Loading
برازیل نے کوئلے، تیل اور گیس پر عالمی انحصار ختم کرنے کے لیے دنیا کا پہلا روڈ میپ جاری کردیا جس میں ممالک کو معیشت اور ترقی متاثر کیے بغیر فوسل ایندھن سے بتدریج دور ہونے کے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔
برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق یہ منصوبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی موسمیاتی کانفرنسوں میں معاہدوں پر مذاکرات کے بجائے ان پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا جارہا ہے۔
برازیل میں عالمی موسمیاتی کانفرنس کے سربراہ آندرے کوریا ڈو لاگو کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں کو توانائی، مالیات، ٹرانسپورٹ اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق وزارتوں کو عملی اقدامات کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔
مجوزہ اقدامات میں تیل اور گیس کی پیداوار کے دوران خارج ہونے والی نقصان دہ گیسوں میں کمی، فوسل ایندھن پر دی جانے والی حکومتی سبسڈی میں کمی اور قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو فروغ دینا شامل ہے۔
تاہم ماہرین نے منصوبے میں واضح مدت اور اہداف مقرر نہ کیے جانے پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ ان کے بقول پیرس معاہدے کے تحت عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو ڈیڑھ ڈگری تک محدود رکھنے کے لیے تبدیلی کی رفتار واضح ہونا ضروری ہے۔
یاد رہے کہ برازیل نے جنگلات کی کٹائی روکنے کے لیے بھی الگ منصوبہ پیش کیا ہے۔ 2030 تک جنگلات کے تحفظ کے لیے سالانہ 300 ارب ڈالر جبکہ 2050 تک 500 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ اس وقت دستیاب عالمی مالی معاونت تقریباً 85 ارب ڈالر سالانہ ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل