Loading
لاہور نارووال سیکشن پر ٹرینوں کی مسلسل تاخیر اور پرانی و خستہ حال بوگیوں کے استعمال نے مسافروں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا۔
لاہور سے نارووال جانے والی صبح اور رات کی ٹرینیں روزانہ دو سے تین گھنٹے تاخیر کا شکار ہونے لگیں، مسافر بروقت منزل پر پہنچنے کے بجائے گھنٹوں انتظار کرنے پر مجبور ہیں جبکہ بعض مسافروں کے مطابق بوگیوں کی گنجائش اور سہولیات کی کمی کے باعث انہیں چھتوں پر چڑھ کر سفر کرنا پڑتا ہے۔
ذرائع کے مطابق لاہور سے نارووال جانے والی 211 اپ نارووال پسنجر اور 209 اپ فیض احمد فیض پسنجر کی تاخیر معمول بن گئی ہے۔ ٹرینوں میں استعمال ہونے والی متعدد بوگیاں بھی پرانی اور خستہ حال ہیں، جن کے اندرونی حصے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ مسافروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایسی بوگیوں کا استعمال کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور نارووال سیکشن پر ریلوے حکام کی جانب سے برانچ لائن کو مین لائن جیسی ترجیح نہیں دی جاتی جبکہ ٹرینوں کے ریک شیئرنگ سسٹم نے بھی تاخیر کے مسائل بڑھا دیے ہیں۔ ایک ہی ریک سے مختلف ٹرینیں چلانے کے باعث روزانہ چار مرتبہ ریک تبدیل کیے جاتے ہیں، جس سے ٹرینوں کی روانگی کا نظام متاثر ہو رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق 211 اپ نارووال پسنجر صبح لاہور سے روانہ ہو کر دوپہر تقریباً ایک بجے نارووال پہنچتی ہے، جبکہ 212 ڈاؤن نارووال پسنجر شام پانچ بجے نارووال سے لاہور کے لیے روانہ ہوتی ہے۔ لاہور پہنچنے کے بعد یہی ریک رات آٹھ بجے فیض احمد فیض پسنجر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، حالانکہ اس ٹرین کی روانگی کا مقررہ وقت شام ساڑھے سات بجے ہے۔ 212 ڈاؤن کی آمد کے باعث فیض احمد فیض پسنجر کی روانگی رات نو بجے معمول بن چکی ہے، جس سے مسافروں کو ڈیڑھ سے دو گھنٹے تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ریک کی عدم دستیابی کے باعث لاہور سے نارووال جانے والی فیض احمد فیض پسنجر کے مسافر روزانہ دو سے تین گھنٹے تاخیر برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔ پرائیویٹ ٹھیکے پر چلنے والی ٹرینوں کی تاخیر پر جرمانے عائد کیے جاتے ہیں، تاہم ایک ہی ریک سے متعدد ٹرینیں چلانے کے نظام میں محکمہ ریلوے اور نجی آپریٹرز مطمئن دکھائی دیتے ہیں، جس کا خمیازہ عام مسافروں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
مسافروں نے ریلوے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ لاہور نارووال سیکشن پر ٹرینوں کی بروقت روانگی یقینی بنانے، ریک کی دستیابی بہتر بنانے اور پرانی بوگیوں کی جگہ بہتر سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ مسافروں کو روزانہ کی اذیت سے نجات مل سکے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل