Loading
دریائے چناب کی بپھری موجوں نے جنوبی پنجاب میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں، ملتان شہر کو ممکنہ تباہی سے بچانے کے لیے انتظامیہ نے ہیڈ محمد والا پر کنٹرولڈ شگاف ڈالنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ضلعی حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر انخلاء کا عمل تیز کر دیا ہے اور 60 فیصد آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر وسیم حامد کے مطابق، اگر شگاف نہ ڈالا گیا تو شہر کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اگلے دو روز انتہائی نازک قرار دیے گئے ہیں کیونکہ دریائے چناب کا انتہائی طاقتور سیلابی ریلا جھنگ کے بعد اب ملتان کا رخ کر رہا ہے۔ ملتان کی تحصیل جلال پور پیروالا کے 18 دیہات پہلے ہی پانی کی لپیٹ میں آ چکے ہیں، مجموعی طور پر 138 سے زائد موضع جات متاثر ہوئے ہیں۔ ادھر مظفرگڑھ میں صورتحال نہایت سنگین ہو چکی ہے، جہاں 5 مقامات پر حفاظتی بند توڑنے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں تاکہ چناب کے ممکنہ طغیانی ریلے کو قابو میں لایا جا سکے۔ سرگودھا کے علاقے کوٹ مومن میں پانی نے کھیتوں کو نگل لیا، فصلیں تباہ ہو گئیں اور مقامی دیہات کا زمینی رابطہ کٹ گیا۔ منڈی بہاالدین کی تحصیل پھالیہ کے 69 دیہات مکمل طور پر زیر آب آ چکے ہیں، جہاں راستے ختم ہو چکے ہیں اور لوگ محصور ہو گئے ہیں۔ حافظ آباد میں دھان اور چارے کی فصلیں سیلابی ریلے کی نذر ہو گئیں۔ گوجرانوالہ میں نالہ پلکھو اوور فلو ہونے سے دیہات کا رابطہ کٹ گیا، جب کہ وزیرآباد میں دریا کنارے آباد کئی بستیاں ڈوب گئیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل