Thursday, November 05, 2026
 

پولیو سے پاک پاکستان کا حصول ایک بڑا چیلنج ہے، وزیر اعظم

 



وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ  پولیو سے پاک پاکستان کا حصول ایک بڑا چیلنج ہے، تاہم ہمارا عزم اور حوصلہ اس چیلنج سے کہیں زیادہ مضبوط ہے، صوبوں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ قریبی مشاورت اور مشترکہ حکمتِ عملی کے ذریعے پاکستان سے پولیو کا مکمل خاتمہ یقینی بنانا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت  انسداد پولیو پر جائزہ اجلاس ہوا، وزیراعظم نے ملک بھر میں انسدادِ پولیو مہمات کی کامیاب انعقاد کے لیے فرنٹ لائن پولیو ورکرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے عزم، محنت اور خدمات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ انسداد پولیو مہمات کے دوران فرنٹ لائن ورکرز کی مسلسل رسائی اور ان کی سکیورٹی یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے،  ملک بھر میں معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات (روٹین امیونائزیشن) کی کوریج کو مزید بہتر بنایا جائے۔ وزیراعظم نے خصوصی طور پر پولیو سے متاثرہ اور پولیو کے حوالے سے تشویش کے حامل علاقوں میں حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج بڑھانے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے سکیورٹی کے حوالے سے حساس اور مشکل علاقوں میں انسدادِ پولیو مہمات کے لیے رسائی میں نمایاں بہتری کو قابلِ تحسین قرار دیا اور ملک میں سامنے آنے والے حالیہ پولیو کیسز پر  تشویش کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پولیو کے خلاف پہلے سے زیادہ بہتر حکمت عملی اور بھرپور جدوجہد سے آگے بڑھنا ہو گا۔ وزیراعظم نے وفاقی وزیر، وزیر مملکت ، سیکرٹری  قومی صحت اور انسداد پولیو ٹیم کے اراکین کو فوری طور پر چاروں  صوبوں کا فوری دورہ کر کے  وزراء اعلیٰ اور چیف سیکریٹریز سے ملاقاتوں کی ہدایت کی اور کہا کہ  ایک ہفتے کے اندر چاروں صوبوں سے مشاورت کے بعد انسداد پولیو کا مربوط لائحہ عمل تیار کیا جائے۔ اجلاس کو ملک میں حالیہ پولیو کیسز اور  انسداد پولیو کے حوالےسے اقدامات پر بریفنگ دی گئی، آج ہی ضلع خیبر سے پولیو کا نیا کیس سامنے آیا ہے جس کے بعد رواں سال ملک میں پولیو کیسز کی تعداد 9 ہو گئی، 2026 میں صوبہء خیبر پختونخوا میں ضلع خیبر سے 3, بنوں سے 3 اور  شمالی وزیرستان سے ایک پولیو کیس سامنے آیا؛ ضلع خیبر سے سامنے آنے والے تمام پولیو کیسز  افغانستان کے پولیو وائرس سے متعلق ہیں۔ بریفنگ  میں کہا گیا کہ رواں سال صوبہء سندھ میں ضلع کراچی شرقی سے ایک اور ضلع سجاول سے ایک پولیو کیس سامنے آیا، افغانستان سے ہونے والی آمد و رفت پاکستان میں اس وقت پولیو کے پھیلنے کی ایک بڑی وجہ ہے، صوبہء پنجاب میں فروری 2025سے پولیو کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا؛ صوبہء بلوچستان سے 2025 اور 2026 میں پولیو کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد جموں وکشمیر اور گلگت بلتستان پہلے سے پولیو سے پاک ہیں، رواں سال صوبہء سندھ کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مقدار میں کمی دیکھنے میں آئی ہے، انسداد پولیو ٹیموں کی سیکیورٹی بہتر بنانے اور انہیں خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں بہتر رسائی دینے کے حوالےسے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر قومی صحت سید مصطفیٰ کمال، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیر مملکت برائے قومی صحت ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ، وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیو سینٹر عائشہ رضا فاروق اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل