیادی حق سے محروم رکھنا ناقابلِ قبول ہے۔
پی ٹی آئی کی کمیٹی نے رکن قومی اسمبلی عادل بازی سمیت دیگر پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کی گرفتاریوں پر سیاسی کمیٹی کے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ایم پی او کے تحت گرفتار تمام پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کو فوری رہا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلاف کی بنیاد پر کسی کو انتقام کا نشانہ نہ بنایا جائے، عدالتی احکامات کے تحت رہائی کے بعد دوبارہ گرفتاریاں قانون کی حکمرانی پر سنگین سوالات اٹھاتی ہیں۔
سیاسی کمیٹی کے اعلامیے میں سابق وفاقی وزیر عمر ایوب خان، شیر علی ارباب اور شاہ احد کے گھروں پر چھاپوں اور توڑ پھوڑ کی مذمت کی گئی جبکہ کہا گیا ہے کہ سیاسی مخالفین کے گھروں اور خاندانوں کو نشانہ بنانا قابلِ مذمت عمل ہے، پارٹی کارکنان کے گھروں پر چھاپوں، غیر قانونی گرفتاریوں اور ہراساں کرنے کے واقعات فوری بند کیے جائیں۔
ملک میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر پی ٹی آئی سیاسی کمیٹی کا اظہارِ تشویش کیا اور کہا کہ دہشت گردی ایک قومی ناسور ہے، اس کے خاتمے کے لیے مؤثر اور سنجیدہ اقدامات ناگزیر ہیں، شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال نہ کیا جائے اور امن و امان کے قیام کے ساتھ عوام اور سیاسی کارکنان کے بنیادی حقوق کا تحفظ بھی یقینی بنایا جائے۔
مہنگائی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور بجلی کے بھاری بلوں پر سیاسی کمیٹی کا اظہارِ تشویش
پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ حکومتی پالیسیوں نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، ضروری اشیائے خوردونوش، ٹرانسپورٹ اور توانائی کے اخراجات میں اضافے سے عوام کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔
سیاسی کمیٹی نے کہا کہ ایل پی جی 238 روپے فی کلو کے حساب سے حاصل ہونے کے باوجود صارفین کو 700 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے، ایل پی جی کی قیمتوں میں عوام سے ہونے والی زیادتی کا فوری نوٹس لیا جائے جبکہ قیمتوں کی جانچ پڑتال کی جائے اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائی کی جائے۔
پی ٹی آئی نے پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں عوام کو حقیقی ریلیف دینے، بجلی کے بھاری بلوں اور اضافی مالی بوجھ میں کمی اور ایل پی جی سمیت بنیادی ضروریاتِ زندگی کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ میں لانے کا مطالبہ کیا۔
پی ٹی آئی نے کہا کہ عوام پر مسلسل معاشی بوجھ ڈالنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عوام کو مہنگائی سے نجات دلائے۔
پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بانی چیئرمین کی رہائی، جمہوریت کی بحالی اور آئین و قانون کی بالادستی کے لیے جدوجہد جاری رہے گی جبکہ واضح کیا گیا کہ پاکستان تحریک انصاف میں کسی قسم کی گروپ بندی یا تقسیم نہیں بلکہ پوری جماعت بانی چیئرمین کی قیادت، نظریے اور مشن کے ساتھ متحد ہے اور پارٹی رہنما اور کارکنان مشترکہ مقاصد کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل