Friday, August 29, 2025
 

آئینی بینچ میں 8 ستمبر سے اہم کیسزکی دوبارہ سماعت، روسٹر جاری

 



سپریم کورٹ کا آئینی بینچ دوماہ سے زائد وقفہ کے بعد 8 ستمبر سے دوبارہ کام شروع کرے گا،27 جون کو آخری سماعت میں آئینی بینچ نے سپریم کورٹ کا وہ فیصلہ منسوخ کیا جس میں مخصوص نشستوں پر پی ٹی آئی کا حق تسلیم کیا گیا تھا۔ ادھر نئے عدالتی سال کے آغاز پر سپریم کورٹ کا فل کورٹ اجلاس بلانے پر غور جس میں ججز، بار ممبران ،سائلین اور عوام کی تجویز کا جائزہ لیا جائے گا ، سپریم کورٹ رولز 2025 سے متعلق مزید تجاویز کیلیے پبلک نوٹس جاری ، جس کے مطابق ججز کمیٹی میں پیش تجاویز  فل کورٹ کے سامنے پیش کی جائیں گی۔  سپریم کورٹ نے جسٹس امین الدین خان کے سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بینچ کا روسٹر جاری کردیا، آئینی بینچ 8 سے12ستمبر تک آئین وقانون کی تشریح سے متعلق امورکی سماعت کرے گا، سپر ٹیکس کی دوبارہ سماعت بھی متوقع ہے۔ گزشتہ سال نومبر سے آئینی بینچ 26 ویں آئینی ترمیم پر فیصلہ نہ کر سکا، جنوری میں سماعت تین ہفتے کیلئے موخر، بعدازاں سماعت ہی نہ کی۔آئینی بینچ کی تشکیل کوبھی چیلنج کا سامنا ہے، سوال اٹھائے جا رہے کہ 26 ویں ترمیم سے مستفید ہونیوالے اس کے مستقبل کا فیصلہ کیسے کر سکتے ہیں۔ فروری میں 8 نئے ججوں کی تقرری سے سپریم کورٹ کی صورتحال  بھی بدل چکی ہے، ان میں بیشتر آئینی بینچوں میں شامل ہیں۔ 10 ماہ  بعد بھی آئینی بینچ اپنے قواعدوضوابط تشکیل دینے میں ناکام ہے، اس کی نشاندہی جسٹس جمال مندوخیل کر چکے، آئینی بینچ نے صرف 3 فیصلے  کئے۔  ان میں مخصوص نشستوں پر پی ٹی آئی کے حق تسلیم کرنیکے فیصلہ کی منسوخی، پی ٹی آئی کارکنوں کیخلاف کیسز کی فوجی عدالتوں میں سماعت کی توثیق اوردیگر ہائیکورٹس کے ججز کی اسلام آباد ہائیکورٹ ٹرانسفردرست قرار دینا شامل ہیں۔ تینوں اہم کیسز کا تفصیلی فیصلہ جاری نہیں ہوا ۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل