Loading
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اسلام آباد کے سید پور ویلج میں سی ڈی اے آپریشن اور معاوضوں کی ادائیگی سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق کرنے کے کیس میں فریقین کے وکلاء سے دس نومبر کو حتمی دلائل طلب کر لیے۔
جسٹس راجہ انعام امین منھاس نے 127 پٹشنر کی درخواستوں پر سماعت کی، سیکریٹری داخلہ احمد رضا سرور عدالت میں بیٹھ کر سماعت مانیٹر کرتے رہے۔
جسٹس راجہ انعام امین منھاس نے کہا کہ ایک معاملہ ختم ہو چکا آپ اسے پچاس سال بعد کھول رہے ہیں، 2008 میں سپریم کا فیصلہ آگیا اس کی روشنی میں آیندہ سماعت پر دلائل دیں، انڈیا، پاکستان کی ججمنٹ بتا دیں کہ کبھی پہلے ایسا ہوا ہو،.کورٹ کا آرڈر پر عمل درآمد لازمی ہے یہ کوئی courtesy نہیں، یہ قانون ہے، عدالتی حکم کے بغیر کچھ ہوا تو سب گھر جائیں گے،پھر دیکھ لینا۔
جسٹس راجہ انعام نے کہا کہ کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہونی چاہیے، شفاف طریقے سے کیس کو چلائیں گے، جیسے زمین کا ایوارڈ کیا گیا کل کوئی کہے گا یہ میرا دادا نہیں تھا کسی اور کا دادا لگا دیا، پچھلی سماعت پر کہا گیا وہاں افغانی رہ رہا تھا، میں کہتا ہوں اگر کوئی افغانی کسی کی جگہ پر رہ رہا تھا اس مالک مکان کو مسئلہ ہوگا، بغیر قانون آپ کوئی چیز اٹھائیں گے اور بلڈوزر چلا دینگے ایسا نہیں ہوگا۔
جسٹس راجہ انعام امین نے کہا کہ ایسے سب کو پریشانی ہوگی، آپکو بھی اور عدالت کو بھی سمجھ نہیں آئے گی، کسی جانور کو بھی ایسے اٹھائیں گے تو اسے بھی سیٹ ہوتے وقت لگے گا، یہ معاملہ اگر بھیج دوں سول کورٹ تو پھر آپ کرتے رہنا اسکو حل، میں اس مسئلے کو حل کرنا چاہتا ہوں جو اصل حقوق ہیں ان کے لیے بات کریں۔
وکیل سی ڈی اے شہریار طارق نے کہا کہ پلاٹ الاٹ کیے گئے سب تفصیل موجود ہیں، ایک صاحب نے نیچے پن سے دو نام لکھ کر ڈائریکٹر سپورٹس کی سٹیمپ لگا کر اسٹے لے لیا، جو لوگ پہلے لے چکے پلاٹ وہ وصول کر چکے انکی لسٹ بھی موجود ہے، سیدپور معاملے پر عدالت کو ہر چیز بتائی عمل درآمد کیا ،ہر نوٹس کا جواب دیا۔
رضوان عباسی نے کہا کہ بری امام میں چھتیں گرنے کے بعد خواتین نے کھلے آسمان تلے چولہے جلائے ، جسٹس راجہ انعام نے کہا کہ دس نومبر کو وکلاء تیار ہو کر لیگل پوائنٹ پر دلائل دیں، اس روز میں کوئی تیکنیکی بات نہیں سنوں گا، گیارہ نومبر کے بعد میں دستیاب نہیں ہونگا۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر انعم فاطمہ، وکیل سی ڈی اے شہریار طارق عدالت میں پیش ہوئے، متاثرین کی جانب سے وکیل راجہ رضوان عباسی ، قیصر امام، و دیگر عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے حتمی دلائل طلب کرتے ہوئے سماعت دس نومبر تک ملتوی کر دی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل