Loading
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کی بندش کے عمل کو احسن انداز میں آگے بڑھانے کیلیے یوٹیلٹی اسٹورز ملازمین کیلیے 30.216ارب روپے کے مالی پیکیج کی منظوری دیدی ہے۔ اس میں سے 25 ارب روپے ملازمین کی برطرفی کیلیے بطورگولڈن ہینڈ شیک جبکہ بقیہ 5 ارب روپے واجبات، تنخواہوں اور عارضی طور پر برقرار 832 ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے ہیں، جنہیں بھی ایک سال کے اندر فارغ کر دیا جائے گا۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرصدارت ہوا۔ اجلاس میں وزرائے خوراک، تجارت،توانائی، معاون خصوصی صنعت و پیداواراوردیگرحکام شریک ہوئے۔ اجلاس میں یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کی بندش کیلئے تکنیکی ضمنی گرانٹ اورکارپوریشن کی منظم بندش کے لیے فنڈنگ پلان کی منظوری دی گئی۔کمیٹی نے ای سی سی نے ملازمین کے واجبات، گریجویٹی اور مراعات کی ادائیگی یقینی بنانے کا بھی اعلان کیا ہے۔ یوٹیلٹی سٹورز کے اثاثے اور جائیدادیں رواں مالی سال فروخت کی جائیں گی،فروخت سے حاصل رقم بندش کے اخراجات پورے کرنے میں استعمال ہوگی۔اجلاس میں وزارت صنعت و پیداوار کو مالی ضروریات مزید کم کرنے کی ہدایت کی گئی۔ وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے بندش کے عمل کو شفاف اور منظم طریقے سے مکمل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ملازمین کے حقوق کے تحفظ اور مالی نظم و ضبط پر پرعزم ہے۔ حکومت کے اس عمل کے ساتھ ہی نصف صدی پرانے اس ادارے پر پردہ گر گیا ہے جو ملک بھر میں غریب عوام کو سبسڈی پر اشیائے خوردونوش فراہم کرتا رہا ہے۔ 1971 میں جنرل یحییٰ خان کے دور میں قائم ہونے والا یہ ادارہ 5,600 آؤٹ لیٹس کے ذریعے عام شہریوں کو بنیادی اشیائے ضرورت رعایتی نرخوں پر مہیا کرتا اور قیمتوں کو متوازن رکھنے میں بھی کردار ادا کرتا رہا ہے۔ تاہم برسوں کی بدانتظامی اور نااہل افراد کی تقرریوں کے باعث ادارہ خسارے میں چلا گیا اور بالآخر حکومت نے بغیر کسی کو جوابدہ ٹھہرائے اس کے دروازے بند کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ ای سی سی کو بتایا گیا کہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں یوٹیلٹی سٹورز کا نیٹ ورک 1,023 سے بڑھا کر 5,557 سٹورز اور عملہ 3,892 سے بڑھا کر 12,749 تک کر دیا گیا تھا۔ تاہم موجودہ حکومت نے سالانہ 2 ارب روپے کے نقصان سے بچنے کے لیے ادارے کو بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ وزارت خزانہ نے وضاحت دی کہ یہ اقدام قومی خزانے پر یو ایس سی کے مالی بوجھ کو ختم کرنے اور ملازمین کو واجبات کی ادائیگی یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ ان پر سماجی و معاشی اثرات کو کم کیا جا سکے۔ ای سی سی کو آگاہ کیا گیا کہ یو ایس سی کی 21 جائیدادوں کی قیمت 10.5 سے 12.6 ارب روپے تک ہے مگر بیشتر کی ملکیت ادارے کے نام نہیں، اس لیے فروخت میں قانونی پیچیدگیاں درپیش ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل