Loading
روس نے ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کی منصوبہ بندی سے متعلق اطلاعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حملوں کی دھمکیاں دینے والوں کو اپنے فیصلے پر نظرثانی کا مشورہ دیا ہے۔
روسی خبر رساں ادارے انٹرفیکس کے مطابق روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کے منصوبوں سے متعلق اشارے انتہائی تشویش ناک ہیں۔
روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران کے گرد تنازع اب بھی حل نہیں ہوا اور اس کے اثرات مشرق وسطیٰ کے دوسرے بحرانوں سے بھی جڑ رہے ہیں۔
انھوں نے نئے حملوں کی دھمکیاں دینے والوں کو یہ حقیقت بھی دلائی کہ گزشتہ چند ماہ کے تلخ تجربات سے ثابت ہوگیا، ایران میں ہلاکتوں اور تباہی کا باعث بننے والی فوجی مہم جوئیاں ایرانی عوام کے اپنی خودمختاری اور آزادی کے دفاع کے عزم کو ختم نہیں کرسکتیں۔
روسی ترجمان نے صورتِ حال معمول پر لانے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق ماسکو ثالثوں کی کوششوں کی حمایت کر رہا ہے اور مذاکراتی عمل میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
دوسری جانب رائٹرز کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثوں کی کوششیں جاری ہیں تاہم امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے خطے میں دوبارہ فوجی کارروائی کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل