Loading
ایران اور امریکا کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کے دوران مذاکرات کے بعد ایرانی وفد نئی امید اور مثبت پیشرفت کے ساتھ قطر سے واپس اپنے وطن پہنچ گیا۔
دوحہ میں مذاکراتی معاملے سے آگاہ ایک سفارت کار نے الجزیرہ کو بتایا کہ ایرانی وفد کی دوحہ سے روانگی مذاکرات میں ناکامی یا اختلافات کے باعث نہیں ہوئی بلکہ مجوزہ معاہدے پر رائے حاصل کی جارہی ہے اور آئندہ ملاقات پر بھی غور کیا جارہا ہے۔
سفارت کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے اور مذاکرات کے دروازے بند نہیں ہوئے جبکہ مجوزہ امن معاہدے کا مسودہ متعلقہ فریقوں کی رائے کے لیے بھیجا گیا ہے۔
ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے بھیجے گئے حالیہ خط کو اہم قرار دیا۔ ان کے بقول خط میں امریکی مؤقف کا لہجہ مکمل طور پر تبدیل ہوا جو ایک مثبت اشارہ ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی امریکی رابطے کی کوشش کو مثبت قدم قرار دیا ہے تاہم تہران نے واضح کیا ہے کہ کسی حتمی معاہدے کے لیے امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ اور ایرانی مطالبات کو تسلیم کرنا ضروری ہوگا۔
قطر کی ثالثی میں ہونے والی یہ کوششیں ایسے وقت میں جاری ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر نئے حملے نہ کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم انتخابات کے بعد فوجی کارروائی کا امکان بدستور موجود ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل