Loading
ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سیکٹر یونیورسٹیز آف پاکستان (APSUP) کے زیر اہتمام 2030 کا پاکستان چیلنجز، امکانات اور نئی راہیں کے عنوان سے یونیورسٹی آف لاہور میں خصوصی لیکچر منعقد کیا گیا جس میں چیئرمین پنجاب گروپ میاں عامر محمود نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ تقریب میں چیئرمین ایپ سپ چوہدری عبدالرحمن، چیئر مین بورڈ آف گورنرز دی یونیورسٹی آف لاہور اویس رؤف، ایگزیکٹو ڈائریکٹر پنجاب گروپ سہیل افضل،ریکٹر یونیورسٹی آ ف لاہور پروفیسر ڈاکٹر محمد اشرف ، ڈین آفس آف سٹوڈنٹس افیئرز عمارہ اویس سمیت فیکلٹی ممبران اور طلبہ کی بڑی تعداد نے بھرپور شرکت کی۔ مہمان خصوصی میاں عامر محمود نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں 33نئے صوبے بننے چاہئیں، اسکے بغیر پاکستان ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتا۔عوامی مسائل کا حل صرف اور صرف مضبوط اور با اختیار مقامی حکومتوں اور چھوٹے صوبوں کی تشکیل میں ہے۔ پاکستان میں گورننس ماڈل اب فرسودہ ہو چکا ہے۔ پنجاب کی آبادی 1951 میں دو کروڑ تھی جو آج 17 کروڑ تک پہنچ چکی ہے مگر گورننس کے ڈھانچہ کو اپڈیٹ نہیں کیا جا سکا۔ دنیا میں آبادی کے بڑھنے کے ساتھ گورننس کے ماڈلز بھی تبدیل ہوئے مگر پاکستان میں ایسا نہیں ہوا۔ اگر ہر ڈویژن کو صوبہ بنا دیا جائے تو ملک میں 33 صوبے بن سکتے ہیں جس سے اخراجات بھی کم ہوں گے اور عدالتی نظام بھی موثر ہوگا۔اس وقت جو عدالتی نظام چل رہا ہے اس میں بہتری کی بہت گنجائش ہے، ایک جج کے پاس ایک دن میں سینکٹروں کیسز لگے ہوتے ہیں جنکو ایک دن میں سننا کسی بھی جج کے لئے ممکن نہیں ہوتا۔ عدالتوں میں لاکھوں کی تعداد میں کیسز التوا کا شکار ہیں، اگر پاکستان میں نئے صوبے بنائے جائیں تو یہ کیسز بھی جلدی نپٹائے جا سکیں گے۔میاں عامر محمود نے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں لوکل گورنمنٹ کو کبھی سنجیدہ نہیں لیا گیا حالانکہ شہریوں کے مسائل کے حل کا واحد پلیٹ فارم مقامی حکومت ہے، بدقسمتی سے وفاقی اور صوبائی حکومتیں اختیارات اپنے پاس رکھتی ہیں۔ تعلیم میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے، اسوقت پاکستان میں پچیس ملین بچے اسکولوں سے باہر ہیں اور صرف 38 فیصد عوام کو صاف پانی دستیاب ہے۔اگر تعلیم اور ہنر پر توجہ نہ دی گئی تو یہ بچے آئندہ دہائیوں میں معیشت پر بوجھ ثابت ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں لیڈرشپ کے مواقع محدود ہیں، بڑے صوبوں کی وجہ سے سیاسی قیادت چند خاندانوں اور اشرافیہ تک محدود ہو گئی ہے، چھوٹے صوبوں سے مڈل کلاس کے نوجوانوں کو سیاست اور قیادت میں آگے آنے کا موقع ملے گا۔میاں عامر محمود نے کہا کہ میں نے لاہور میں بطور میئر کام کیا ہے، لوکل گورنمنٹ ہمارے ملک کا سب سے کمزور ادارہ ہے، حکومت کو زیادہ تر جو بھی کام ہوتا ہے وہ لوکل گورنمنٹ سے منسلک ہوتا ہے بدقسمتی سے ہم نے اس ملک میں بلدیات کو کبھی بھی مضبوط نہیں ہونے دیا۔ ملکوں میں سات بڑے پوائنٹس کی وجہ سے حکومت بنائی جاتی ہے، ان سب میں پبلک ویلفیئر سب سے زیادہ اہم ہے، لوکل گورنمنٹ کے کام صوبائی حکومتیں کر رہی ہیں، صوبائی حکومتوں کے حالات ہم سب کے سامنے ہیں۔سٹینڈرڈ ڈویلپمنٹ کے معاملے پر دنیا کے ایک سو ساٹھ ممالک میں ہم ایک سو چالیس پر کھڑے ہیں جبکہ لا اینڈ آرڈر کے معاملے پر دنیا میں ایک سو بیالیس ممالک میں سے ایک سو انتیس پوزیشن پر ہیں۔ بچوں کی سٹنٹڈ گروتھ میں ہم ایک سو ستائیس میں سے ایک سو نویں نمبر پر ہیں ۔کچھ لوگوں کے مفادات کی وجہ سے مزید صوبے نہیں بن پا رہے۔ ملتان،بہاولپور،ہزارہ، پوٹھوہار،مہاجر بھی اپنا صوبہ چاہتے ہیں جو بننے چاہئے۔ چیئرمین بورڈ آف گورنرز دی یونیورسٹی آف لاہور اویس رؤف نے کہا کہ پاکستان میں ہائر ایجوکیشن میں نجی شعبہ فیصلہ کن کردار ادا کر رہا ہے۔ اس سال سرکاری یونیورسٹی سے زیادہ سٹوڈنٹس نے پرائیویٹ یونیورسٹیز میں داخلے لئے ہیں جو پرائیویٹ نظام تعلیم پر اعتماد کا مظہر ہے۔ آج ملک کے پچاس فیصد طلبہ نجی جامعات میں تعلیم حاصل کررہے ہیں تقریب میں سوال و جواب کا سیشن بھی رکھا گیا جس میں طلبہ نے چیئرمین پنجاب گروپ میاں عامر سے مختلف موضوعات پر سوالات کئے۔تقریب کے اختتام پر چیئرمین یونیورسٹی آف لاہور اویس رؤف اور چیئر مین ایپ سپ چوہدری عبد الرحمان نے مہمان خصوصی میاں عامر محمود کو شیلڈ پیش کی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل