Tuesday, November 03, 2026
 

اپنے بھیجے ہوئے میسجز بار بار پڑھتے ہیں؟ ماہر نفسیات نے اس عادت کی وجہ بتا دی

 



کیا آپ بھی کسی کو واٹس ایپ یا سوشل میڈیا پر میسج بھیجنے کے بعد اسے بار بار پڑھتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ کہیں آپ نے کچھ غلط تو نہیں لکھ دیا؟ کبھی کسی لفظ پر شک ہوتا ہے، کبھی ایموجی کے انتخاب پر اور کبھی یہ پریشانی کہ سامنے والا آپ کے پیغام کا غلط مطلب نہ نکال لے۔ بظاہر یہ ایک معمولی عادت ہے لیکن ماہرینِ نفسیات کے مطابق اس کے پیچھے بے چینی، دوسروں کی رائے کا خوف اور ہر بات کو بہترین انداز میں پیش کرنے کی خواہش ہو سکتی ہے۔ میسج بھیجنے کے بعد بار بار پڑھنے کی وجہ کیا ہے؟ بھارت کے اپولو اسپتال کی ماہرِ نفسیات ڈاکٹر ریتوپرنا گھوش کے مطابق جب ہم کسی کو پیغام بھیجتے ہیں تو اس بات پر ہمارا اختیار ختم ہو جاتا ہے کہ دوسرا شخص اسے کس انداز میں سمجھے گا۔ آمنے سامنے گفتگو میں ہم دوسرے شخص کے چہرے کے تاثرات دیکھ سکتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر اپنی بات کی وضاحت بھی کر سکتے ہیں لیکن ٹیکسٹ میسج میں ایسا ممکن نہیں ہوتا، جس کے باعث بعض افراد پریشان ہو جاتے ہیں کہ کہیں ان کے الفاظ سخت، غیر مناسب یا غلط تو نہیں سمجھے گئے۔ اسی بے یقینی کو دور کرنے کے لیے وہ اپنے بھیجے گئے پیغامات بار بار پڑھتے ہیں۔ کیا اس عادت کا تعلق پرفیکشنزم سے بھی ہے؟ ماہرِ نفسیات کے مطابق اس کی ایک وجہ پرفیکشنزم یعنی ہر کام کو بے عیب انداز میں کرنے کی خواہش بھی ہو سکتی ہے۔ ایسے افراد عام سے میسج کو بھی بہترین بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور ہر لفظ، فل اسٹاپ اور ایموجی پر غیر ضروری غور کرنے لگتے ہیں۔ پیغام دوبارہ پڑھنے سے وقتی اطمینان ضرور مل سکتا ہے، لیکن کچھ دیر بعد دوبارہ شک پیدا ہونے لگتا ہے اور یوں یہ عادت ایک مسلسل چکر کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ اس عادت سے چھٹکارا کیسے حاصل کریں؟ ڈاکٹر گھوش کے مطابق اس عادت کو کم کرنے کا پہلا قدم یہ تسلیم کرنا ہے کہ آپ ہمیشہ یہ کنٹرول نہیں کر سکتے کہ دوسرا شخص آپ کی بات کو کیسے سمجھے گا۔ اس کے لیے چند آسان طریقے اپنائے جا سکتے ہیں: میسج بھیجنے کے بعد اسے بار بار کھولنے سے گریز کریں۔ پیغام بھیج کر کچھ دیر کے لیے فون ایک طرف رکھ دیں۔ ہر لفظ اور ایموجی کو مکمل بنانے کی کوشش نہ کریں۔ یہ قبول کریں کہ ہر بات کا فوری جواب یا ردعمل ملنا ضروری نہیں۔ دوبارہ میسج چیک کرنے کی خواہش ہو تو کچھ دیر اس بے چینی کو برداشت کرنے کی مشق کریں۔ یہ عادت کب پریشانی کی علامت بن سکتی ہے؟ کبھی کبھار اپنے پیغامات دوبارہ پڑھنا عام بات ہے اور ضروری نہیں کہ یہ کسی نفسیاتی مسئلے کی علامت ہو۔ تاہم اگر آپ گھنٹوں میسجز کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں، بار بار انہیں چیک کرتے ہیں یا اس وجہ سے نیند، پڑھائی اور کام متاثر ہونے لگتا ہے تو ماہرِ نفسیات سے مشورہ کرنا فائدہ مند ہو سکتا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل