Friday, August 29, 2025
 

سیلاب، سندھ کی درخواست پرآج ہونے والا این ایف سی اجلاس ملتوی

 



وفاقی حکومت نے ملک میں سیلاب کی وجہ سے پیدا ہونے صورتحال کے سبب  سندھ کی درخواست پر آج (جمعہ) ہونے والا نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی)  کا 11واں اجلاس ملتوی کردیا۔ اجلاس میں بلوچستان کے ٹیکنیکل ممبرنے بھی حاضری سے معذوری کا اظہارکردیا تھا جس پر وزارت خزانہ نے اجلاس ملتوی کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا۔ این ایف سی میں 9 ممبر ہوتے ہیں جن میں ایک وفاقی وزیرخزانہ  محمد اورنگزیب ہیں جو کمیشن کی صدارت  کرتے ہیں، باقی ہرصوبے کے دوممبر کمیشن  کا حصہ ہیں۔ان میں ایک ہرصوبے کا وزیرخزانہ ہوتا ہے جبکہ ہرصوبے سے ایک ٹیکنیکل ممبربھی لیا جاتا ہے۔ این ایف سی سیکرٹریٹ کے مطابق 9  میں سے آٹھ ارکان نے اجلاس میں شرکت سے معذوری ظاہرکی تھی لہذا اجلاس ملتوی کرنا پڑا۔بلوچستان کے ممبر فرمان اللہ کی کوئی دوسری مصروفیات تھیں،کمیشن میں پنجاب کی نمائندگی ناصر محمود کھوسہ کرتے ہیں،سندھ کے ممبراسد سعید ہیں،ڈاکٹر مشرف رسول سیان خیبرپختونخوا کے نمائندہ ہیں۔ صدر پاکستان نے وفاق اور صوبوں میں محاصل کی تقسیم کے معاملے پر یہ اجلاس بلایا تھا۔ 2010ء کے ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت فیڈرل پول میں  صوبوں کا حصہ انہیں بغیر کوئی اضافی ذمہ داریاں تفویض کیے 10 فیصد بڑھا کر 57.5 فیصد کردیا گیا ہے۔ لہذا بجٹ خسارے کی وجہ سے  وفاق پر سرکاری قرضوں کا بوجھ بڑھ گیا ہے۔وفاق میں آنے والی اب تک کی حکومتیں سیاسی مقاصد نے تحت بلاوجہ  اپنے اخراجات  میں کمی سے گریزکرتی آئی ہیں ،ایف بی آربھی 2015ء سے ٹیکس ٹوجی ڈی پی 15 فیصد تک بڑھانے میں ناکام رہا ہے۔ ایف بی آرٹیکس ٹوجی  ڈی پی کے معاملے میں آئی ایم ایف کا ہدف 10.6 فیصد پورا بھی نہیں کرسکا۔کمیشن کے اس اجلاس میں وفاقی وزارت خزانہ اورصوبوں نے اپنی اپنی مالی صورتحال کو واضح کرنا تھا۔ وفاقی وزارت خزانہ نے اگلے پانچ سال کی میکرواکنامک پروجیکشن کیلئے ورلڈ بینک سے بھی درخواست کر رکھی ہے۔آئی ایم ایف  اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں  2030ء تک پاکستان کی اقتصادی صورتحال کو  مستحکم قراردے چکا ہے۔ اس بات نے صوبوں کے شیئرمیں سے کٹوتی کیلئے وفاقی وزارت خزانہ کے کیس کو کمزورکردیا ہے۔پلاننگ کمیشن اڑان پاکستان پروگرام کے تحت  اقتصادی شرح نمو6 فیصد اور برآمدات میں بڑی بڑھوتری کی نشاندی کرچکا  ہے۔ اس پروگرام کے تحت پاکستان کا ریونیوجی ڈی پی کے اعتبارسے 16 فیصد بڑھے گا جبکہ اخراجات 18.8 فیصد تک محدود رہیں گے۔یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ملک کا مالی خسارہ جی ڈی پی کے 2.8 فیصد تک محدود رہے گا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل