Friday, August 29, 2025
 

وفاقی حکومت ملک میں نئے ڈیمز کی تعمیر کیلیے کمربستہ

 



وفاقی حکومت نے ملک میں موسمیاتی تبدیلیوں ،بارشوں ،سیلابی صورتحال اور نئے ڈیموں کی تعمیر کے حوالے سے ملکی سطح پر گرینڈ ڈائیلاگ شروع کرنے کافیصلہ کرلیا۔ اس حوالے سے وزیراعظم کی جانب سے جلد ایک اعلیٰ سطح کی سیاسی کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو ان معاملات پر پارلیمانی جماعتوں سے رابطہ کرکے حکمت عملی مرتب کرے گی۔ ن لیگ کے اہم ذرائع نے بتایا کہ لیگی قیادت نے ملک میں موسمیاتی تبدیلیوں،سیلاب اور دیگر صورتحال پر تفصیلی مشاورت کی ،اس مشاورت کے حوالے سے معلوم ہوا یے کہ موسمیاتی تبدیلی اور اس سے پیدا یونے والے حالات و مشکلات کو قومی ایشو کے طور پر سامنے لایا جائے گا۔ ن لیگ ایک سیاسی کمیٹی جلد تشکیل دے رہی ہے ،مشاورت کی روشنی میں آل پارٹیز کانفرنس بلائے گی۔اس معاملے ایک تجویز یہ بھی زیر غور ہے کہ ایک  پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے جس میں ارکان اسمبلی اور آبی وماحولیاتی و موسمیاتی ماہرہن سمیت دیگر شامل کیے جائیں،جو نئے ڈیمز کی تعمیر اور موسمی و ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے پالیسی و منصوبہ بندی کرے۔ ان تجاویز کو  روشنی میں اتفاق رائے کے بعد ٹاسک فورس تشکیل دی جاسکتی ہے جس میں وفاق،صوبوں،ماہرین اور دیگر شامل کیے جائیں گے جو نئے ڈیمز کی فوری تعمیر کے حوالے سے اقدام کرے گی۔ذرائع نے بتایا کہ وفاقی حکومت اس معاملے پر صوبائی حکومتوں سے بھی مشاورت کرے گی۔ ان تجاویز کی روشنی میں اتفاق رائے کے بعد ٹاسک فورس تشکیل دی جاسکتی یے،ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت ملک میں فوری چھوٹے،درمیانی اور بڑے ڈیمز تعمیر کرنے کا ارادہ کررہی ہے۔اس حوالے سے فنڈز کے انتظامات کے لیے اپنے وسائل سمیت متعلقہ عالمی مالیاتی اداروں سے رجوع کیا جائے گا۔ وفاقی حکومت کی پالیسی ہے کہ نئے ڈیمز کی تعمیر اور موسمیاتی تبدیلیوں سے مشکلات سے بچاؤ کے لیے پالیسی سمیت تمام منصوبے قومی اتفاق رائے سے بنیں۔ اس حوالے سے تمام تجاویز اور مشاورت کے بعد وفاقی حکومت جلد اقدام اور پالیسی پر عمل کرے گی۔ فی الحال یہ تجاویز و مشاورت ن لیگ کی مشاورت میں شامل ہیں۔وزیر مملکت برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کھیئل داس کوہستانی نے ایکسپریس کے رابطہ کرنے پر بتایا کہ ملک میں پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے نئے ڈیمز وقت کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف صوبائی حکومتوں سے پہلے مشاورت کرچکے ہیں۔وفاقی حکومت نئے ڈیموں کی تعمیر قومی اتفاق رائے سے کرے گی۔کوئی متنازع آبی منصوبہ نہیں بنایا جائے گا۔آبی ذخائر کی تعمیر کے لیے مشاورتی عمل جاری ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل