Tuesday, January 06, 2026
 

5 جنوری 1949: کشمیر پر اقوام متحدہ کا تاریخی فیصلہ، حقِ خودارادیت آج بھی منتظر

 



آج 5 جنوری کو دنیا بھر میں اقوام متحدہ کی اس تاریخی قرارداد کی یاد منائی جا رہی ہے جو 5 جنوری 1949 کو سلامتی کونسل نے منظور کی تھی۔ اس قرارداد کے تحت کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت دینے کا وعدہ کیا گیا تھا اور واضح کیا گیا تھا کہ مسئلہ کشمیر نہ تو بھارت کا اندرونی معاملہ ہے اور نہ ہی کوئی حل شدہ تنازع، بلکہ ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی مسئلہ ہے۔ اقوام متحدہ کی قرارداد میں کہا گیا تھا کہ جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ آزاد، شفاف اور غیر جانبدار رائے شماری کے ذریعے کیا جائے گا، جو اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہونا تھی۔ یہ اصول برصغیر کی تقسیم کے دوران دیگر ریاستوں پر بھی لاگو کیا گیا تھا، جب 560 سے زائد نوابی ریاستوں کو پاکستان یا بھارت سے الحاق کا اختیار دیا گیا تھا اور کسی آزاد یا خودمختار ریاست کا کوئی آئینی تصور موجود نہیں تھا۔ ماہرین کے مطابق جموں و کشمیر کے معاملے میں بھی یہی اصول اپنایا جانا تھا، کیونکہ اس خطے کی جغرافیائی حیثیت، معاشی روابط، آبادی کی اکثریت اور سیاسی رجحانات فطری طور پر پاکستان کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔ اگرچہ یہ قرارداد آج بھی اقوام متحدہ کے ریکارڈ کا حصہ ہے اور نہ کبھی منسوخ ہوئی اور نہ ہی اس کی قانونی حیثیت ختم ہوئی، تاہم گزشتہ سات دہائیوں سے اس پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس تاخیر نے اس حقیقت کو اجاگر کر دیا ہے کہ مسئلہ کشمیر زمین کے تنازع سے زیادہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت سے انکار کا معاملہ ہے۔ 5 جنوری اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کسی بھی خطے پر قبضہ عوامی مرضی کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ مبصرین کے مطابق جب تک اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد نہیں ہوتا، یہ دن ایک ادھورے عالمی وعدے کی علامت کے طور پر منایا جاتا رہے گا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل