Loading
گوادر کے ساحل پر دنیا کےبڑے آبی حیات میں شمار ہونے والی بلیو وہیل مردہ حالت میں ملی، تقریباً 30 فٹ لمبی بلیو وہیل گزشتہ دو روز سے گوادر کے سمندر میں تیرتی ہوئی دیکھی جارہی تھی، جو بدھ کے روز سمندر کی لہروں کے دوش پر گوادر ایسٹ بے کے ساحل کے قریب پہنچ گئی ۔
بلیو وہیل گزشتہ دو روز سے گوادر کے سمندر میں مختلف مقامات پر تیرتی ہوئی دیکھی جارہی تھی۔ تاہم، بدھ کے روز سمندری لہریں اسے گوادر ایسٹ بے کےساحل کے قریب لے آئی، جہاں اس کا مردہ جسم پایا گیا۔ ساحل پر ملنے والی وہیل کی لمبائی تقریباً 30 فٹ بتائی جارہی ہے۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر سمندری حیات کے تحفظ سے متعلق اداروں کی جانب سے بھی صورتحال کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے تکنیکی مشیر محمد معظم خان کے مطابق کسی بڑی وہیل کی ہلاکت سمندری حیاتیاتی تنوع کے لیے تشویش ناک واقعہ ہے۔ ابتدائی امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ وہیل سمندر کے کم گہرے پانی میں داخل ہوگئی تھی، جس کے باعث اس کی سمت شناسی متاثر ہوئی اور وہ راستہ بھٹک کر ساحل کے قریب پہنچ گئی۔ تاہم، وہیل کی ہلاکت کی اصل وجہ تاحال معلوم نہیں ہوسکی، ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے واقعے کی مزید تحقیقات شروع کردی ہیں۔
محمد معظم خان کے مطابق ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان ملک کے ساحلی علاقوں میں ساحل پر پھنسنے والی وہیلز کے واقعات کا ریکارڈ مرتب کرتا ہے اور پاکستان کی سمندری حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے ساتھ نایاب سمندری حیات کے حوالے سے عوامی آگاہی کے لیے بھی اقدامات کررہا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان کے ساحلی علاقوں میں گزشتہ برسوں کے دوران بلیو وہیل سمیت بڑی وہیلز کے ساحل پر پھنسنے اور مردہ حالت میں ملنے کے متعدد واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں۔ اپریل 2019 میں گوادر کے ساحل پر تقریباً 34 فٹ لمبی وہیل مردہ حالت میں پائی گئی تھی جبکہ مئی 2023 میں جیوانی کے ساحلی علاقے بندری میں تقریباً 42 فٹ لمبی مردہ وہیل ملی تھی ،اسی سال نومبر میں پسنی کے قریب 27 فٹ لمبی برائیڈز وہیل بھی مردہ حالت میں برآمد ہوئی تھی۔ جون 2024 میں گوادر کے علاقے کنٹانی کے قریب سمندر میں تقریباً 35 فٹ لمبی وہیل مردہ حالت میں تیرتی ہوئی پائی گئی تھی ۔
ماہرین کے مطابق بلیو وہیل دنیا کا سب سے بڑا جانور ہے، جو جسامت اور وزن کے اعتبار سے کرہ ارض پر موجود تمام جانوروں میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔ بلیو وہیل درحقیقت مچھلی نہیں بلکہ ممالیہ جانور ہے، اس لیے اسے سانس لینے کے لیے وقفے وقفے سے سمندر کی سطح پر آنا پڑتا ہے۔ یہ کرل نامی انتہائی چھوٹے سمندری جانداروں کو اپنی خوراک بناتی ہے اور ایک اندازے کے مطابق 80 سے 90 سال یا اس سے بھی زیادہ عرصے تک زندہ رہ سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بلیو وہیل کو عالمی سطح پر خطرے سے دوچار انواع میں شمار کیا جاتا ہے۔ ماضی میں بڑے پیمانے پر تجارتی شکار کے باعث اس کی آبادی میں نمایاں کمی واقع ہوئی تھی جبکہ موجودہ دور میں سمندری آلودگی، ماہی گیری کے جالوں میں پھنسنے، بحری جہازوں سے ٹکراؤ اور دیگر سمندری خطرات بھی اس نایاب مخلوق کی بقا کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں ،گوادر کے ساحل پر حالیہ واقعہ پاکستان کے سمندری ماحولیاتی نظام اور نایاب آبی حیات کے تحفظ کی اہمیت کو ایک بار پھر اجاگر کرتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل