Tuesday, January 06, 2026
 

عمران خان کے منظر سے ہٹنے اور خاتمے کا وقت قریب آرہا ہے، اقرار الحسن کا دعویٰ

 



معروف ٹی وی اینکر اقرار الحسن کا کہنا ہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے منظر سے ہٹنے اور ان کے دور کے خاتمے کا وقت قریب آتا دکھائی دے رہا ہے۔ لندن میں گفتگو کرتے ہوئے اقرار الحسن نے کہا کہ عمران خان ماشاءاللہ 74 برس کے ہونے والے ہیں اور وہ اپنی زندگی اور سیاست میں اپنا حصہ ڈال چکے ہیں۔ ان کے مطابق عمران خان نے زندگی میں کچھ اچھے اور کچھ برے فیصلے کیے، سیاست میں کئی غلطیاں بھی ہوئیں اور بعض اقدامات درست بھی رہے تاہم اب انہیں محسوس ہوتا ہے کہ عمران خان کے منظر سے ہٹنے اور ان کے دور کے اختتام کا وقت آ رہا ہے۔ اقرار الحسن نے کہا کہ عمران خان کے بعد اس قوم خصوصاً جین زی کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آگے کا راستہ کیا ہے، عمران خان اور مجھ سمیت ہم سب نے اس دنیا سے ایک نہ ایک دن جانا ہے مگر قوم اور ملک کو باقی رہنا ہے، اس لیے اصل سوال یہ ہے کہ عمران خان کے بعد ملک کی قیادت کون کرے گا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا قوم ایک بار پھر سیاسی خاندانوں کی آئندہ نسلوں کی غلامی قبول کرے گی، یا عمران خان کے بعد کسی نئی شخصیت کو برسوں کے لیے بت بنا لیا جائے گا، یا پھر ایسا نظام تشکیل دیا جائے گا جس میں آرگینک لیڈرشپ ابھرے اور عام لوگ ملک کی قیادت کریں، جیسا کہ دنیا کے دیگر ممالک میں ہوتا ہے۔ جین زی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اقرار الحسن نے کہا کہ نوجوانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جن بومرز پر وہ تنقید کرتے ہیں، ان میں ان کا اپنا بومر بھی شامل ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کے مسائل کا حل نہ کسی ایک بومر میں ہے اور نہ ہی اس کے مخالف بومر میں۔ عمران خان کی ضمانت اور رہائی سے متعلق سوال پر اقرار الحسن نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ ان کے مطابق عمران خان خود یہ مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ عدالتیں آزاد نہیں اور ان سے انصاف کی توقع نہیں رکھی جا سکتی، ایسی صورت میں اگر کسی عدالت سے انصاف مل بھی جاتا ہے تو اسے کسی دباؤ یا ڈیل کا نتیجہ ہی سمجھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ کسی ڈیل کے بغیر عمران خان کی رہائی ممکن نہیں، لیکن اگر عمران خان باہر آتے ہیں تو یہ تاثر مضبوط ہوگا کہ وہ کسی مفاہمت کے نتیجے میں رہا ہوئے ہیں، جس کا سیاسی نقصان خود پی ٹی آئی کو ہو سکتا ہے۔ اقرار الحسن کے مطابق عمران خان اس وقت اپنے ہی بنائے گئے سوشل میڈیا بیانیے کے دباؤ میں ہیں اور انہیں معلوم ہے کہ اگر وہ ڈیل کے ذریعے باہر آتے ہیں تو انہی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا، اسی لیے ان کے پاس جیل میں رہنے کے سوا کوئی آپشن نظر نہیں آتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جیسا کہ صحافی عمران ریاض نے حال ہی میں ذکر کیا، بانی پی ٹی آئی کی ذاتی خواہش ہے کہ وہ مرنے کے بعد بطور ہیرو یاد رکھے جائیں۔ اقرار الحسن کے مطابق یہ ہر انسان کی فطری خواہش ہوتی ہے، تاہم بدقسمتی سے یہی ذاتی خواہش اس وقت پاکستان کے مسائل میں مزید اضافے کا سبب بن رہی ہے۔ TV anchor and journalist Iqrar ul Hassan says Imran Khan is a boomer, it’s time for him to retire from politics, he’s too old now and he must step aside for the organic leadership growth. Gen Z must realise Imran Khan is a boomer and offers no hope of change. Iqrar ul Hassan… pic.twitter.com/2pspTfY84F — Murtaza Ali Shah (@MurtazaViews) January 5, 2026  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل