Loading
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی دونوں ایوانوں میں شکست پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی عوام نے جنگ کے خلاف ووٹ دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں قالیباف نے کہا کہ امریکی عوام نے ضمیر کی آواز یا مہنگائی کے دباؤ کے تحت جنگ کے خلاف فیصلہ سنایا ہے۔ انہوں نے اس پیغام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ایران بھی امریکی عوام کے اس مؤقف کی تائید کرتا ہے۔
قالیباف نے خبردار کیا کہ اگر امریکی حکومت عوام کی خواہشات کو نظرانداز کرکے بین الاقوامی طاقتوں اور دباؤ ڈالنے والے عناصر کے مفادات کے لیے کام کرے گی تو اسے اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے اپنے بیان میں کہا کہ عوام کی جانب سے جنگ کو مسترد کرنے کے پیغام کو نظرانداز کرنا امریکا کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
Conscience or the cost of living, Americans said NO TO WAR, and we endorse this message.
If the US govt betrays their public will to serve international paymasters and blackmailers, it will learn our NO comes with a Nightmare.
— محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) November 4, 2026
قالیباف کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو کانگریس کے دونوں ایوانوں میں نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ انتخابی نتائج کے بعد ایران کے اعلیٰ حکام کی جانب سے امریکی عوام کے سیاسی فیصلے کو جنگ مخالف مؤقف سے جوڑنے کا سلسلہ سامنے آیا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل